تحریکِ اسلامی کامیابی کی شرائط

انفرادی اوصاف

۱۔ اسلام کا صحیح فہم

انفرادی اوصاف میں سب سے پہلی چیز اسلام کا صحیح فَہم ہے‘ جو آدمی اسلامی نظامِ زندگی کو بَرپا کرنا چاہتا ہو‘ اُسے پہلے خود اُس چیز کو
اچھی طرح جاننا اور سمجھنا چاہیے جسے وہ برپا کرنا چاہتا ہے۔ اِس غرض کے لیے اسلام کا محض اِجمالی علم کافی نہیں ہے‘ بلکہ کم و بیش تفصیلی علم درکار ہے‘ اور اس کی کمی و بیشی آدمی کی استعداد پر موقوف ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ راہ کا ہر رَہرو اور اس تحریک کا ہر کارکن مفتی یا مجتہد ہو۔ لیکن یہ بہرحال ضروری ہے کہ ان میں سے ہر ایک اسلامی عقائد کو جاہلی افکار و اوہام سے‘ اور اسلامی طرزِ عمل کو جاہلیت کے طور طریقوں سے ممیز کر کے جان لے اور اس بات سے واقف ہو جائے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اسلام نے انسان کو کیا رہنمائی دی ہے۔ اس علم و واقفیت کے بغیر نہ آدمی خود صحیح راہ پر چل سکتا ہے‘ نہ دوسروں کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ عام کارکنوں کو یہ واقفیت اس حد تک ہونی چاہیے کہ وہ دیہاتی اور شہری عوام کو سیدھے سادھے طریقے سے دین سمجھا سکیں‘ لیکن عمدہ ذہنی صلاحیتیں رکھنے والے لوگوں کو اس میں اتنا دَرَک بہم پہنچانا چاہیے کہ وہ ذہین طبقوں کو متاثر کر سکیں‘ تعلیم یافتہ لوگوں کے شکوک اور الجھنیں رفع کر سکیں‘ مخالفین کے اعتراضات کا مُدلّل اور اطمینان بخش جواب دے سکیں‘ زندگی کے مختلف النّوع مسائل کو اسلام کی روشنی میں حل کر سکیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے علوم و فنون کی تدوینِ جدید کر سکیں اور اسلام کی اَزلی اور اَبدی بنیادوں پر ایک نئی تہذیب اور نئے تمدن کی عمارت اٹھا سکیں۔ ان میں اتنی تنقیدی صلاحیت ہونی چاہیے کہ موجودہ زمانے کے نظامِ فکرو عمل میں سے سقیم اجزاء کو سلیم اجزاء سے الگ کر سکیں اور ساتھ ساتھ اتنی تعمیری صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ جو کچھ توڑنے کے لائق ہے اسے توڑ کر ایک بہتر چیز اس کی جگہ بنا سکیں اور جو کچھ رکھنے کے لائق ہے اسے باقی رکھ کر ایک بہتر نظام میں اس کو استعمال کر سکیں۔

۲۔ اسلام پر پختہ ایمان

علم و معرفت کے بعد دوسرا ضروری وصف جو اِس مقصد کے لیے کام کرنے والوں میں ہونا چاہیے‘ وہ یہ ہے کہ جس دین پر وہ نظامِ زندگی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں وہ خود اُس پر پختہ ایمان رکھتے ہوں‘ اُن کا اپنا دل اِس کے صحیح و برحق ہونے پر مطمئن ہو اور ان کا اپنا ذہن اس معاملے میں پوری طرح یک سو ہو جائے۔ شک اور تَذبذُب اورتَردُّد لیے ہوئے کوئی شخص اس کام کو نہیں کر سکتا۔ دماغی الجھنیں اور نظر و فکر کی پراگندگی لے کر یہ کام نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی ایسا آدمی اس کام کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا جس کا دل ڈانواں ڈول ہو‘ جس کا ذہن یک سو نہ ہو اور جسے خیال و عمل کی مختلف راہیں اپنی طرف کھینچ رہی ہوں یا کھینچ سکتی ہوں۔ یہ کام تو جسے بھی کرنا ہو اُسے قطعی طور پر اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ خدا ہے اور انہی صفات سے مُتّصِف اُنہی اختیارات کا مالک اور انہی حقوق کا مستحق ہے جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ راہِ راست صرف ایک ہے اور وہ وہی ہے جو محمدﷺ نے دکھائی ہے۔ ہر وہ چیز باطل ہے جو اس کے خلاف ہو‘ یا اس سے موافقت نہ رکھتی ہو جو خیال بھی کسی دوسرے نے پیش کیا ہے اور جو طریقہ بھی دوسرے نے نکالا ہے اس کو جانچنے کی کسوٹی صرف ایک ہے اور وہ ہے اﷲ کی کتاب اور اس کے رسولﷺ کی سُنّت اس کسوٹی پر جو کَھرا اُترے وہ کَھرا ہے اور جو کھوٹا اترے وہ کھوٹا ہے‘ اسلامی نظامِ زندگی کی تعمیر کے لیے ان حقیقتوں پر پختہ یقین اور دل کا پورا اطمینان درکار ہے۔ دماغ کی کامل یکسوئی درکار ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں ادنیٰ تَذبذُب بھی رکھتے ہوں‘ یا جن کی دلچسپیاں ابھی دوسری راہوں سے وابستہ ہوں‘ انہیں اس عمارت کے معمار بن کر آنے سے پہلے اپنی اِس کمزوری کا علاج کرنا چاہیے۔

۳۔ سیرت و کردار

تیسرا لازمی وصف یہ ہے کہ آدمی کا عمل اس کے قول کے مطابق ہو۔ جس چیز کو وہ حق مانتا ہے اس کا اتباع کرے۔ جس کو باطل قرار دیتا ہے‘ اُس سے اِجتَناب کرے۔ جسے اپنا دین کہتا ہے اسے اپنی سیرت و کردار کا دین بنائے اور جس چیز کی طرف وہ دنیا کو دعوت دیتا ہے۔ سب سے پہلے خود اس کی پیروی اختیار کرے۔ اسے اوامر کے اتباع اور نواہی سے اجتناب کے لیے کسی خارجی دباؤ یا اثر کا محتاج نہ ہونا چاہیے۔ صرف یہ چیز کہ ایک کام اﷲ کی خوشنودی کا موجِب ہے‘ اس بات کے لیے کافی ہونی چاہیے کہ وہ دلی رغبت و شوق کے ساتھ اسے کرے اور صرف یہ بات کہ ایک کام اﷲ کے ہاں ناپسندیدہ ہے‘ اس حد تک موثر ہونی چاہیے کہ وہ اس سے رک جائے۔ اس کی یہ کیفیت صرف معمولی حالات ہی میں نہ ہونی چاہیے‘ بلکہ اُس کی سیرت میں اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ وہ غیرمعمولی بگاڑ کے ماحول میں ہر خوف اور ہر لالچ کا مقابلہ کر کے اور ہر مزاحمت سے نبردآزما ہو کر بھی راہِ راست پر ثابت قدم رہ سکے۔ جو لوگ اس وصف سے خالی ہوں‘ وہ اصلاح و تعمیر میں مددگار تو ہو سکتے ہیں‘ مگر اس کے اصل کارکن نہیں ہو سکتے۔ اس کام میں مددگار تو ہروہ شخص ہو سکتا ہے جو اسلام کے لیے کوئی عقیدت اپنے اندر رکھتا ہے۔ بلکہ جو مُنکر اور مخالف و مزاحم نہیں ہے وہ بھی ایک حد تک مددگار ہے۔ لیکن ایسے مددگار کروڑوں کی تعداد میں بھی موجود ہوں تو عملاً اسلامی نظام برپا نہیں ہو سکتا اور جاہلیت کے فروغ کی رفتار رک نہیں سکتی۔ عملاً یہ کام صرف اُسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ اسے کرنے کے لیے ایسے لوگ اٹھیں جو علم و یقین کی نعمت کے ساتھ سیرت و کردار کی طاقت بھی رکھتے ہوں اور جن کے ایمان و ضمیر میں اتنی زندگی موجود ہو کہ وہ کسی خارجی مُحرّک کے بغیر خود اپنی اندرونی تحریک سے دین کے تقاضے پورے کرنے لگیں۔ اس طرح کے کارکن برسرکار آجائیں تو اُن بہت سے ہمدردوں اور مددگاروں کی موجودگی بھی اپنا فائدہ دے سکتی ہے‘ جو مسلم معاشروں ہی میں نہیں‘ غیرمسلم معاشروں تک میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔

۴۔ دین بحیثیتِ مقصد

اِن تین صفات کے ساتھ ایک چوتھی صفت بھی اصلاح و تعمیر کے کارکنوں میں پائی جانی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اَعلائے کلِمۃُ اﷲ اور اقامتِ دین ان کے لیے محض ایک خواہش اور تمنّا کا درجہ نہ رکھتے ہوں بلکہ وہ اِسے اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ ایک قسم کے لوگ تو وہ ہوتے ہیں جو دین سے واقف ہوتے ہیں‘ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں مگر اس کو قائم کرنے کی سعی و جہد ان کا وظیفۂ زندگی نہیں ہوتا بلکہ وہ نیکی اور نیک عمل کے ساتھ اپنی دنیا کے معاملات میں لگے رہتے ہیں۔ یہ بلاشبہ صالح لوگ ہیں اور اگر اسلامی نظامِ زندگی عملاً قائم ہو چکا ہو تو یہ اس کے اچھے شہری ہو سکتے ہیں‘ لیکن جہاں نظامِ جاہلیت پوری طرح چھایا ہوا ہو اور کام یہ درپیش ہو کہ اُسے ہٹا کر نظامِ اسلام اس کی جگہ قائم کرنا ہے۔ وہاں صرف اس درجے کے نیک لوگوں کی موجودگی سے کچھ نہیں بن سکتا وہاں ضرورت ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کے لیے یہ کام عین ان کا مقصدِ زندگی ہو‘ وہ دنیا کے دوسرے کام تو جینے کے لیے کریں‘ مگر ان کا جینا صرف اس ایک مقصد کے لیے ہو‘ اس مقصد میں وہ مخلص ہوں‘ اس کی لگن ان کے دل کو لگی ہوئی ہو۔ اس کے حصول کی کوشش کا وہ پختہ عزم رکھتے ہوں۔ اس کام میں اپنا وقت‘ اپنا مال‘ اپنے جسم و جان کی قوتیں اور اپنے دل و دماغ کی صلاحیتیں کھپا دینے کے لیے وہ تیار ہوں‘ حتیٰ کہ اگر سر دھڑ کی بازی لگا دینے کی ضرورت پیش آجائے تو وہ اس سے بھی منہ نہ موڑیں‘ جاہلیت کے جنگل کو کاٹ کر اسلام کی راہ ہموار کرنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہے۔

یہ اوصاف‘ دین کا صحیح فہم‘ اس پر پختہ ایمان‘ اس کے مطابق سیرت و کردار اور اس کی اِقامت کو مقصدِ زندگی بنانا۔ وہ بنیادی اوصاف ہیں جو فرداً فرداً اُن تمام لوگوں میں موجود ہونا چاہییں‘ جو اسلامی نظامِ زندگی کی تعمیر کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہوں۔ اِن کی اہمیت یہ ہے کہ اگر ان اوصاف کے حامل افراد بہم نہ پہچیں تو اس کام کا سرے سے تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔

اب یہ کہنے کی کوئی حاجت نہیں ہے کہ اس طرح کے افراد کا اگر وہ فی الواقع کچھ کرنا چاہتے ہوں‘ مل کر ایک جماعت کی صورت میں کام کرنا بہرحال ضروری ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ کس جماعت میں ملیں اور کس نام سے کام کریں۔ ہر صاحبِ عقل آدمی اس بات کو خود جانتا ہے کہ اجتماعی نظام میں کوئی تغیّر محض انفرادی کوششوں سے نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے بکھری ہوئی کوششیں نہیں بلکہ سمٹی ہوئی مساعی درکار ہوتی ہیں۔ لہٰذا اسے ایک مُسلَّم حقیقت فرض کرتے ہوئے اب ہم ان اوصاف کو لیتے ہیں جو اس طرح کی جماعت میں من حیث الجماعت پائے جانے چاہییں۔

اجتماعی اوصاف

۱۔ اخوت و محبت

ایسی جماعت کا اولین وصف یہ ہونا چاہیے کہ اس کے شرکاء آپس میں محبت کرنے والے ہوں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ایثار کا معاملہ کریں‘ جس طرح ایک عمارت اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جبکہ اس کی اینٹیں باہم مضبوطی کے ساتھ پیوستہ ہوں اور اینٹوں کو جوڑنے والی چیز سیمنٹ ہے۔ اسی طرح ایک جماعت بھی اس وقت بُنیانِ مَرصُوص بنتی ہے جبکہ اس کے کارکنان کے دل ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہوں اور دلوں کو جوڑنے والی چیز مُخلصانہ محبت ہے۔ آپس کی خیرخواہی اور ہمدردی ہے‘ اور ایک دوسرے کے ساتھ ایثار کا معاملہ ہے نفرت کرنے والے دل کبھی نہیں مل سکتے۔ منافقا نہ میل جول کوئی حقیقی اتحاد پیدا نہیں کر سکتا۔ خود غرضانہ اتحاد نفاق کا پیش خیمہ ہوتا ہے‘ اور محض ایک روکھا سوکھا کاروباری تعلق کسی رفاقت کی بنیاد نہیں بن سکتا‘ کوئی دنیاوی غرض ایسے بے جوڑ عناصر کو جمع بھی کر دے تو وہ صرف بکھرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور پھر کچھ بنانے کے بجائے آپس ہی میں کٹ مرتے ہیں۔ ایک مضبوط جماعت صرف اُسی وقت وجود میں آتی ہے جبکہ اپنے خیالات میں مخلص اور اپنے مقصد سے محبت رکھنے والے لوگ باہم مجتمع ہوں اور پھر خیالات کا یہی اِخلاص اور مقصد سے یہی محبت ان کے اندر آپس میں بھی اِخلاص و محبت پیدا کر دے۔ اسی طرح کی جماعت حقیقت میں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوتی ہے۔ جس کے اندر فساد ڈالنے کے لیے شیطان کوئی شگاف نہیں پاتا اور باہر سے مخالفتوں کے سیلاب اُٹھا اُٹھا کر لاتا بھی ہے تو اُسے اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا۔

۲۔ باہمی مشاورت

دوسرا ضروری وصف یہ ہے کہ اس جماعت کو باہمی مشورے سے کام کرنا چاہیے اور آدابِ مشاورت کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے۔ خود سر لوگوں کی جماعت جس میں ہر شخص اپنی من مانی کرے‘ حقیقت میں کوئی جماعت نہیں ہوتی‘ بلکہ محض ایک منڈی ہوتی ہے جس سے کوئی کام بھی بن نہیں سکتا اور وہ جماعت بھی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی جس میں کوئی ایک شخص یا چند بااثر اشخاص کا ایک ٹولہ مختارِ کُل بن جائے‘ باقی سب لوگوں کا کام اس کے اشاروں پر چلنا ہو۔ صحیح کام صرف مُشاورت ہی سے ہو سکتا ہے کیونکہ اس طرح نہ صرف یہ کہ بہت سے دماغ بحث و تمحیص سے ہر معاملے کے اچھے اور برے پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایک بہتر نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔ بلکہ اس سے دو فائدے اور بھی ہوتے ہیں ایک یہ کہ جس کام میں پوری جماعت کا مشورہ بالواسطہ یا بلاواسطہ شامل ہو اسے پوری جماعت اطمینانِ قلب کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کرتی ہے اور کسی کو یہ خیال نہیں ہوتا کہ ہم پر ایک چیز اُوپر سے ٹھونس دی گئی ہے‘ دوسرے یہ کہ اس طریقے سے پوری جماعت کو مُعاملہ فہمی کی تربیت ملتی رہتی ہے۔ ہر فرد‘ جماعت اور اس کے معاملات سے دلچسپی لیتا ہے اور اس کے فیصلوں میں اپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ مشاورت کے ساتھ آدابِ مشاورت کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔ آدابِ مشاورت یہ ہیں کہ ہر شخص ایمان داری کے ساتھ اپنی رائے پیش کرے اور کوئی بات دل میں چھپا کر نہ رکھے۔ بحث میں ضد‘ ہٹ دھرمی اور کسی قسم کے تعصب کا دخل نہ ہو اور جب کثرت رائے سے ایک فیصلہ ہو جائے تو اِختلاف رکھنے والے چاہے اپنی رائے نہ بدلیں‘ مگر جماعتی فیصلہ کو پوری خوش دلی کے ساتھ عمل میں لانے کی کوشش کریں۔ یہ تین باتیں اگر نہ ہوں تو مشاورت کے تمام فوائد ضائع ہو جاتے ہیں‘ بلکہ یہی چیز آخرِ کار جماعت میں پھوٹ ڈال دیتی ہے۔

۳۔ نظم و ضبط

تیسرا اہم وصف ہے نظم و ضبط‘ باضابطگی اور باقاعدگی‘ باہمی تعاون اور ایک ٹیم کی طرح کام کرنا۔ ایک جماعت اپنی تمام خوبیوں کے باوجود صرف اِس وجہ سے ناکام ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں اور منصوبوں کو عمل میں نہیں لاسکتی۔ اور یہ نتیجہ ہوتا ہے نظم و ضبط کی کمی اور تعاون کے فقدان کا۔ تخریبی کام محض ہُلّڑ سے بھی انجام پاسکتے ہیں‘ مگر کوئی پائیدار تعمیری کام منظم سعی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ منظم سعی نام ہے اِس چیز کا کہ جو ضابطہ تجویز کیا گیا ہو‘ پوری جماعت اُس کی پابندی کرے۔ جماعت میں جس کو جس درجہ میں بھی صاحبِ اَمر بنایا گیا ہو‘ اس کے احکام کی اطاعت کی جائے۔ جماعت کا ہر شخص فرض شناس ہو اور اپنے ذمہ کا کام ٹھیک وقت پر مُستعدی کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کرے۔ جن کارکنوں کو جو کام مل کر کرنا ہو‘ وہ ایک دوسرے کے ساتھ پورا تعاون کریں اور جماعت کی مشین اس قدر چُست ہو کہ ایک فیصلہ ہوتے ہی اس کو عمل میں لانے کے لیے تمام پُرزے حرکت میں آجائیں۔ دنیا میں اگر کوئی کام بنا سکتی ہیں تو ایسی ہی جماعتیں بنا سکتی ہیں۔ ورنہ ان جماعتوں کا عدم اور وجود برابر ہوتا ہے۔ جنہوں نے پرزے تو فراہم کر لیے ہوں مگر ان کے جوڑنے اور کس کر مشین کی طرح باقاعدہ چلانے کا کوئی انتظام نہ کیا ہو۔

۴۔ تنقید بغرض اصلاح

ایک آخری اور انتہائی اہم وصف یہ ہے کہ جماعت میں تنقید بغرضِ اصلاح کی روح بھی موجود ہو اور اس کا سلیقہ بھی پایا جاتا ہو۔ اندھے مُقَلِّدوں اور سادہ لوح معتقدوں کا گروہ خواہ کیسے ہی صحیح مقام سے کام کا آغاز کرے‘ اور کیسے ہی صحیح مقصد کو سامنے رکھ کر چلے‘ آخرِ کار بگڑتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ انسانی کام میں کمزوریوں کا رونما ہونا فطرتاً ناگزیر ہے اور جہاں کمزوریوں پر نگاہ رکھنے والا کوئی نہ ہو‘ یا ان کی نشاندہی کرنا معیوب ہو‘ وہاں غفلت کی وجہ سے یا مجبورانہ سکوت کے باعث ہر کمزوری سکون و اطمینان کا آشیانہ پاتی چلی جاتی ہے اور انڈے بچے دینے لگتی ہے۔ جماعت کی صحت و تندرستی کے لیے روحِ تنقید کے فقدان سے بڑھ کر کوئی چیز نقصان دِہ نہیں اور تنقیدی فکر کو دبانے سے بڑھ کر جماعت کے ساتھ اور بدخواہی نہیں ہو سکتی‘ یہی تو وہ چیز ہے جس کے ذریعے سے خرابیاں بَروقت سامنے آجاتی ہیں اور اُن کی اصلاح کی سعی کی جاسکتی ہے۔ لیکن تنقید کے لیے شرطِ لازم یہ ہے کہ وہ عیب چینی کی نیّت سے نہ ہو بلکہ اخلاص کے ساتھ اصلاح کی نیّت سے ہو اور اس کے ساتھ دوسری اتنی ہی ضروری شرط یہ ہے کہ تنقید کرنے والوں کو تنقید کا سلیقہ آتا ہو۔ ایک نیک نیت ناقد بھی بے ڈھنگی‘ بے موقع اور بھونڈی تنقید سے جماعت کو وہی نقصان پہنچا سکتا ہے جو ایک عیب چیں اور بدنیت مُفسد کے ہاتھوں پہنچنا ممکن ہے۔

تکمیلی اوصاف

اب تک یہ بتایا جاچکا ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور اسلامی نظامِ زندگی کی تعمیر کا جو کام اب دَرپیش ہے اس کے لیے کن صِفات کے حامل افراد درکار ہیں اور ان افراد کی اجتماعی تنظیم میں کن اوصاف کا پایا جانا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں اب تک جن امور کا ذکر کیا گیا ہے‘ اُن کی حیثیت دراصل محض ابتدائی اور بنیادی اوصاف کی ہے۔ جس طرح ایک کاروبار کی ابتداء کرنے کے لیے کم سے کم سرمایہ درکار ہوتا ہے جس کے بغیر اسے شروع ہی نہیں کیا جاسکتا‘ اسی طرح اس کام کے لیے یہ کم سے کم اخلاقی سرمایہ ہے جو آغاز ہی میں موجود ہونا چاہیے‘ ورنہ اس کا حوصلہ کرنا ہی فضول ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے افراد کے ہاتھوں کسی اسلامی نظام کے قیام کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا‘ جو اسلام کو جانتے ہی نہ ہوں یا اس کے بارے میں خود اپنے اندر ہی قلبی اطمینان اور ذہنی یک سوئی نہ رکھتے ہوں یا اس کو خود اپنے اخلاق و کردار اور اپنی عملی زندگی کا دین بنانے سے قاصر ہوں‘ یا اس کی سعی کو انہوں نے اپنا مقصود ہی نہ ٹھہرایا ہو۔ اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر مطلوبہ اوصاف کے افراد جمع تو ہو جائیں‘ مگر ان کے دل باہم جڑے ہوئے نہ ہوں‘ ان میں تعاون اور نظم و ضبط نہ ہو‘ ان کو مل کر کام کرنے کا ڈھنگ نہ آتا ہو‘ اور وہ باہمی مشورہ و تنقید کے صحیح طریقوں سے نابلد ہوں‘ تو محض ان کا جمع ہو جانا کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں کر سکتا۔ لہٰذا یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ وہ چار انفرادی اور چار اجتماعی اوصاف‘ جن کا ذکر ہم نے اب تک کیا ہے۔ درحقیقت اس کام کا سرمایہ آغاز ہیں اور ان کی جو کچھ بھی اہمیت ہے اسی لحاظ سے ہے لیکن یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ اس کام کے فروغ اور اس کی کامیابی کے لیے بس یہی اخلاقی اور روحانی سرمایہ کافی ہے۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ وہ مزید اوصاف کون سے ہیں جو اصلاح و تعمیر کے مقصد میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہیں۔

۱۔ تعلق باﷲ اور خلوص

ان میں اولین وصف تعلق باﷲ اور اخلاصِ لِلّٰہ ہے۔ دنیا کے دوسرے کام تو نفس یا خاندان یا قبیلے یا قوم و وطن کی خاطر کیے جاسکتے ہیں‘ ذاتی اغراض اور مادّی مقاصد کی ساری آلائشوں کے ساتھ کیے جاسکتے ہیں‘ خدا پرستی ہی نہیں‘ انکار خدا تک کے ساتھ کیے جاسکتے ہیں اور ان میں ہر طرح کی دنیاوی کامیابیاں ممکن ہیں۔ لیکن اسلامی نظامِ زندگی کا برپا کرنا ایک ایسا کام ہے جس میں کوئی کامیابی اُس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک آدمی کا تعلق اﷲ کے ساتھ صحیح‘ مضبوط اور گہرا نہ ہو‘ اور اُس کی نیّت خالصتاً اﷲ ہی کے لیے کام کرنے کی نہ ہو۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جس چیز کو آدمی قائم کرنا چاہتا ہے وہ اﷲ کا دین ہے اور اِسے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی سب کچھ اُس خدا کے لیے کرے جس کا یہ دین ہے۔ اُسی کی رضا اِس کام میں مطلوب ہونی چاہیے‘ اُسی کی محبت اِس کے لیے واحد مُحرّک ہونی چاہیے۔ اُسی کی تائید و نصرت پر کُلّی اعتماد ہونا چاہیے۔ اُسی سے اَجر کی ساری اُمیدیں وابستہ ہونی چاہییں۔ اُسی کی ہدایات اور اُسی کے امرونہی کا اتباع ہونا چاہیے اور اُسی کی پکڑ کا خوف دل پر چھایا رہنا چاہیے۔ اُس کے سوا جس خوف جس لالچ اور جس محبت اور جس اتباع و اِطاعت کی آمیزش بھی ہو گی اور جو دوسری غرض بھی اِس کام میں شامل ہو جائے گی وہ راہِ راست سے قدم ہٹا دے گی اور اِس کے نتیجہ میں اور جو کچھ بھی قائم ہو جائے‘ بہرحال اﷲ کا دین قائم نہ ہو سکے گا۔

۲۔ فکرِ آخرت

اسی سے قریب تر تعلق رکھنے والا دوسرا وصف فکرِ آخرت ہے۔ مومن کے کام کرنے کی جگہ اگرچہ دنیا ہے اور جو کچھ اُسے کرنا ہے یہیں کرنا ہے‘ مگر وہ کام اِس دنیا کے لیے نہیں کرتا بلکہ آخرت کے لیے کرتا ہے اور اس کا مطمح نظر دنیاوی نتائج نہیں بلکہ اُخروی نتائج ہوتے ہیں۔ اُسے ہر وہ کام کرنا چاہیے جو آخرت میں نافع ہے اور ہر اُس مشغلہ سے دست کش ہو جانا چاہیے جس کا وہاں کوئی حاصل نہیں نکلنا ہے‘ اُسے ہر اُس فائدے کو ٹُھکرا دینا چاہیے جو آخرت میں نقصان کا موجب ہو اور ہر اُس نقصان کو انگیز کر لینا چاہیے جو آخرت میں نفع بخش ہو‘ اُسے فکر صرف آخرت کے عذاب و ثواب کی ہونی چاہیے۔ دنیا کے کسی عذاب و ثواب کی کوئی اہمیت اُس کی نگاہ میں نہ ہونی چاہیے۔ اُس کی کوششیں اِس دنیا میں بار آور ہوں یا نہ ہوں‘ یہاں اس کو کامیابی ہوتی نظر آئے یا ناکامی‘ یہاں اُس کی تعریف ہو یا مذمّت‘ یہاں وہ اِنعام پائے یا آزمائشوں میں ڈالا جائے۔ ہر حال میں اُس کو اِس یقین کے ساتھ کام کرنا چاہیے کہ جس خدا کے لیے وہ یہ ساری محنتیں کر رہا ہے‘ اُس کی نگاہ سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے اور اُس کے ہاں دارِ آخرت کی ابدی جزا سے وہ ہرگز محروم نہ رہے گا‘ اور وہیں کی کامیابی اَصلی کامیابی ہے۔ اِس ذہنیت کے بغیر آدمی کے لیے چند قدم بھی اِس راہ میں صحیح رُخ پر چلنا ممکن نہیں ہے۔ دنیا کی مقصودیت کا لگاؤ کسی ادنیٰ درجے میں بھی اس کے ساتھ لگا رہ جائے تو وہ قدم میں لغزش پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ راہِ خدا میں ایک چوٹ تو نہیں دو چار چوٹیں آخرِ کار اُس شخص کی ہمّتیں توڑ دیتی ہیں جو دنیاوی کامیابیوں کو مقصود بنا کر چلتا ہے اور اس راہ کی کوئی کامیابی کسی نہ کسی مرحلے پر اس آدمی کے رویئے میں بگاڑ پیدا کر دیتی ہے۔ جس کے دل کو دنیاوی مقاصد کی کوئی چاٹ لگی ہوئی ہو۔

۳۔ حسنِ سیرت

ان دو اوصاف کی تاثیر کو جو چیز عملاً ایک زبردست قوتِ تسخیر میں تبدیل کر دیتی ہے وہ حُسنِ سیرت ہے خدا کی راہ میں کام کرنے والوں کو عالی ظرف اور فراخ حوصلہ ہونا چاہیے، ہمدردِ خلائق اور خیر خواہِ انسانیت ہونا چاہیے، کریم النفس اور شریف الطبع ہونا چاہیے، خوددار اور خوگرِ قناعت ہونا چاہیے، متواضع اور منکسر المزاج ہونا چاہیے، شیریں کلام اور نرم خُو ہونا چاہیے۔۔۔ وہ ایسے لوگ ہونے چاہییں جن سے کسی کو شَر کا اندیشہ نہ ہو اور ہر ایک اُن سے خیر خواہی کا متوقع ہو۔۔۔ جو اپنے حق سے کم پر راضی ہوں اور دوسروں کو اُن کے حق سے زیادہ دینے پر تیار ہوں۔۔۔ جو برائی کا جواب بھلائی سے دیں یا کم ازکم برائی سے نہ دیں۔ جو اپنے عیوب کے معترف اور دوسروں کی بھلائی کے قدرداں ہوں۔۔۔ جو اتنا بڑا دل رکھتے ہوں کہ لوگوں کی کمزوریوں سے چشم پوشی کر سکیں، قصور وں کو معاف کر سکیں، زیادیتوں سے درگزر کر سکیں اور اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیں۔۔۔ جو خدمت لے کر نہیں، خدمت کر کے خوش ہوتے ہوں۔ اپنی غرض کے لیے نہیں، دوسروں کی بھلائی کے لیے کام کریں۔۔۔ جو ہر تعریف سے بے نیاز اور ہر مذمت سے بے پروا ہو کر اپنا فرض انجام دیں اور اللہ کے سوا کسی کے اجر پر نگاہ نہ رکھیں۔۔۔ جو طاقت سے دبائے نہ جا سکیں، دولت سے خریدے نہ جاسکیں، مگر حق اور راستی کے آگے بِلا تامّل سر جھکا دیں۔۔۔ جن کے دشمن بھی اُن پر بھروسہ رکھتے ہوں کہ کسی حال میں ان سے شرافت و دیانت اور انصاف کے خلاف کوئی حرکت سرزد نہیں ہو سکتی۔

یہ دلوں کو موہ لینے والے اوصاف ہیں۔ اِن کی کاٹ تلوار کی کاٹ سے بڑھ کر اور اِن کا سرمایہ سیم و زَر کی دولت سے گراں تر ہے۔ کسی فرد کو یہ اخلاق میسر ہوں تو وہ اپنے گرد و پیش کی آبادی کو مسخر کر لیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی جماعت اِن اَوصاف کی حامل اور اِن سے متصف ہو اور پھر وہ کسی مقصدِ عظیم کے لیے منظم سعی بھی کر رہی ہو تو ملک کے ملک اُس کے آگے مسخر ہوتے چلے جاتے ہیں، حتیٰ کہ دنیا کی کوئی طاقت اُس کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

۴۔ صبر و استقامت

اِس کے ساتھ ایک اور صفت بھی ہے جسے کامیابی کی کلید کہنا چاہیے‘ اور وہ ہے صبر‘ یہ ایک وسیع لفظ ہے جس کے بہت سے مفہوم ہیں اور راہِ خدا میں کام کرنے والوں کو ان میں سے ہر مفہوم کے لحاظ سے صابر ہونا چاہیے۔

صبر کا ایک مفہوم یہ ہے کہ آدمی جلد باز نہ ہو‘ اپنی کوششوں کے نتائج فوراً اور جلدی دیکھنے کے لیے بے تاب نہ ہو اور دیر لگتے دیکھ کر ہمت نہ ہار جائے۔ صابر آدمی کی خوبی یہ ہے کہ وہ تمام عمر ایک مقصد کے پیچھے مسلسل محنت کیے چلا جاتا ہے اور پیہم ناکامیوں کے باوجود اپنے کام میں لگا رہتا ہے۔ اصلاحِ خَلق اور تعمیرِ حیات کا کام ایسا صبر آزما ہے کہ اس صِفَت کے بغیر کوئی شخص اِس سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔ یہ بہرحال ہتھیلی پر سرسوں جمانا نہیں ہے۔

صبر کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ آدمی تَلوّن مزاجی‘ ضعف رائے اور قلتِ عزم کی بیماری میں مبتلا نہ ہو۔ اُس میں یہ صفت موجود ہو کہ جس راہ کو اس نے سوچ سمجھ کر اختیار کر لیا ہے اُس پر ثابت قدم رہے اور دل کے پورے عزم اور ارادے کی پوری قوّت کے ساتھ اس پر بڑھتا چلا جائے۔

صبر ہی کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ آدمی مشکلات اور مصائب کا مردانہ وار مقابلہ کرے اور اپنے مقصد کی راہ میں جو تکلیف بھی پیش آجائے اسے ٹھنڈے دل کے ساتھ برداشت کر لے۔ صابر آدمی کسی طوفان اور کسی سیلاب کے تھپیڑوں سے شکست خوردہ ہو کر منہ نہیں موڑتا۔

صبر کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ آدمی زُود رنج اور مشتعل مزاج نہ ہو بلکہ متحمّل اور بردبار ہو‘ جس شخص کو اصلاح و تعمیر کا کام کرنا ہو اور جسے تعمیر کے لیے کچھ نہ کچھ ناگزیر تخریب بھی کرنی پڑے‘ خصوصیت کے ساتھ جب کہ یہ خدمت اُسے مُدّتوں کی بگڑی ہوئی سوسائٹی میں انجام دینی ہو۔ اگر وہ اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ گالیاں کھا کر ہنس دے‘ طعنے سن کر ٹال دے‘ الزام اور بہتان اور جھوٹے پروپیگنڈے کو یکسر نظرانداز کر کے سکون اور جمعیت خاطر کے ساتھ اپنا کام کرتا رہے‘ تو بہتر یہی ہے کہ اس راہ میں قدم ہی نہ رکھے۔ اس لیے کہ یہ کانٹوں بھری راہ ہے‘ اس کا ہر کانٹا یہ عزم کیے بیٹھا ہے کہ آدمی اور جس طرف بھی جائے مگر اس سمت میں ایک انچ بھی نہ بڑھنے دیا جائے گا۔ اس حالت میں جو شخص ہر کانٹے سے الجھنے لگے‘ وہ کیا پیش قدمی کرے گا۔ یہاں تو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جن کے دامن سے اگر کوئی کانٹا الجھ جائے تو وہ دامن کا وہ حصہ پھاڑ کر پھینک دیں مگر ایک لمحہ کے لیے اپنی راہ کھوٹی نہ کریں۔ یہ صبر صرف مخالفوں ہی کے مقابلے میں درکار نہیں ہے بلکہ بسا اوقات اس راہ کے راہ رو کو خود اپنے ساتھیوں سے بھی تلخ اور ناگوار باتوں سے سابقہ پیش آجاتا ہے اور ان کے معاملے میں اگر وہ حلم و تحمل سے کام نہ لے تو پورے قافلے کی راہ مار سکتا ہے۔

صبر اس چیز کا نام بھی ہے کہ آدمی ہر خوف اور ہر لالچ کے مقابلے میں راہِ راست پر جَما رہے‘ شیطان کی ساری ترغیبات اور نفس کی تمام خواہشات کے علی الرّغم اپنا فرض بجا لائے۔ حرام سے پرہیز کرے اور حدود اﷲ پر قائم رہے۔ گناہ کی ساری لذتوں اور منفعتوں کو ٹھکرا دے اور نیکی اور راستی کے ہر نقصان اور اس کی بدولت حاصل ہونے والی ہر مَحرومی کو انگیز کر جائے۔ اپنی آنکھوں سے دنیا پرستوں کی رونقِ حیات دیکھے اور اُس پر ریجھنا تو درکنار‘ دل میں ادنیٰ سی حسرت بھی راہ نہ دے۔ اپنے سامنے دنیا طلبی کی راہیں کشادہ اور کامرانیوں کے مواقع موجود پائے اور دل کی پوری طمانیت کے ساتھ اس متاعِ حیات پر راضی رہے جو اپنے مقصد کی خدمت کرتے ہوئے وہ اپنے رب کے فضل سے حاصل کر رہا ہے۔

صبر ان تمام معنوں میں کلیدِ کامیابی ہے۔ جس پہلو سے بھی ہمارے کام میں بے صبری کا دخل ہو گا‘ اس کا برا نتیجہ ظاہر ہو کر رہے گا۔

۵۔ حکمت

اِن سب اوصاف کے ساتھ ایک نہایت اہم وَصف حِکمت ہے جس پر بہت بڑی حد تک کامیابی کا انحصار ہے۔ دنیا میں دیگر نظام ہائے زندگی بھی قائم ہیں۔ اُن کو اعلیٰ درجے کے ذہین اور ہوشیار کارکن میسر ہوئے ہیں اور ان کی پشت پر مادّی وسائل کے ساتھ عقلی و فکری طاقتیں اور علمی و فنی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرے نظام کو قائم کر دینا اور کامیابی کے ساتھ چلا لینا کوئی بَچّوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہ بِسم اﷲ کے گنبد میں رہنے والوں کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ سادہ لوح لوگ خواہ کتنے ہی نیک اور نیک نیت ہوں‘ اس سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ اِس کے لیے گہری بصیرت اور تدبر کی ضرورت ہے۔ اِس کے لیے دانشمندی اور معاملہ فہمی درکار ہے۔ اس کام کو وہی لوگ کر سکتے ہیں جو موقع شناس اور باتدبیر ہوں اور زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ حکمت ان سب اوصاف کے لیے ایک جامع لفظ ہے اور اس کا اطلاق دانائی و زیرَکی کے متعدد مظاہر پر ہوتا ہے۔

یہ حکمت ہے کہ آدمی انسانی نفسیات کی سمجھ رکھتا ہو اور انسانوں سے معاملہ کرنا جانتا ہو۔ لوگوں کے اَذہان کو اپنی دعوت سے متاثر کرنے اور اُن کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کے طریقوں سے واقف ہو۔ ہر شخص کو ایک ہی لگی بندھی دوا دیتا نہ چلا جائے بلکہ ہر ایک کے مزاج اور مرض کی تشخیص کر کے علاج کرے۔ سب کو ایک لکڑی سے نہ ہانکے بلکہ جن اشخاص اور طبقوں اور گروہوں سے اس کو سابقہ پیش آئے ان کے مخصوص حالات کو سمجھ کر ان کے ساتھ معاملہ کرے۔

یہ بھی حکمت ہے کہ آدمی اپنے کام کو اور اس کے کرنے کے طریقوں کو جانتا ہو اور اس کے راستہ میں پیش آنے والی دشواریوں‘ مخالفتوں اور مزاحمتوں سے نمٹنا بھی اسے آتا ہو۔ اسے ٹھیک ٹھیک معلوم ہونا چاہیے کہ جس مقصد کے لیے وہ سعی کرنے اُٹھا ہے‘ اس کے لیے اسے کیا کچھ کرنا ہے اور کس کس قسم کی رکاوٹوں کو کس طرح دور کرنا ہے۔

یہ بھی حکمت ہی ہے کہ آدمی اس وقت کے حالات پر نظر رکھتا ہو‘ مواقع کو سمجھتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ کس موقع پر کیا تدبیر کی جانی چاہیے۔ حالات کو سمجھے بغیر اندھا دھند قدم اٹھا دینا‘ بے موقع کام کرنا اور موقع پر چوک جانا غافل لوگوں کا کام ہے اور ایسے لوگ خواہ کتنے ہی پاکیزہ مقصد کے لیے کتنی ہی نیکی اور نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہے ہوں‘ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

اور ان سب حکمتوں سے بڑھ کر راس الحکمت یہ ہے کہ آدمی دین میں تفقّہ اور معاملاتِ دنیا میں بصیرت رکھتا ہو۔ محض احکام اور مسائلِ شریعت سے واقف ہونا اور انہیں پیش آمدہ حوادث پر چسپاں کر دینا بگڑے ہوئے معاشرے کو دُرست کرنے اور نظامِ زندگی کو جاہلیت کی بنیادوں سے اکھاڑ کر دین کی بنیادوں پر از سرِ نو قائم کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جزئیاتِ احکام کے ساتھ کلّیاتِ احکام بلکہ پورے نظامِ دین پر نظر رکھتا ہو‘ پھر احکام کے ساتھ ان کی حکمت کا بھی اسے علم ہو اور وقت کے اُن حالات و مسائل کو بھی وہ سمجھتا ہو جن میں احکام کو رائج کرنا مطلوب ہو۔

مطلوبہ اوصاف کے اس مرقع کو دیکھ کر بادی النّظَر میں ایک آدمی ہول کھا جاتا ہے اور یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ یہ کام تو پھر کاملین کے کرنے کا ہے۔ عام انسان کہاں سے اتنے وصف لے کر آسکتے ہیں۔ اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ ہر صفت کا ہر شخص میں بہ درجۂ کمال پایا جانا لازم نہیں ہے اور نہ یہی لازم ہے کہ کسی میں وہ پہلے ہی قدم پر اپنی پوری تربیت یافتہ شکل میں موجود ہو۔ ہمارا مقصد اِن باتوں کو بیان کرنے سے صرف یہ بات ذہن نشین کرنا ہے کہ جو لوگ اس کام کو کرنے کے لیے اٹھیں وہ محض ’’خدمتِ قوم کا ایک کام‘‘ سمجھ کر یونہی کھڑے نہ ہو جائیں۔ بلکہ اپنے نفس کا جائزہ لے کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ اِس کام کے لیے جو اوصاف مطلوب ہیں‘ اُن کا مادّہ ان کے اندر موجود ہے یا نہیں۔ بس مادّہ اگر موجود ہے تو آغازِ کار کے لیے کافی ہے۔ اِس کو پرورش کرنا اور اپنی اِستعدَاد کے مطابق زیادہ سے زیادہ ممکن حد تک ترقی دینا بعد کے مراحل سے تعلق رکھتا ہے۔ جس طرح ایک ذرا سا بیج زمین میں جڑ پکڑنے کے بعد‘ آہستہ آہستہ غذا پاکر تناور درخت بن جاتا ہے۔ لیکن بیج ہی موجود نہ ہو تو کچھ بھی نہیں بن سکتا۔ اسی طرح صفات مطلوبہ کا مادّہ آدمی میں موجود ہو تو مناسب سعی و کوشش سے وہ بتدریج کمال تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر سرے سے مادّہ موجود ہی نہ ہو تو کسی سعی اور تربیت سے اس کا پیدا ہو جانا ممکن نہیں ہے۔

جو کچھ اب تک کہا جاچکا ہے۔ اُس کا خُلاصہ یہ ہے کہ اصلاح و تعمیر کے لیے ایک صحیح لائحہ عمل جتنا ضروری ہے‘ اُس سے بہت زیادہ ضروری ایسے کارکنوں کا وجود ہے‘ جو اِس کام کے لیے موزوں اخلاقی اوصاف رکھتے ہوں۔ کیونکہ آخرِ کار جس چیز کو معاشرے سے نبردآزما اور اقامتِ دین کی آزمائشوں سے دوچار ہونا ہے‘ وہ کسی لائحہ عمل کی دفعات نہیں بلکہ ان لوگوں کی اجتماعی و انفرادی سیرت ہے جو میدانِ عمل میں کام کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اس لیے ہمیں کسی لائحہ عمل اور پروگرام کو طے کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کام کے لیے کیسے کارکن درکار ہیں۔ ان کو کن اوصاف سے مُتّصِف اور کن برائیوں سے پاک ہونا چاہیے اور ایسے کارکنوں کی تیاری کے ذرائع کیا ہیں۔ اس حقیقت کو واضح کرنے کے بعد ہم نے اوصاف مطلوبہ کو تین حصوں میں بیان کیا ہے۔

اوّلاً وہ اوصاف جو بنیادِ کار کی حیثیت سے اس کام میں حصہ لینے والے ہر فرد کے اندر موجود ہونے چاہییں اور وہ ہیں (۱)دین کا صحیح فہم (۲)اس پر پختہ ایمان (۳)اس کے مطابق سیرت و کردار اور (۴)اس کی اقامت کو مقصدِ زندگی بنانا۔

ثانیاً وہ اوصاف ہیں‘ جو اِس خدمت کے لیے اُٹھنے والی جماعت میں پائے جانے چاہییں‘ اور وہ یہ ہیں (۱)باہمی محبت‘ حسنِ ظن‘ اِخلاص‘ ہمدردی و خیر خواہی‘ ایک دوسرے کے لیے ایثار (۲)آپس کے مشورے سے کام کرنا اور مشاورت کے اسلامی آداب کو ملحوظ رکھنا (۳)نظم و ضبط و باقاعدگی‘ تعاون اور ٹیم اِسپرٹ (۴)تنقید بغرض اصلاح‘ جو سلیقے اور معقول طریقے سے ہو جس سے جماعت کے اندر رونما ہونے والی خامیوں کا ہر وقت تدارک ہو سکے‘ نہ کہ خرابیوں میں الٹا اضافہ ہو۔

ثالثاً وہ اوصاف جو اقامتِ دین کی جدوجہد کو صحیح خطوط پر چلانے اور کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے ناگزیر ہیں یعنی (۱)اﷲ کے ساتھ گہرا تعلق اور اسی کی رضا کے لیے کام کرنا (۲)آخرت کی باز پرس کو یاد رکھنا اور اَجر آخرت کے سوا کسی دوسری چیز پر نگاہ نہ رکھنا (۳)حسنِ اخلاق (۴)صبر (۵)حکمت۔

اب ہمیں یہ دکھانا ہے کہ وہ بڑی بڑی برائیاں کیا ہیں‘ جن سے اس مقصدِ عظیم کے خادموں کو پاک ہونا چاہیے۔

بدترین انسانی عیوب اور اصلاحی تدابیر

۱۔ کبر و غرور

اوّلین اور بدترین عیب‘ جو ہر بھلائی کی جَڑ کاٹ دیتا ہے‘ کِبر و فخر‘ غرور‘ خود پسندی اور تَعلّی ہے۔ یہ ایک سراسر شیطانی جذبہ ہے‘ جو شیطانی کاموں کے لیے ہی موزوں ہو سکتا ہے۔ خیر کا کوئی کام اس کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ بڑائی صرف اﷲ تعالیٰ کے لیے ہے۔ بندوں میں بڑائی کا گھمنڈ ایک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ جو شخص یا گروہ اس جھوٹے پِندار میں مبتلا ہو وہ اﷲ کی ہر تائید سے محروم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اﷲ کو سب سے بڑھ کر یہی چیز اپنی مخلوق میں ناپسند ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس مرض کے مریض کو کبھی راہِ راست کی طرف ہدایت نہیں ملتی۔ وہ پے در پے جہالتوں اور حماقتوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہاں تک کہ آخرِ کار ناکامی کا منہ دیکھتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ خلقِ خدا کے ساتھ برتاؤ میں اُس سے تکبر کا جتنا جتنا اِظہار ہوتا جاتا ہے‘ اتنی ہی اُس کے خلاف نفرت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ مبغوضِ خلائق ہو کر وہ اِس قابل نہیں رہتا کہ اس کا کوئی اخلاقی اثر لوگوں میں قائم ہو سکے۔

خیر کے لیے کام کرنے والوں میں یہ بیماری کئی راہوں سے آتی ہے۔ کم ظرف لوگوں میں یہ اس راہ سے آتی ہے کہ جب ان کی دینی و اخلاقی حالت گرد و پیش کے معاشرے کی بہ نسبت کسی حد تک بہتر ہو جاتی ہے اور کچھ قابلِ قدر خدمات بھی وہ بجالاتے ہیں‘ جن کا اعتراف دوسروں کی زبانوں سے ہونے لگتا ہے تو شیطان اُن کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے کہ اب تم واقعی بڑی چیز ہو گئے ہو اور شیطان ہی کی اُکساہٹ سے وہ اپنی زبان اور اپنے طرزِ عمل سے جَتانے پر اُتر آتے ہیں۔ اِس طرح وہ کام جس کا آغاز نیکی کے جذبے سے ہوا تھا‘ رفتہ رفتہ ایک نہایت ہی غلط راہ پر چل پڑتا ہے۔ دوسرا راستہ اس کے آنے کا یہ ہے کہ جو لوگ نیک نیتی کے ساتھ ایک طرف اپنی اور دوسری طرف خلقِ خدا کی اصلاح کے لیے کوشش کرتے ہیں‘ ان کے اندر لامحالہ کچھ بھلائیاں پیدا ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی حد تک وہ اپنے معاشرے کی عام حالت سے مُمتاز ہوتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ ان کی خدمات قابلِ قدر ہوتی ہیں اور یہ ایسے اُمور ہیں جو بہرحال محسوس ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ یہ اَمر واقعہ کا احساس بجائے خود فطری اور ناگزیر ہے۔ مگر نفس کی ایک ذرا سی اُکساہٹ اِسے تکبُّر اور خود پسندی میں تبدیل کر دیتی ہے۔ پھر بسا اوقات ایسی صورتیں پیش آتی ہیں کہ جب اُن کے مخالفین اُن کے کام اور کام سے گزر کر اُن کی ذات میں کیڑے ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں اپنی مُدافعت میں چند باتیں کہنی پڑتی ہیں‘ جو چاہے بیانِ واقعی ہوں۔ مگر اَپنے محاسن کے اظہار سے خالی نہیں ہوتیں۔ اِس چیز کو ایک ذرا سی بے اِعتدالی جائز حد سے بڑھا کر تفاخُر کے حدود میں پہنچا دیتی ہے۔ یہ ایک خطرناک چیز ہے۔

اصلاحی تدابیر:

(i احساسِ بندگی

جس سے ہر فرد اور جماعت کو خبردار رہنا چاہیے جو خلوص کے ساتھ اصلاح کا مقصد لے کر اٹھے اور ایسے ہر شخص میں فرداً فرداً اور ایسی ہر جماعت میں مجتمعا عبدیت کا احساس نہ صرف موجود ہو بلکہ زِندہ اور تازہ رہنا چاہیے کہ کبریائی صرف خدا کی ذات کے لیے مخصوص ہے۔ بندے کا مقام عجز و نیاز کے سوا اور کچھ نہیں۔ کسی بندے میں اگر فی الواقع کوئی بھلائی پیدا ہو تو یہ اﷲ کا فضل ہے۔ فخر کا نہیں‘ شکر کا مقام ہے۔ اس پر اﷲ کے حضور اور زیادہ عاجزی پیش کرنی چاہیے اور اس تھوڑی سی پونجی کو خیر کی خدمت میں لگا دینا چاہیے تاکہ اﷲ مزید فضل سے نوازے اور پونجی ترقی کرے۔ بھلائی پاکر غرورِ نفس میں مبتلا ہونا تو دراصل اسے برائی سے بدل لینا ہے اور یہ ترقی کا نہیں بلکہ تنزُّل کا راستہ ہے۔

(ii محاسبۂ نفس

احساسِ بندگی کے بعد دوسری چیز جو انسان کو تکبُّر کے رُجحانات سے بچا سکتی ہے‘ وہ محاسبۂ نفس ہے۔ جو شخص اپنا ٹھیک ٹھیک حساب لگائے اور اپنی خوبیوں کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھے کہ وہ کن کمزوریوں اور خامیوں اور کوتاہیوں میں مبتلا ہے‘ وہ کبھی خود پسندی و خود پرستی کے مرض کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اپنے گُناہوں اور قصوروں پر کسی کی نگاہ ہو تو اِستغفار سے اس کو اتنی فرصت ہی نہ ملے کہ اِستکبار کی ہوا اُس کے سر میں سما سکے۔

(iii خوب تر (افراد) پر نظر

اس غلط رُجحان کو روکنے والی ایک اور چیز یہ ہے کہ آدمی صرف اُن پَستیوں کی طرف نہ دیکھے‘ جن سے وہ اپنے آپ کو بلند پاتا ہے۔ بلکہ دین و اخلاق کی ان بُلندیوں کو بھی دیکھے‘ جن کے مقابلے میں وہ ابھی بہت پست ہے۔ اخلاق و روحانیت کی پستیاں بھی لامتناہی ہیں اور بلندیاں بھی لامتناہی۔ بُرے سے برا آدمی بھی نیچے کی طرف دیکھے تو کسی اور کو اپنے سے بدتر پاکر اپنی برتری پر فخر کر سکتا ہے مگر اس فخر کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی موجودہ حالت پر مطمئن ہو کر بہتر بننے کی کوشش چھوڑ دیتا ہے۔ بلکہ اس سے گزر کر نفس کی شیطانیت اسے یہ اطمینان بھی دلاتی ہے کہ کچھ اور زیادہ نیچے اتر جانے کی بھی ابھی گنجائش ہے۔ یہ نقطۂ نظر صرف وہی لوگ اختیار کر سکتے ہیں‘ جو اپنی ترقی کے دشمن ہوں۔ ترقی کی سچی طلب رکھنے والے ہمیشہ نیچے دیکھنے کی بجائے اوپر دیکھتے ہیں۔ ہر بلندی پر پہنچ کر مزید بلندیاں ان کے سامنے آتی ہیں‘ جنہیں دیکھ کر فخر کی بجائے اپنی پستی کا احساس ان کے دل میں خلش پیدا کرتا ہے اور یہی خلش انہیں اور زیادہ اوپر چڑھنے پر آمادہ کرتی ہے۔

اِن سب چیزوں کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جماعت ہر وقت اس معاملے میں چوکنی رہے اور اپنے دائرے میں کبر اور تعلّی اور فخر و غرور کے ہر ظہور کا نوٹس لے کر بروقت اس کا تدارک کرے۔ مگر تدارک کی یہ کوشش کبھی ایسے طریقوں سے نہ ہونی چاہیے کہ لوگوں میں بناوٹی انکسار اور نمائشی تواضع کی بیماری پیدا ہو جائے۔ کِبر کی اس سے بدترین کوئی قسم نہیں‘ جس کے ساتھ عجز و انکسار کا پردہ ڈالا گیا ہو۔

۲۔ نمود و نمائش

دوسرا بڑا عیب جو خیر کی جڑوں کو کھا جانے میں کِبر سے کسی طرح کم نہیں‘ یہ ہے کہ کوئی شخص بھلائی کا کام نمود و نمائش کے لیے کرے اور اس کام میں اُسے خلق کی تحسین حاصل کرنے کی فکر یا اس کی پروا ہو۔ یہ چیز صرف خلوص ہی کی نہیں حقیقت میں ایمان کی بھی ضد ہے اور اسی بناء پر اسے چُھپا ہوا شرک قرار دیا گیا ہے۔ خدا اور آخرت پر ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان صرف خدا کی رضا کے لیے کام کرے۔ اسی سے اَجر کی آس لگائے اور دنیا کی بجائے آخرت کے نتائج پر نگاہ رکھے‘ لیکن ریاکار انسان خَلق کی رضا کو مقصود بناتا ہے۔ خَلق ہی سے اَجر کا طالب ہوتا ہے اور دنیا ہی میں اپنا اَجر نام و نمود‘ شہرت‘ ہردلعزیزی‘ نفوذ و اثر اور حشمت و جاہ کی شکل میں پالینا چاہتا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے خلقِ خدا کو خدا کا شریک بنایا‘ یا اس کا مدِّمقابل بنایا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں آدمی خدا کے دین کی خواہ کتنی اور کیسی ہی خدمت کرے‘ بہرحال وہ نہ خدا کے لیے ہو گی‘ نہ اس کے دین کی خاطر ہو گی اور نہ اس کا شمار خدا کے ہاں نیکوں میں ہو گا۔

صرف یہی نہیں کہ یہ ناپاک جذبہ نتیجہ کے اعتبار سے عمل کو ضائع کر دیتا ہے‘ بلکہ درحقیقت اس کے ساتھ کوئی صحیح عمل کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کی فطری خاصیت یہ ہے کہ آدمی کو اُس کام سے زیادہ کام کے اشتہار کی فکر ہوتی ہے اور اسی کو وہ کام سمجھتا ہے‘ جس کا ڈھنڈورہ دنیا میں پٹے اور وہ تحسین و آفرین کا خراج وصول کر کے لائے۔ خاموش کام جس کا خدا کے سوا کسی کو پتا نہ ہو‘ اس کے نزدیک کوئی کام نہیں ہو گا۔ اس طرح آدمی کے عمل کا دائرہ صرف قابل اشتہارِ اعمال تک محدود ہو جاتا ہے اور اشتہار کا مقصد حاصل ہو جانے کے بعد خود اُن اعمال کے ساتھ بھی اسے کوئی دلچسپی باقی نہیں رہتی‘ آغازِ کار میں خواہ کتنے ہی خلوص کے ساتھ عملی زندگی کی ابتداء کی گئی ہو۔ یہ بیماری لگتے ہی خلوص اس طرح غائب ہونا شروع ہو جاتا ہے‘جیسے دِق / ایڈز کی بیماری آدمی کی قوتِ حیات کو کھاتی چلی جاتی ہے۔ پھر اس کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ منظر عام سے ہٹ کر بھی نیک رہے اور اپنا فرض سمجھ کر بھی کوئی فرض بجا لائے۔ وہ ہر چیز کو اس کی نمائشی قدر اور تحسینِ خلق کی قیمت کے لحاظ سے جانچتا ہے۔ ہر معاملے میں صرف یہ دیکھتا ہے کہ دنیا کس روش کو پسند کرتی ہے اور کسی ایسے کام کا تصور کرنا بھی اس کے لیے ناممکن ہوتا ہے‘ جو دنیا میں اسے غیرمقبول بنا دے۔ خواہ ایمانداری کے ساتھ اس کے ضمیر کی آواز یہی ہو کہ وہ ہے کرنے کا کام۔ گوشوں میں بیٹھ کر اﷲ اﷲ کرنے والوں کے لیے اس فتنے سے بچنا نسبتاً بہت آسان ہے۔ مگر جو لوگ پبلک میں آکر اصلاح اور خدمت اور تعمیر کے کام کریں‘ وہ ہر وقت اس خطرے میں مبتلا رہتے ہیں کہ نہ معلوم کب اس اخلاقی دِق / ایڈز کے جراثیم ان کے اندر نفوذ کر جائیں‘ انہیں بہرحال بہت سے وہ کام کرنے ہوتے ہیں جو منظر عام پر آتے ہیں‘ انہیں عوام الناس کو اپنا ہم نوا بنانے اور ان کے اندر تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔ ان کے کام کی بہت سی ضروریات اس بات پر بھی انہیں مجبور کرتی ہیں کہ وہ اپنے کاموں کی رودادیں شائع کریں۔ ان کی کچھ نہ کچھ خدمات ایسی بھی ہوتی ہیں جو ان کی طرف خلق کا رجوع بڑھاتی اور زبانوں سے ان کے لیے تحسین کے کلمات نکلواتی ہیں۔ اُنہیں مخالفتوں سے بھی سابقہ پیش آتا ہے اور اپنی مدافعت میں بادلِ ناخواستہ ہی سہی‘ انہیں مجبوراً اپنے اچھے پہلوؤں کو نمایاں کرنا پڑتا ہے۔ اِن حالات میں یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کہ شہرت ہو‘ مگر شہرت کی چاٹ نہ لگے۔ نمود و نمائش ہو‘ مگر نمود و نمائش کی خاطر کام کرنے کی بیماری نہ لگے۔ مقبولیت ہو‘ مگر وہ مقصود نہ بننے پائے‘ تحسینِ خلق ہو‘ مگر اس کے حصول کی فکر یا اس کی پروا نہ ہو‘ ریا کی پیدائش کے اسباب چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوں مگر ریا سے دامن بچا رہے۔

اس کے لیے بڑی کاوش‘ بڑی توجہ اور بڑی محنت کی ضرورت ہے۔ ایک ذرا سا تساہل بھی اس معاملے میں ریا کاری کے جراثیم کو گھس آنے کا راستہ دے سکتا ہے۔

اصلاحی تدابیر:

(i انفرادی کوشش

اس سے بچنے کے لیے انفرادی کوشش بھی ہونی چاہیے اور اجتماعی کوشش بھی۔ انفرادی کوشش کا طریقہ یہ ہے کہ ہر شخص کچھ نہ کچھ ایسے نیک اعمال کا التزام کرے جو زیادہ سے زیادہ اِخفا کے ساتھ ہوں اور ہمیشہ اپنے نفس کا جائزہ لے کر دیکھتا رہے کہ اسے زیادہ دلچسپی اُن مخفی نیکیوں میں محسوس ہوتی ہے یا ان نیکیوں میں جو منظر عام پر آنے والی ہوں۔ اگر دوسری صورت ہو تو آدمی کو فوراً خبردار ہو جانا چاہیے کہ ریا اس کے اندر نفوذ کر رہا ہے اور اﷲ سے پناہ مانگتے ہوئے پوری قوتِ ارادی کے ساتھ نفس کی اس کیفیت کو بدلنے کی سعی کرنی چاہیے۔

(ii اجتماعی کوششیں

اجتماعی کوشش کی صورت یہ ہے کہ جماعت اپنے دائرے میں ریاکارانہ رجحانات کو کبھی نہ پنپنے دے۔ اپنے کاموں میں اظہار و اعلان کو بس حقیقی ضرورت تک محدود رکھے‘ شوقِ نمائش کا ادنیٰ سا اثر بھی جہاں محسوس ہو‘ فوراً اس کا سدِباب کرے‘ جماعتی مشوروں میں یہ بات کبھی اشارۃً و کنایۃً بھی برداشت نہ کی جائے کہ فلاں کام اس لیے کرنا چاہیے کہ وہ مقبولیت کا ذریعہ ہے اور فلاں کام اس لیے نہ کرنا چاہیے کہ لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔ جماعت کا داخلی ماحول ایسا ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کی تعریف اور مذمّت ہر دو سے بے نیاز ہو کر کام کرنے کی ذہنیت پیدا کرے اور اِس ذہنیت کی پرورش نہ کرے جو مذمّت سے دل شکستہ ہو اور تعریف سے غذا پائے۔ اس کے باوجود اگر کچھ افراد جماعت میں ایسے پائے جائیں‘ جن میں ریا کی بو محسوس ہو تو ان کی ہمت افزائی کرنے کی بجائے ان کے علاج کی فکر کی جانی چاہیے۔

۳۔ نیت کا کھوٹ

تیسرا بنیادی عیب نیت کا کھوٹ ہے‘ جس پر کسی خیر کی عمارت قائم نہیں ہو سکتی۔ خیر کا کام صرف اِس خالص نیت ہی سے ہو سکتا ہے کہ دنیا میں بھلائی پھیلے اور ہم اِس کے لیے سعی کر کے اﷲ کے ہاں سرخرو ہوں۔ اس نیت کے ساتھ اپنی کوئی ذاتی یا گروہی غرض شامل نہ ہونی چاہیے۔ اپنا کوئی دُنیوی مفاد پیشِ نظر نہ ہونا چاہیے‘ حتیٰ کہ کسی تاویل کے ساتھ بھی اس مقصدِ خیر کے ساتھ اپنے لیے کسی منفعت کی طلب یا اُمید کی لاگ لگی نہ رہنی چاہیے۔ ایسا آلودہ عمل نہ صرف یہ کہ اﷲ کے ہاں آدمی کے اَجر کو ضائع کر دے گا بلکہ دنیا میں بھی اِس آلودگی کو لیے ہوئے کوئی صحیح کام نہ ہو سکے گا۔

اصلاحی تدابیر:

(i تزکیۂ قلب و روح

نیت کی خرابی لَامحالہ کردار پر اثر انداز ہو گی اور کردار کی خرابی کے ساتھ اِس جدوجہد میں کامیاب ہونا ممکن نہیں ہے جس کا اصل مقصود برائی کو مٹا کر بھلائی کو قائم کرنا ہے۔ یہاں پھر وہی مشکل پیش آتی ہے جس کی طرف ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں۔ جزوی بھلائیوں کے لیے کام کرنے کی صورت میں نیت کو اس کھوٹ سے پاک رکھنا کچھ دشوار نہیں ہے۔ تھوڑا سا تعلق باﷲ اور جذبۂ صادق بھی اس کے لیے کافی ہو سکتا ہے مگر جن لوگوں کے پیشِ نظر یہ ہو کہ ایک پورے ملک کے نظامِ زندگی کی اصلاح کی جائے اور اسے بحیثیتِ مجموعی اُن بنیادوں پر اُستوار کیا جائے جو اسلام نے ہمیں دی ہیں وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے صرف تعمیر افکار یا صرف تبلیغ و تلقین‘ یا صرف اصلاحِ اخلاق کی کوششوں پر اکتفاء نہیں کر سکتے‘ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں لامحالہ ملک کے سیاسی نظام کا رخ بھی اپنے مقصد کی طرف موڑنے کے لیے بالواسطہ یا بلاواسطہ جدوجہد کرنی پڑتی ہے تاکہ اقتدار یا تو براہِ راست ان کے ہاتھ میں آئے یا کسی ایسے گروہ کی طرف منتقل ہو جسے اُن کی تائید اور پشت پناہی حاصل ہو۔ دونوں صورتوں میں سے خواہ کوئی صورت بھی ہو اقتدار کا تصور سیاسی نظام کی تبدیلی سے منفک نہیں ہو سکتا۔ اب تو قعرِ دریا میں رہ کر دامن تر نہ ہونے دینے کا معاملہ ہے کہ ایک جماعت یہ کام کرے اور پورے اِنہماک کے ساتھ کرے اور پھر بھی اس کے افراد کی انفرادی نیّتوں اور پوری جماعت کی مجموعی نیّت کو‘ اپنے لیے اِقتدار کی طلب کی خواہش نہ لگنے پائے۔ یہ چیز بڑا تزکیۂ قلب و روح اور مُجاہَدۂ نفس چاہتی ہے۔

(ii مُجاہَدۂ نفس

اِس معاملے میں صحیح نقطۂ نظر پیدا کرنے کے لیے دو بظاہر مُتماثل چیزوں کا جوہری فرق اچھی طرح ذہن نشین ہونا چاہیے۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ مجموعی نظامِ زندگی کی تبدیلی چاہنے والا دوسری تبدیلیوں کے ساتھ سیاسی نظام کی تبدیلی چاہنے سے کسی طرح صرفِ نظر نہیں کر سکتا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ سیاسی نظام کی تبدیلی آپ سے آپ اس امر کی مقتضی ہے کہ اقتدار ان لوگوں کی طرف یا ان کی پسند کے لوگوں کی طرف منتقل ہو‘ جو اس تبدیلی کے خواہش مند ہوں۔ مگر فرق اور بہت بڑا فرق ہے۔ ’’اپنے لئے‘‘ اقتدار چاہنے اور اپنے اصول و نصب العین کے لیے اقتدار چاہنے میں۔ ’’اصول کا اقتدار‘‘ چاہے عملاً اصول کے علمبرداروں ہی کا اقتدار ہو پھر بھی ’’اصول کا اقتدار‘‘ چاہنا اور اس کے علمبرداروں کا ’’اپنے لیے اقتدار‘‘ چاہنا حقیقتاً دو الگ الگ چیزیں ہیں‘ جن میں روح اور جوہر کا بہت بڑا فرق ہے۔ نیت کا کھوٹ‘ دوسری چیز میں ہے‘ نہ کہ پہلی چیز میں اور مُجاہدۂ نفس جس چیز پر مرکوز ہونا چاہیے‘ وہ یہ ہے کہ پہلی چیز کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دینے پر بھی دوسری چیز کا ذہن میں شائبہ تک نہ آنے پائے۔ نبیﷺ اور صحابۂ کرامؓ کا نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے مجموعی نظامِ زندگی کو بدل کر اسلام کے اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کی۔ یہ چیز سیاسی غلبہ و اقتدار کی بھی متقاضی تھی کیونکہ دین کو پوری طرح غالب کر دینا اس کے بغیر ممکن نہ تھا اور عملاً اس جدوجہد کے نتیجے میں اقتدار ان کے ہاتھ میں آیا بھی لیکن اس کے باوجود کوئی ایماندار آدمی یہ شبہ تک نہیں کر سکتا کہ اُن کی جدوجہد کا مقصود ’’اپنا اقتدار‘‘ تھا۔ دوسری طرف اپنے اقتدار کے طالبوں سے تاریخ بھری پڑی ہے اور تاریخ میں ان کو ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے‘ ہماری آنکھوں کے سامنے وہ دنیا میں موجود ہیں۔ عملاً اقتدار پانے کو اگر ایک واقعہ کی حیثیت سے لیا جائے تو دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں‘ لیکن نیت کے لحاظ سے دونوں میں عظیم الشّان فرق ہے۔ اس فرق پر دونوں کا کردار‘ جدوجہد کے دور کا کردار بھی اور کامیابی کے دور کا کردار بھی ناقابلِ انکار شہادت دے رہا ہے۔ جو لوگ صدقِ دل سے اصولِ اسلام کے مطابق نظامِ زندگی کا ہمہ گیر اقتدار چاہتے ہیں۔ انہیں فرداً فرداً بھی اِس فرق کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر اپنی نیّت دُرست رکھنی چاہیے اور اُن کی جماعت کو مجموعی طور پر اس امر کی کوشش کرنی چاہیے کہ ’’اپنا اقتدار چاہنے‘‘ کی نیت کسی شکل میں بھی اِس کے دائرے میں جگہ نہ پا سکے۔

انسانی کمزوریاں

اس کے بعد دوسرا درجہ اُن برائیوں کا ہے‘ جو اساس و بنیاد کو تو نہیں ڈھاتیں مگر اپنی تاثیر کے لحاظ سے کام بگاڑنے والی ہیں اور اگر تساہل اور تغافل بَرت کر ان کو پرورش پانے کا موقع دیا جائے تو تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ شیطان ان ہی ہتھیاروں سے خیر کی راہ مارنے اور انسانی کوششوں کو بھلائی سے برائی کی طرف موڑنے اور معاشرے میں فساد ڈلوانے کا کام لیتا ہے۔ اگرچہ معاشرے کی صحت کے لیے ہر حال میں اِن عیوب کا سدِّباب ضروری ہے۔ لیکن خصوصیت کے ساتھ اُن افراد اور جماعتوں کو تو ان سے بالکل پاک رہنا چاہیے جن کے پیشِ نظر اصلاحِ معاشرہ اور اقامتِ دین کا مقصدِ عظیم ہو۔

اِس نوعیت کے عیوب کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا منبع دراصل انسان کی بعض مخصوص کمزوریاں ہیں‘ جن میں سے ہر ایک‘ عیوب کے ایک پورے خاندان کو جنم دیتی ہے۔ سہولتِ فہم کے لیے مناسب طریقہ یہ ہو گا کہ ہم ایک کمزوری کو لے کر پہلے اس کی حقیقت کو سمجھیں پھر یہ دیکھیں کہ وہ کس طرح کس تدریج سے عیب آفریں بنتی ہے اور نشونما پا کر کیا خرابیاں پیدا کرتی ہے۔ اس طرح ہر برائی کا سِرا ہم کو مل جائے گا اور ہم جان سکیں گے کہ اس کی اصلاح کے لیے کس جگہ مرہمِ تدبیر استعمال کرنا چاہیے۔

۱۔ نفسانیت

انسان کی کمزوریوں میں سب سے بڑی اور سخت فساد انگیز کمزوری ’’نفسانیت‘‘ ہے۔ اس کی اصل تو حُبِّ نفس کا وہ فطری جذبہ ہے‘ جو بجائے خود کوئی بری چیز نہیں بلکہ اپنی حد کے اندر ضروری بھی ہے اور مفید بھی۔ اﷲ تعالیٰ نے یہ جذبہ انسان کی فطرت میں اس کی بھلائی کے لیے ودیعت فرمایا ہے تاکہ وہ اپنی حفاظت اور اپنی فلاح و ترقی کے لیے کوشش کرے۔ لیکن جب یہی جذبہ شیطان کی اکساہٹ سے عشقِ نفس اور پرستش نفس اور خود مرکزیت میں تبدیل ہو جاتا ہے تو مصدرِ خیر ہونے کے بجائے منبع شر بن جاتا ہے اور پھر ہر درجۂ ارتقاء میں اس سے عیوب کا ایک نیا سلسلہ وجود میں آتا چلا جاتا ہے۔

پہلا مرحلہ: خود پسندی

برائی کی طرف اس جذبے کی پیش قدمی کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ آدمی اپنی جگہ اپنے آپ کو بے عیب اور مجموعہ محاسن سمجھ بیٹھتا ہے۔ اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا احساس کرنے سے اِغماض برتتا ہے اور اپنے ہر نقص یا قصور کی تاویل کر کے اپنے دل کو مطمئن کر لیتا ہے کہ میں ہر لحاظ سے بہت اچھا ہوں۔ یہ خود پسندی پہلے ہی قدم پر اس کی اصلاح و ترقی کا دروازہ اس کے اپنے ہاتھوں بند کر دیتی ہے۔

پھر جب یہ ’’مَن چہ خوب‘‘ کا احساس لیے ہوئے آدمی اجتماعی زندگی میں آتا ہے تو اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جو کچھ اس نے اپنے آپ کو فرض کر رکھا ہے‘ وہی کچھ دوسرے بھی اُسے سمجھیں۔ وہ صرف تعریف و تحسین سننا چاہتا ہے۔ تنقید اسے گوارا نہیں ہوتی‘ خیر خواہانہ نصیحت تک سے اس کی خودی کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس طرح یہ شخص اپنے لیے داخلی وسائلِ اصلاح کے ساتھ خارجی وسائلِ اصلاح کا بھی سدِّباب کر لیتا ہے۔

مگر کوئی شخص بھی دنیا میں ایسا نہیں ہو سکتا جس کو اجتماعی زندگی میں ہر لحاظ سے اپنی خواہش اور اپنی پسند ہی کے مطابق حالات مل جائیں۔ خصوصیت کے ساتھ خود پسند اور خودپرست آدمی کو تو یہاں ہر طرف سے چرکے لگتے ہیں کیونکہ اس کی خودی اپنے اندر وہ اسباب لیے ہوئے آتی ہے‘ جو معاشرے کی بے شمار خوبیوں کے ساتھ اس کا تصادم ناگزیر کرا دیتے ہیں اور معاشرے کے مجموعی حالات بھی اس کی توقعات اور خواہشات سے خواہ مخواہ ٹکراتے ہیں۔ یہ صورتحال اس شخص کو صرف اس حد پر نہیں رہنے دیتی کہ وہ بس اپنی اصلاح کے داخلی و خارجی وسائل سے محروم ہو کر رہ جائے بلکہ دوسروں سے تصادم کے چرکے اور توقعات کی شکست کے صدمے اس کی مجروح خودی کو پیہم ایک سے ایک شدید تر برائی میں مبتلا کرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ بہت سے لوگوں کو زندگی میں اپنے سے بہتر پاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے متعلق وہ محسوس کرتا ہے کہ معاشرہ ان کو اس سے زیادہ وقعت دے رہا ہے۔ بہت سے لوگ اس کو وہ وقعت نہیں دیتے جس کا وہ طالب ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اس کے مراتب تک پہنچنے میں مانع ہوتے ہیں‘ جن کا وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتا ہے۔ بہت سے لوگ اس بات پر تنقید کرتے ہیں بلکہ اس کی تنقیص تک کر ڈالتے ہیں۔ یہ مختلف حالات اس کے دل میں کسی کے خلاف بغض اور کینے کی آگ بھڑکا دیتے ہیں۔ وہ دوسروں کے حالات کا تجسّس کرتا ہے۔ دوسروں کے عیب ڈھونڈتا ہے۔ غیبتیں کرتا ہے اور غیبتیں سُن کر لذّت لیتا ہے۔ یہ چُغلیاں کھاتا ہے۔ نجویٰ اور سرگوشیاں اور سازشیں کرتا پھرتا ہے۔ اگر اس کے اخلاق کی بندشیں ڈھیلی ہوں یا اِن مشاغل میں پیہم مشغول رہنے سے ڈھیلی ہو جائیں تو پھر اِن گناہوں سے بڑھ کر جھوٹ افتراء‘ بہتان اور دوسرے قبیح تر جرائم کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔ اِن برائیوں کے چکر میں پھنس کر وہ اخلاق کی انتہائی پستیوں تک پہنچنے سے نہیں بچ سکتا۔ اِلّا یہ کہ کسی مرحلے پر پہنچ کر اسے خود ہی اپنی اِس ابتدائی غلطی کا احساس ہو جائے‘ جس نے اسے اس راستے پر ڈالا تھا۔

یہ کیفیت اگر کسی ایک شخص کی ہو تو اِس سے کوئی اجتماعی فساد رونما نہیں ہوتا اس کا اثر زیادہ سے زیادہ چند اشخاص تک پہنچ کر رہ جاتا ہے۔ لیکن اگر اسی نفسانیت کے بہت سے مریض موجود ہوں تو ان کے شر سے پوری اجتماعی زندگی میں فساد پھیل جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جہاں آپس کی بدظنی‘ تجسّس‘ عیب جوئی‘ غیبت اور چغل خوری کا ایک سلسلہ چل رہا ہو‘ جہاں بہت سے لوگ دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف برائی پال رہے ہوں اور بغض و حسد کی بنا پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہوں اور جہاں بہت سی مجروح خودیاں انتقام کے جذبات سے لبریز ہوں‘ وہاں پھوٹ پڑے بغیر نہیں رہ سکتی۔ وہاں کوئی چیز دھڑے بندیوں کو روک نہیں سکتی۔ وہاں کسی تعمیری تعاون کا تو درکنار‘ تعلقات کی خوشگواری تک کا اِمکان باقی نہیں رہتا۔ ایسے ماحول میں کشیدگی اور کش مکش ناگزیر ہے اور وہ صرف نفسانیت کے مریضوں تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ رفتہ رفتہ اچھے خاصے نیک نفس لوگ اس میں مبتلا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ ایک نیک نفس آدمی منہ پر تو بجا تنقید ہی کو نہیں‘ بے جا تنقید کو بھی گوارا کر سکتا ہے مگر غیبت اس کے دل میں غبار پیدا کیے بغیر نہیں رہتی اور اس کا کم از کم اتنا اثر تو ہوتا ہی ہے کہ غیبت کرنے والوں پر اعتماد کرنا اس کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ اس طرح ایک نیک نفس آدمی ان سب زیادتیوں کو معاف کر سکتا ہے جو بغض یا حسد کی بناء پر اس کے ساتھ کی جائیں‘ وہ بدگوئی‘ الزام تراشی‘ جھوٹے پروپیگنڈے اور اس سے بھی زیادہ اذیت بخش چیزوں کو بھی نظرانداز کر سکتا ہے‘ لیکن اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ جن لوگوں سے ان صفات کا ذاتی تجربہ اس کو ہو چکا ہو‘ ان سے وہ اطمینان کے ساتھ کوئی معاملہ کر سکے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس اجتماعی ماحول میں یہ عیوب بروئے کار آجاتے ہیں‘ وہ کس طرح شیطان کی من بھاتی چراگاہ بن کر رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اس میں بہتر سے بہتر آدمی بھی چاہے کشمکش سے بچ جائیں‘ کشیدگی سے نہیں بچے رہ سکتے۔

اس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ جو لوگ اصلاح و تعمیر کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنا چاہتے ہوں‘ ان کی جماعت کا ان امراض سے پاک ہونا کس قدر ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نفسانیت کے جراثیم ایسی جماعت کے لیے طاعون اور ہیضے کے جراثیم سے زیادہ خطرناک ہیں۔ ان کی موجودگی میں کسی تعمیرِ صالح کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

اصلاحی تدابیر:

(i توبہ و استغفار

شریعت الٰہی اس مرض کے آغاز سے اس کا علاج شروع کرتی ہے اور پھر ہر مرحلے پر اس کے سدباب کے لیے ہدایات دیتی ہے۔ قرآن و حدیث میں جگہ جگہ اہلِ ایمان کو توبہ و استغفار کی جو تلقین کی گئی ہے‘ اس کا منشاء یہی ہے کہ مومن کسی وقت بھی اعجابِ نفس اور خود پسندی میں مبتلا نہ ہو۔ کبھی اپنے آپ کو بڑی چیز نہ سمجھے۔ ہر وقت اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا احساس اور اپنی خطاؤں اور لغزشوں کا اعتراف ہی کرتا رہے اور بڑے سے بڑا کارنامہ انجام دینے کے بعد بھی اس پر پھولنے کے بجائے عاجزی کے ساتھ اپنے خدا کے حضور یہی درخواست پیش کرے کہ خدمت میں کوتاہیاں رہ گئی ہیں۔ ان سے درگزر فرمایا جائے۔ نبیﷺ سے بڑھ کر مجموعۂ کمالات اور کون ہو سکتا ہے اور آپؐ سے بڑا کارنامہ دنیا میں کس انسان نے انجام دیا ہے‘ مگر تاریخ کے اس عظیم ترین کارنامے کو انتہا تک پہنچا کر جب آپ فارغ ہوئے تو دربار الہٰی سے جو تلقین آپ کو فرمائی گئی وہ یہ تھی کہ:

اذا جاء نصراﷲ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اﷲ افواجا فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا o

’’جب اﷲ کی مدد آگئی اور فتح نصیب ہو گئی اور تم نے لوگوں کو اﷲ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے دیکھ لیا تو اب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت چاہو‘ یقینا وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے‘‘۔

یعنی جو کارِ عظیم تم نے انجام دیا اس کے متعلق تم یہ سمجھو کہ اس کی تعریف تمہیں نہیں بلکہ تمہارے رب کو پہنچی ہے‘ جس کے فضل و کرم سے تم اتنا بڑا کام کر دکھانے میں کامیاب ہوئے اور اپنے متعلق تمہارا احساس یہی ہونا چاہیے کہ جو حق خدمت تھا وہ پھر بھی ادا نہ ہوا۔ اس لیے انعام مانگنے کے بجائے اپنے رب سے یہ دعا کرو کہ خدمت میں جو کچھ کسر رہ گئی ہے اس سے درگزر فرمائیے۔ چنانچہ بخاری میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ ’’ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یکثر ان یقول قبل موتہ سبحان اﷲ وبحمدہ استغفر اﷲ واتوب الیہ‘‘ رسول اﷲﷺ اپنی وفات سے پہلے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں اﷲ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتا ہوں اور اﷲ سے مغفرت مانگتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں اور ویسے بھی توبہ و استغفار ہمیشہ ہی آنحضورﷺ کا معمول تھا۔ بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ انہوں نے حضورﷺ کو فرماتے سنا کہ ’’واﷲ انی استغفراﷲ واتب الیہ فی الیوم اکثر من سبعین مرۃ‘‘ خدا کی قسم میں ہر روز ستر سے زیادہ مرتبہ اﷲ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔ اس تعلیم کی روح اگر کوئی شخص اپنے اندر جذب کر لے تو اس کے ذہن میں نفسانیت کا وہ بیج کبھی جڑ ہی نہیں پکڑ سکتا‘ جو برگ و بار لاکر فتنہ و فساد کے بِس بھرے پھل دیتا ہے۔

(ii کلمۂ حق کا اظہار

اس پر بھی اگر نفس میں یہ خرابی پیدا ہو ہی جائے تو شریعتِ الٰہی اخلاق اور عملی رویے میں اس کے ظہور اور نشوونما کو ہر قدم پر روکتی ہے اور اس کے بارے میں سخت احکام دیتی ہے۔ مثلاً اس کا پہلا ظہور اس شکل میں ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو تنقید سے بالاتر سمجھتا اور منوانے کی کوشش کرتا ہے اور اس بات کو برداشت نہیں کرتا کہ کوئی شخص اسے غلطی پر ٹوکے۔ شریعتِ الٰہی اس کے برعکس امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو تمام اہلِ ایمان پر لازم کرتی ہے اور خاص طور پر ذی اِقتدار ظالموں کے مقابلے میں کلمہ حق کہنے کو تو افضلُ الجہاد قرار دیتی ہے تاکہ مسلم معاشرے میں برائی پر ٹوکنے اور بھلائی کی تلقین کرنے کا ایسا ماحول پیدا ہو جائے جس میں نفسانیت پنپ ہی نہ سکے۔

دوسرا مرحلہ: بغض و حسد

اس کا دوسرا ظہور بغض و حسد کی شکل میں ہوتا ہے جسے آدمی ہر اس شخص کے خلاف دل میں پالنا شروع کر دیتا ہے‘ جس سے اس کی نفسانیت کو چوٹ لگی ہو اور پھر اس سے تعلقات کی خرابی کا آغاز ہوتا ہے۔ شریعت الٰہی اس چیز کو گناہ قرار دیتی ہے اور اس پر سخت وعید سناتی ہے۔ نبیﷺ کا ارشاد ہے۔ ’’خبردار حسد نہ کرو‘ کیونکہ حسد آدمی کی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ سوکھی لکڑیوں کو چٹ کر جاتی ہے‘‘۔ احادیث میں متعدد الفاظ کے ساتھ حضورﷺ کے یہ تاکیدی ارشادات وارد ہوئے ہیں کہ ’’ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو‘‘۔ ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو۔ ایک دوسرے سے قطع کلام نہ کرو۔ کسی مسلم کے لیے حلال نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے تعلقات توڑے رکھے۔

تیسرا مرحلہ: بدگمانی

اس کا تیسرا قدم بدگمانی کی طرف اٹھتا ہے اور پھر تجسّس کر کے آدمی دوسروں کے عیوب ٹٹولنے لگتا ہے۔ بدگمانی کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنے سوا ہر ایک کے متعلق یہ ابتدائی مفروضہ قائم کرتا ہے کہ وہ ضرور برا ہے اور بظاہر اس کی جو چیز قابلِ اعتراض نظر آتی ہے‘ اس کی کوئی اچھی توجیہ کرنے کے بجائے بری توجیہ کرتا ہے اور تحقیق کی بھی ضرورت نہیں سمجھتا‘ تجسّس اسی بدگمانی کا ایک شاخسانہ ہے۔ آدمی دوسروں کے متعلق پہلے ایک بُری رائے قائم کرتا ہے۔ پھر اس کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے ان کے حالات کی ٹوہ لگانی شروع کرتا ہے۔ قرآن ان دونوں چیزوں کو گناہ قرار دیتا ہے۔ سورہ حجرات میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’اجتنبو کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم و لا تجسسو‘‘ بہت گمان کرنے سے بچو بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسّس نہ کرو۔ حدیث میں نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے۔ ’’خبردار بدگمانی نہ کرو کیونکہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے‘‘۔ حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ ’’ہم کو ٹوہ لگانے اورعیوب ٹٹولنے سے منع کیا گیا ہے۔ البتہ اگر ہمارے سامنے کوئی بات کھل جائے تو اس پر ہم پکڑیں گے‘‘۔ حضرت معاویہؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا ’’اگر تم مسلمانوں کے پوشیدہ احوال کی کھوج اور کُرید کرو گے تو ان کو بگاڑ دو گے‘‘۔

چوتھا مرحلہ: غیبت

ان مراحل کے بعد غیبت کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد خواہ بدگمانی پر ہو‘ یا حقیقت پر‘ دونوں حالتوں میں کسی شخص کو ذلیل کرنے اور اُس کی تذلیل سے لذّت یا فائدہ اٹھانے کی خاطر اُس کی پیٹھ پیچھے اُس کی برائی کرنا غیبت ہے۔ حدیث میں اس کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ ’’تیرا اپنے بھائی کی غیرموجودگی میں اس کا ذکر اس طرح کرنا کہ اسے معلوم ہو تو ناگوار ہو‘‘۔ نبیﷺ سے پوچھا گیا کہ اگر ہمارے بھائی میں وہ بُرائی موجود ہو جس کا ذکر کیا گیا ہے تو کیا پھر بھی یہ غیبت ہو گی؟ فرمایا ’’اگر اس میں وہ برائی ہے اور تو نے بیان کی تو غیبت کی اور اگر اس میں وہ نہیں ہے‘ تو غیبت سے بڑھ کر تو نے بہتان لگایا‘‘۔ قرآن اِس فعل کو حرام قرار دیتا ہے۔ سورہ حُجرات میں ارشاد ہے۔ ’’ولا یغتب بعضکم بعضا ایحب احدکم ان یاکل لحم اخیہ میتا فکر ہتموہ‘‘ ’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے‘‘ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ اس سے تم ضرور نفرت کرو گے‘‘۔ نبیﷺ کا فرمان ہے۔ ’’ہر مسلمان کی جان و مال اور عزت دوسرے مسلمانوں پر حرام ہے‘‘۔ اِس سے مستثنیٰ صرف وہ صورتیں ہیں‘ جن میں کسی کی برائی کرنے کی جائز ضرورت ہے اور اس میں بدخواہی کی نیت شامل نہ ہو۔ مثلاً کسی مظلوم کی شکایت اس لیے کرنا کہ کوئی اس کی فریاد رسی کرے۔ اس کی اجازت خود قرآن میں دی گئی ہے۔

لایحب اﷲ الجہر بالسوء من القول الا من ظلم

اﷲ برائی پر زبان کھولنا پسند نہیں کرتا‘ الّا یہ کہ کسی شخص پر ظلم ہوا ہو۔ یا مثلاً ایک شخص دوسرے شخص سے بیٹی بیاہ رہا ہو یا اس سے کوئی کاروباری معاملہ طے کر رہا ہو اور فریقین میں سے کوئی اس معاملے میں کسی جاننے والے سے مشورہ لے۔ اس صورت میں جو واقعی برائی آدمی کے علم میں ہو‘ اسے خیر خواہی کی بناء پر بیان کر دینا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ خود نبیﷺ نے ایسے موقع پر برائی بیان کی ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ دو صاحبوں نے فاطمہ بنت قیس کو نکاح کا پیغام دیا۔ انہوں نے حضورﷺ سے مشورہ طلب کیا۔ آپ نے انہیں خبردار کیا کہ ان میں سے ایک صاحب کنگال ہیں اور دوسرے صاحب بیویوں کو پیٹنے کے عادی ہیں۔ اسی طرح شریعت کو غیرمعتبر راویوں کی روایت سے محفوظ کرنے کے لیے ان کے عیوب بیان کرنا تمام علماء اُمت نے بالاِتفاق جائز رکھا اور آئمہ حدیث نے عملاً اِس خدمت کو انجام دیا کیونکہ دین کے لیے اس کی ضرورت تھی۔ خلقِ خدا پر اعلانیہ ظلم کرنے والوں اور فسق و فجور پھیلانے والوں اور کُھلے کُھلے بدکردار لوگوں کی غیبت کرنا بھی جائز ہے اور نبیﷺ کے اپنے عمل سے اِس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ اِس طرح کی مستثنیٰ صورتوں کے ماسِوا غیبت ہر حال میں حرام ہے اور اس کا سُننا بھی گناہ ہے۔ سننے والوں پر لازم ہے کہ یا تو غیبت کرنے والوں کو روکیں یا اس شخص کی مُدافعت کریں‘ جس کی غیبت کی جارہی ہو‘ یا بدرجۂ آخر اس محفل سے اٹھ جائیں‘ جہاں ان کے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھایا جارہا ہو۔

پانچواں مرحلہ: چُغل خوری

غیبت سے جو آگ لگتی ہے‘ اسے پھیلانے کی خدمت چغل خوری انجام دیتی ہے اور اس میں بھی اصل محرک وہی نفسانیت کا جذبہ ہوتا ہے۔ چغل خور کسی کا خیر خواہ بھی نہیں ہوتا۔ نہ اس کا جس کی برائی کی گئی ہو اور نہ اس کا جس سے برائی کی ہو۔ وہ دوست دونوں کا بنتا ہے مگر دراصل دونوں کا بدخواہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک ایک کی بات کان لگا کر سنتا ہے اور اس کی تردید نہیں کرتا۔ پھر دوست کو اس کی خبر پہنچاتا ہے تاکہ جو آگ اب تک ایک جگہ لگی ہوئی تھی‘ وہ دوسری جگہ بھی لگ جائے۔ شریعتِ الٰہی میں اس چیز کو بھی حرام کیا گیا۔ کیونکہ یہ فساد انگیزی میں غیبت سے بھی بڑھ کر ہے۔ قرآن مجید میں جن اوصاف کو آدمی کی بدترین صفات میں شمار کیا گیا ہے‘ ان میں سے ایک چغل خوری کرتے پھرنا بھی ہے۔ حدیث میں نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ: لایدخل الجنۃ غام ’’کوئی چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو سکتا‘‘۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا ’’تم بدترین انسان اس شخص کو پاؤ گے‘ جس کے دو منہ ہیں۔ کچھ لوگوں کے پاس ایک منہ لے کر آتا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں کے پاس دوسرا منہ لے کر جاتا ہے‘‘۔ صحیح اسلامی رویّہ یہ ہے کہ آدمی جہاں کسی کی غیبت سُنے یا تو اس کی تردید کرے یا پھر فریقین کی موجودگی میں اس معاملہ کو چھیڑ کر اس کی صفائی ایسے طریقے سے کرائے‘ جس سے ایک فریق کو یہ شبہ نہ ہو کہ دوسرے فریق نے اس کی غیرموجودگی میں اس کی برائی کی تھی اور اگر غیبت کسی ایسی برائی پر ہو جو واقعی شخصِ مذکور میں پائی جاتی ہو تو ایک طرف غیبت کرنے والے کو اس کے گناہ پر متنبہ کرے اور دوسری طرف اس شخص کو بھی اپنی اصلاح کے لیے توجہ دلائے‘ جس کی برائی بیان کی گئی تھی۔

انتہائی مرحلہ: نجویٰ اور سازشیں

اس سلسلہ فساد کی انتہائی کڑی نجویٰ ہے‘ یعنی کُھسرپُھسر‘ سرگوشیاں اور خفیہ مشورے‘ جن سے بالآخر سازشوں اور جتھہ بندیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور ایک دوسرے کے خلاف کشمکش کرنے واے دھڑے وجود میں آتے ہیں۔ شریعتِ الٰہی اس کو بھی سختی کے ساتھ منع کرتی ہے۔ قرآن مجید میں اس کو ایک شیطانی حرکت قرار دیا گیا ہے۔ (انما النجوی من الشیطان) اور اس کے بارے میں یہ اصولی ہدایت دی گئی ہے کہ (اذ اتنا جیتم فلا تتناجوا بالاثم والعدوان ومعصیۃ الرسول وتناجوا بالبر والتقوی) یعنی دو یا چند آدمیوں کی علیحدگی میں گفتگو اگر نیک مقاصد کے لیے اور تقویٰ کے حدود میں ہو تو اس نجویٰ کی تعریف میں نہیں آتا‘ جو ممنوع ہے۔ البتہ وہ گفتگو ضرور نجویٰ اور ممنوع نجویٰ ہے‘ جو جماعت سے آنکھ بچا کر اِخفا کے اہتمام کے ساتھ اس عرض کے لیے کی جائے کہ کسی بڑے کام کی اِسکیم بنانی ہے یا کسی دوسرے شخص یا گروہ کے خلاف کوئی کارروائی کرنی ہے یا رسول اﷲﷺ کے احکام و فرامین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرنا ہے۔ ایماندارانہ اور مخلصانہ اختلافات کبھی نجویٰ کے مُحرّک نہیں ہو سکتے۔ ان کی بات چیت کھلّم کھلّا ہوتی ہے۔ برسرِعام جماعت کے سامنے ہوتی ہے۔ دلیل کے ساتھ قائل کرنے یا قائل ہونے کے لیے ہوتی ہے اور اِس بات چیت سے اگر اختلافات باقی بھی رہ جاتے ہیں تو وہ کبھی موجبِ فساد نہیں ہوتے۔ جماعت سے الگ ہٹ کر اِخفا کے اہتمام کے ساتھ سرگوشیاں کرنے کی ضرورت صرف انہی اختلافات میں پیش آتی ہیں‘ جو اگر بالکل نفسانیت پر مبنی نہ بھی ہوں تو کم از کم اُن میں نفسانیت کی آمیزش ضرور ہوتی ہے۔ ایسی سرگوشیاں کبھی نتیجہ پیدا نہیں کرتیں۔ ان کی ابتداء چاہے کتنی ہی معصوم ہو‘ رفتہ رفتہ وہ پوری جماعت کو آپس کی بدگمانیوں‘ تفرّقوں اور دھڑے بندیوں کی چُھوت لگا دیتی ہے۔ باہم پخت و پز کر کے جب چند آدمی ایک جتّھے کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں‘ تو پھر دوسرے لوگوں میں بھی ایسی ہی پخت و پز کرنے اور جتھے بنانے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے اور یہیں سے اِس بگاڑ کی ابتداء ہوتی ہے۔ آخری مرحلہ وہ ہے کہ یہ بگاڑ عملاً رونما ہو جائے۔ یہ وہ چیز ہے جس سے نبیﷺ نے مسلمانوں کو بار بار متنبہ کیا ہے۔ شدّت کے ساتھ ڈرایا ہے اور سختی کے ساتھ بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’شیطان اب اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ عرب میں جو لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں وہ پھر اس کی عبادت کرنے لگیں گے۔ اَب اس کی ساری اُمیدیں صرف ان کے اندر بگاڑ پیدا کرنے اور ان کو باہم لڑانے ہی سے وابستہ رہ گئی ہیں‘‘۔ حتیٰ کہ آپؐ نے یہاں تک فرمایا کہ ’’میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو‘‘۔ اس طرح کی حالت پیدا ہو جانے کی صورت میں اہلِ ایمان کو جو طریقہ سکھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اوّل تو آدمی خود فتنہ میں حصہ لینے سے بچے‘ ’’خوش قسمت ہے وہ جو فتنوں سے بچ گیا اور جو جتنا بھی اس سے دور رہے‘ اتنا ہی زیادہ بہتر ہے‘‘۔ اس حالت میں سونے والا جاگنے والے سے بہتر ہے اور کھڑا ہوا دوڑنے والے سے بہتر ہے۔ دوسرے اگر وہ حصہ لے تو لڑنے والوں سے ایک فریق بن کر نہیں بلکہ صدقِ دل سے اصلاح کی کوشش کرنے والا بن کر لے‘ جس کے متعلق صاف صاف ہدایات سورۂ حُجرات کے پہلے رکوع میں دی گئی ہیں۔

نفسانیت کی اس حقیقت اور اس کی نشوونما اور ظہور کے ان مراتب اور ہر مرتبے کے متعلق شریعتِ الٰہی کے اِن احکام کو ذہن نشین کر لینا‘ اُن تمام لوگوں کے لیے ضروری ہے جو خیر و اصلاح کی خدمت کرنے کے لیے مُجتمع ہوں۔ اُن میں سے ہر شخص کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو خودپسندی کے مرض سے بچائے اور ان اخلاقی و روحانی نقصانات کو سمجھے جو اس مرض میں مبتلا ہونے سے پہنچتے ہیں۔ ان کی جماعت کو بھی بحیثیتِ مجموعی اس معاملے میں چوکنا رہنا چاہیے کہ کہیں اس کے اندر نفسانیت کے جراثیم کو انڈے بچے دینے کا موقع نہ مل جائے۔ انہیں اپنے دائرے میں کسی ایسے شخص کی ہمّت افزائی نہ کرنی چاہیے جو اپنے اندر تنقید سن کر بپھر جائے۔ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے سے اِستکبار برتے‘ انہیں ہر اس شخص کو دبانا چاہیے جس کی باتوں سے بغض و عداوت کی بو آئے یا جس کا طرزِ عمل یہ بتا رہا ہو کہ وہ کسی شخص سے ذاتی کَدورت رکھتا ہے‘ انہیں ایسے لوگوں کی بھی خبر لینی چاہیے جو دوسروں کے معاملے میں بدگُمانی سے کام لیں یا دوسروں کے حالات کی ٹوہ لگا کر اُن کے عیوب تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ انہیں اپنی سوسائٹی میں غیبت اور بدگمانی کا بھی سدِباب کرنا چاہیے اور جہاں کہیں یہ بلا اپنا سر نکالے‘ وہاں فوراً وہ سیدھا سیدھا اسلامی رویہ اختیار کرنا چاہیے جس کی تشریح اوپر کی جاچکی ہے۔ انہی خصوصیت کے ساتھ نجویٰ کے خطرات سے ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ یہ جماعت میں تفرّقے کی تمہید ہے۔ کسی مُخلص آدمی کو اس بات کے لیے ہرگز راضی نہ ہونا چاہیے کہ کوئی شخص سرگوشی کر کے کسی اِختلافی مسئلہ میں اُسے اپنا ساتھی بنائے اور جس وقت بھی اس امر کی ابتدائی علامات ظاہر ہوں کہ کچھ لوگ جماعت میں یہ طریقہ اختیار کر رہے ہیں‘ اسی وقت جماعت کو ان کی اصلاح یا پھر ان کی سرکوبی کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔ ان ساری کوششوں کے باوجود اگر جماعت کے اندر کسی جتھہ بندی کا فتنہ رونما ہو ہی جائے تو پھر مخالفین کا یہ کام نہیں ہے کہ خود بھی کونوں اور گوشوں میں خفیہ سرگوشیاں کر کے دوسرا جتھا بنانے کے لیے ساز باز شروع کر دیں بلکہ انہیں اس فتنے سے اپنا دامن بچا کر اس کو روکنے کے لیے انفرادی تدبیریں کرنی چاہییں اور ان میں ناکام ہونے کے بعد جماعت کے سامنے کُھلّم کھلّا اس معاملے کو لے آنا چاہیے۔ جس جماعت میں مُخلص افراد کی کثرت ہو گی‘ وہ اس طرح کے فتنوں سے خبردار ہو کر فوراً ہی اُن کا استیصال کر دے گی اور جس میں فتنہ پسند یا بے فکر افراد زیادہ ہوں گے‘ وہ انہی فتنوں کا شکار ہو کر رہ جائے گی۔

۲۔ مزاج کی بے اعتدالی اور اس کے مظاہر

اس ضمن کی کمزوریوں میں دوسرا درجہ ان خرابیوں کا ہے جن کے لیے موزوں ترین نام ’’مزاج کی بے اعتدالی‘‘ ہے۔ نفسانیت کے مقابلے میں یہ ایک معصوم نوعیت کی کمزوری ہے۔ کیونکہ اس میں کسی بدنیتی‘ کسی برے جذبے‘ کسی ناپاک خواہش کا دخل نہیں ہوتا لیکن خرابی پیدا کرنے کی قابلیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ نفسانیت کے بعد دوسرے نمبر پر آتی ہے بلکہ بسا اوقات اس کے اثرات و نتائج اُتنے ہی خراب ہوتے ہیں‘ جتنے نفسانیت کے اثرات و نتائج۔

مزاج کی بے اعتدالی کا فطری نتیجہ نظر و فکر کی بے اعتدالی اور عمل و سعی کی بے اعتدالی ہے اور یہ چیز زندگی کے حقائق سے براہِ راست مُتصادم ہوتی ہے۔ انسانی زندگی بے شمار مُتضاد عناصر کی مصالحت اور بہت سے مختلف عوامل کے مجموعی عمل کا نتیجہ ہے۔ جس دنیا میں انسان رہتا ہے‘ اس کا بھی یہی حال ہے۔ انسانی افراد میں سے ہر ایک فرداً فرداً بھی ایسا ہی بنایا گیا ہے اور انسانوں کے ملنے سے جو اجتماعی ہیئت بنتی ہے اس کی کیفیت بھی یہی ہے۔ اس زندگی میں کام کرنے کے لیے فکر و نظر کا ایسا توازن اور سعی و عمل کا ایسا اِعتدال درکار ہے جو مزاجِ کائنات کے توازُن و اعتدال کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ ہو۔ حالات کے ہر پہلو پر نگاہ رکھی جائے۔ معاملات کے ہر رُخ کو دیکھا جائے۔ ضروریات کے ہر گوشے کو اس کا حق دیا جائے۔ فطرت کے ہر تقاضے کومَلحوظ رکھا جائے۔ کمال درجے کا معیاری اعتدال چاہے نصیب نہ ہو‘ مگر یہاں کامیابی کے لیے بہرحال اعتدال ناگزیر ہے۔ جتنا بھی وہ معیار سے قریب ہو گا‘ اتنا ہی مُفید ہو گا اور جس قدر وہ اس سے دور ہو گا اُسی قدر زندگی کی حقیقتوں سے متصادم ہو کر نقصان کا موجب بنے گا۔ دنیا میں آج تک جتنا بھی فساد رونما ہوا ہے اور آج رونما ہے‘ اِسی وجہ سے ہے کہ غیرمتوازن دِماغوں نے انسانی مسائل کو یک رخے پن سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوششیں کیں۔ اِن کو حل کرنے کے لیے غیرمتوازن اسکیمیں بنائیں اور ان کو نافذ کرنے کے لیے غیرمُعتدل طریقے اختیار کیے۔ یہی بگاڑ کا اصل سبب ہے اور بناؤ کا جو کچھ کام بھی ہو سکتا ہے‘ فکر و نظر کے توازُن اور طریقِ عمل کے اعتدال ہی سے ہو سکتا ہے۔

یہ وصف خاص طور پر تعمیر و اصلاح کی اُس اسکیم کو نافذ کرنے کے لیے اور بھی زیادہ ضروری ہے جو اسلام نے ہمیں دی ہے۔ کیونکہ وہ بجائے خود توازن و اعتدال کے انتہائی کمال کا نمُونہ ہے۔ اس کو کتابوں کے صفحات سے واقعات کی دنیا میں منتقل کرنے کے لیے تو خصوصیت کے ساتھ وہی کارفرما اور کارکن موزوں ہو سکتے ہیں جن کی نظر اسلام کے نقشۂ تعمیر کی طرح متوازن اور جن کا مزاج اسلام کے مزاج اصلاح کی طرح معتدل ہو۔ افراط و تفریط میں مبتلا ہونے والے انتہا پسند لوگ اس کام کو بگاڑ تو سکتے ہیں‘ بنا نہیں سکتے۔

نتائج کے اعتبار سے بے اعتدالی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ وہ بالعموم ناکامی کی مَوجِب ہوتی ہے۔ نظامِ زندگی میں اصلاح و تغیّر کی کوئی اسکیم بھی لے کر آپ اٹھیں‘ آپ کی کامیابی کے لیے صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ آپ خود اس کے برحق ہونے پر مطمئن ہوں۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے معاشرے کے عام انسانوں کو اس کے صحیح‘ مفید اور قابلِ عمل ہونے پر مطمئن کر دیں اور اپنی تحریک کو اس شکل میں لائیں اور ایسے طریقے سے چلائیں‘ جس سے لوگوں کی اُمیدیں اور غایتیں اس کے ساتھ وابستہ ہوتی چلی جائیں۔ یہ بات صرف اُسی تحریک کو نصیب ہو سکتی ہے جو نظر و فکر میں بھی متوازن ہو اور طریقِ عمل میں بھی متوازن۔ ایک انتہا پسندانہ اسکیم جو انتہا پسندانہ طریقوں سے چلائی جائے‘ عام انسانوں میں اپنے لیے رغبت اور اُمید پیدا کرنے کے بجائے معترض اور غیرمطمئن بناتی ہے اور اُس کی یہ صفت خود ہی اُس کی قوتِ تبلیغ اور قوتِ نفوذ کو ضائع کر دیتی ہے۔ اُس کو بنانے اور چلانے کے لیے کچھ انتہا پسند لوگ اکٹھے ہو بھی جائیں تو سارے معاشرے کو اپنے جیسا انتہا پسند بنا لینا اور دنیا بھر کی آنکھیں حقائق سے بند کر دینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

خود اُس جماعت کے لیے بھی یہ چیز زہر کا حکم رکھتی ہے جو اجتماعی اصلاح و تعمیر کا کوئی کام کرنے چلی ہے۔ اِصلاح و تعمیر کا یہ کام کوئی آسان کام نہیں ہے۔

مظاہر:

(i یَک رُخا پَن

مزاج کی بے اعتدالی کا اولین مظہر‘ انسان کے ذہن کا یک رخا پن ہے۔ اس کیفیت میں مبتلا ہو کر آدمی بالعموم ہر چیز کا ایک رخ دیکھتا ہے‘ دوسرا رخ نہیں دیکھتا۔ ہر معاملے میں ایک پہلو کا لحاظ کرتا ہے‘ دوسرے کسی پہلو کا لحاظ نہیں کرتا۔ ایک سِمت جس میں اُس کا ذہن ایک دفعہ چل پڑتا ہے‘ اُسی کی طرف وہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ دوسری سَمتوں کی جانب توجہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس سے معاملات کو سمجھنے میں مُسلسل ایک خاص طرح کے عدمِ توازن کا ظہور ہوتا ہے۔ رائے قائم کرنے میں بھی وہ ایک ہی طرف جھکتا چلا جاتا ہے۔ جس چیز کو اہم سمجھ لیتا ہے‘ بس اُسی کو پکڑ بیٹھتا ہے۔ دوسری ویسی ہی اہم چیزیں بلکہ اُس سے بھی اہم چیزیں اُس کے نزدیک غیروقیع ہو جاتی ہیں۔ جس چیز کو برا سمجھ لیتا ہے‘ اُسی کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔ دوسری ویسی ہی بلکہ اُس سے زیادہ بڑی برائیاں اُس کے نزدیک قابلِ توجہ نہیں ہوتیں۔ اُصولیت اختیار کرتا ہے تو جمود کی حد تک اصول پرستی میں شِدّت دکھانے لگتا ہے۔ کام کے عملی تقاضوں کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ عملیت کی طرف جُھکتا ہے تو بے اُصولی کی حد تک عملی بن جاتا ہے اور کامیابی کو مقصود بالذّات بنا کر اس کے لیے ہر قسم کے ذرائع وسائل استعمال کر ڈالنا چاہتا ہے۔

(ii انتہا پسندی

یہ کیفیت اگر اس حد پر نہ رک جائے تو آگے بڑھ کر یہ سخت انتہا پسندی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پھر آدمی اپنی رائے پر ضرورت سے زیادہ اِصرار کرنے لگتا ہے۔ اختلافِ رائے میں شدّت برتنے لگتا ہے۔ دُوسروں کے نقطۂ نظر کو انصاف کے ساتھ نہ دیکھتا ہے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بلکہ ہر مخالف رائے کو بدتر سے بدتر معنی پہنا کر ٹُھکرانا اور ذلیل کرنا چاہتا ہے۔ یہ چیز روز بروز اُسے دوسروں کے لیے اور دوسروں کو اُس کے لیے ناقابلِ برداشت بناتی چلی جاتی ہے۔

اس مقام پر بھی بے اعتدالی رک جائے تو خیریت ہے لیکن اگر اسے خوبی سمجھ کر مزید پرورش کیا جائے تو پھر معاملہ بدمزاجی اور چڑچڑے پن اور تیز زبانی اور دوسروں کی نیّتوں پر شک اور حملوں تک پہنچ جاتا ہے جو کسی اجتماعی زندگی میں نبھنے والی چیز نہیں ہے۔

(iii اجتماعی بے اعتدالی

ایک آدمی یہ روش اختیار کرے تو زیادہ سے زیادہ اتنا ہی ہو گا کہ وہ اکیلا جماعت سے کٹ جائے گا اور اُس مقصد کی خدمت سے محروم ہو جائے گا‘ جس کی خاطر وہ جماعت سے وابستہ ہوا تھا۔ اِس سے کوئی اجتماعی نقصان نہ ہو گا‘ مگر جب کسی اجتماعی ہیئت میں بہت سے غیرمتوازن ذہن اور غیرمعتدل مزاج جمع ہو جائیں تو پھر ایک ایک قسم کا عدم توازن ایک ایک ٹولی کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے۔ ایک انتہا کے جواب میں دوسری انتہا پیدا ہوتی ہے۔ اختلافات شدید سے شدید تر ہوتے جاتے ہیں۔ پھوٹ پڑتی ہے‘ دھڑے بندی ہوتی ہے اور اس کش مکش میں وہ کام خراب ہو کر رہتا ہے‘ جسے بنانے کے لیے بڑی نیک نیتی کے ساتھ کچھ لوگ جمع ہوئے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو کام انفرادی کوششوں سے کرنے کے نہیں ہوتے بلکہ جن کی نوعیت ہی اجتماعی ہوتی ہے‘ انہیں انجام دینے کے لیے بہرحال بہت سے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ ہر ایک کو اپنی بات سمجھانی اور دوسروں کی بات سمجھنی ہوتی ہے۔ طبیعتوں کا اختلاف‘ قابلیتوں کا اختلاف‘ ذاتی خصوصیات کا اختلاف اپنی جگہ رہتا ہے۔ اس کے باوجود سب کو آپس میں موافقت کا ایک تعلق پیدا کرنا ہوتا ہے‘ جس کے بغیر کوئی تعاون ممکن نہیں ہوتا۔ اس موافقت کے لیے کَسر و اِنکسار ناگزیر ہے اور کَسر و اِنکسار صرف مُعتدِل مزاج کے لوگوں ہی میں ہو سکتا ہے‘ جن کے خیالات بھی متوازن ہوں اور طبیعتیں بھی۔ متوازن اور غیرمتوازن لوگ بھی جمع ہو جائیں تو زیادہ دیر تک جمع رہ نہیں سکتے۔ ان کی جمعیت پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اور جن ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر ایک ایک قسم کے عدمِ توازن کے مریض جمع ہوں گے‘ ان میں پھر تفرقہ رونما ہو گا‘ یہاں تک کہ آخرِ کار ایک ایک امام مقتدیوں کے بغیر ہی کھڑا نظر آئے گا۔

جن لوگوں کو اسلام کے لیے کام کرنا ہو اور جنہیں جمع کرنے والی چیز اسلامی اصول پر نظامِ زندگی کی اصلاح و تعمیر کرنے کا جذبہ ہو‘ ولولہ ہو‘ اُنہیں اپنا محاسبہ کر کے اِس بے اعتدالی کی ہر شکل سے خود بھی بچنا چاہیے اور ان کی جماعت کو بھی یہ فکر ہونی چاہیے کہ اس کے دائرے میں یہ مرض نشوونما نہ پائے۔ اس باب میں کتاب اﷲ اور سنتِ رسولﷺ کی وہ ہدایات ان کی پیشِ نظر رہنی چاہیئیں جو انتہا پسندی اور شدت سے منع کرتی ہیں۔ قرآن جس چیز کو اہلِ کتاب کی بنیادی غلطی قرار دیتا ہے‘ وہ غُلو فی الدین ہے۔ (یا اہل الکتاب لاتغلو فی دینکم) اور اس سے بچنے کی تاکید نبیﷺ اپنے متبعین کو ان الفاظ میں فرماتے ہیں۔

ایاکم والغو فانما ہلک من کان قبلکم بالغو فی الدین۔ ’’خبردار! انتہا پسندی میں نہ پڑنا کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ دین میں انتہا پسندی اختیار کر کے ہی تباہ ہوئے ہیں‘‘۔

ابن مسعودؓ کی روایت ہے کہ حضورﷺ نے ایک تقریر میں تین بار فرمایا:

ہلک المتنطعون۔ ’’برباد ہو گئے شِدّت اختیار کرنے والے‘ مبالغے اور تعمق سے کام لینے والے‘‘۔ دعوتِ محمدیﷺ کا امتیازی وصف اس کے لانے والے نے یہ بتایا ہے کہ بعثت والحنیفہ السمحۃ۔ یعنی آپؐ پچھلی اُمتوں کے افراط و تفریط کے درمیان وہ حنیفیت لے کر آئے ہیں‘ جس میں وُسعَت اور معاملات زندگی کے ہر پہلو کی رعایت ہے۔ اس دعوت کے علمبرداروں کو جس طریقے پر کام کرنا چاہیے‘ وہ اس کے داعی اوّل نے یہ سکھایا ہے۔

یسرو ولا تعسروا وبشروا ولاتنفروا۔ ’’سہولت دو‘ تنگ نہ کرو‘ بشارت دو‘ نفرت نہ دلاؤ‘‘۔

انما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین۔ ’’تم سہولت دینے کے لیے بھیجے گئے ہو، تنگ کرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے‘‘۔

ماخیر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بین امرین قط الا اخذا یسرہما مالم یکن ائما۔ ’’کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اﷲﷺ کو دو معاملوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کا موقع دیا گیا ہو اور آپؐ نے اُن میں سے آسان ترین کو نہ اختیار کیا ہو‘ الّا یہ کہ وہ گناہ ہو‘‘۔ (بخاری مسلم)

ان اﷲ رفیق یحب الرفیق الامر کلہ۔ ’’اﷲ نرم خو ہے۔ ہر معاملے میں نرم رویے کو پسند کرتا ہے‘‘۔

من یحرم الرفق الخیر کلہ (مسلم)۔ ’’جو نرم خوئی سے محروم ہوا وہ بھلائی سے بالکل محروم ہو گیا‘‘۔

ان اﷲ رفیق یحب الرفیق ویعطی علی الرفق مالا یعطی علی العنف ومالا یعطی علی ماسواہ۔ ’’اﷲ نرم خو ہے اور نرم خو آدمی کو پسند کرتا ہے‘ وہ نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے‘ جو شدّت پر اور کسی دوسرے رویے پر عطا نہیں کرتا‘‘۔

اِن جامع ہدایات کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ‘ اسلامی نظامِ زندگی کے لیے کام کرنے والے لوگ اگر قرآن و سُنّت سے اپنے مطلب کی چیزیں چھانٹنے کے بجائے اپنے مزاج اور نقطۂ نظر کو ان کے مطابق ڈھالنے کی عادت ڈالیں تو اُن کے اندر آپ سے آپ وہ توازُن اور توسُّط و اِعتدال پیدا ہوتا چلا جائے گا‘ جو دنیا کے حالات و معاملات کو قرآن و سنت کے دیئے ہوئے نقشے پر درست کرنے کے لیے درکار ہے۔

۳۔ تنگدلی

بے اعتدالیٔ مزاج سے ملتی جلتی ایک اور کمزوری بھی انسان میں ہوتی ہے‘ جسے تنگ دلی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جسے قرآن میں ’’شُحِ نفس‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے‘ جس کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ فلاح اُس شخص کے لیے ہے‘ جو اس سے بچ گیا۔ (ومن یوق شح نفسہٖ فاولئک ہم المفلحون)۔ اور جسے قرآن تقویٰ اور احسان کے برعکس ایک غلط مَیلان قرار دیتا ہے۔ (واحضرت الانفس الشح و ان و تحسنوا و تتقوا فان اﷲ کان بما تعملون خبیرا)۔ اس مرض میں جو شخص مبتلا ہو‘ وہ اپنی زندگی کے ماحول میں دوسروں کے لیے کم ہی گنجائش چھوڑنا چاہتا ہے۔ وہ خود جتنا بھی پھیل جائے‘ اپنی جگہ اسے تنگ ہی نظر آتی ہے اور دوسرے جس قدر بھی اس کے لیے سُکڑ جائیں‘ اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ بہت پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے لیے ہر رعایت چاہتا ہے‘ مگر دوسروں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کر سکتا۔ اپنی خوبیاں اس کے نزدیک ایک صِفَت ہوتی ہیں‘ اور دوسروں کی خوبیاں محض ایک اتفاقی حادثہ۔ اپنے عیوب اس کی نگاہ میں قابلِ معافی ہوتے ہیں‘ مگر دوسروں کی مشکلات اس کی رائے میں محض بہانہ ہوتی ہیں۔ اپنی کمزوریوں کے لیے جو الاؤنس وہ خود چاہتا ہے‘ دوسروں کو وہ الاؤنس دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ دوسروں کی مجبوریوں کی پرواہ کیے بغیر وہ ان سے انتہائی مطالبات کرتا ہے‘ جو خود اپنی مجبوری کی صورت میں وہ کبھی پورے نہ کرے۔ اپنی پسند اور اپنا ذوق وہ دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہے مگر دوسروں کی پسند اور ان کے ذوق کا لحاظ کرنا ضروری نہیں سمجھتا۔ یہ چیز ترقی کرتی ہے تو آگے چل کر خوردہ گیری و عیب چینی کی شکل اختیار کر لیتی ہے‘ دوسروں کی ذرا ذرا سی باتوں پر آدمی گرفت کرنے لگتا ہے اور پھر جوابی عیب چینی پر بلبلا اٹھتا ہے۔

اِسی تنگ دلی کی ایک اور شکل زود رنجی‘ نک چڑھا پن اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا ہے‘ جو اجتماعی زندگی میں اس شخص کے لیے بھی مصیبت ہے جو اس میں مبتلا ہوا اور ان لوگوں کے لیے بھی مصیبت‘ جنہیں ایسے شخص سے واسطہ پڑے۔

کسی جماعت کے اندر اس بیماری کا گھس آنا حقیقت میں ایک خطرے کی علامت ہے۔ اجتماعی جدوجہد بہرحال آپس کی اُلفت اور باہمی تعاون چاہتی ہے‘ جس کے بغیر چار آدمی مل کر بھی کام نہیں کر سکتے۔ مگر یہ تنگ دلی اس کے امکانات کو کم ہی نہیں‘ بسا اوقات ختم کر دیتی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ تعلقات کی تلخی اور باہمی منافرت ہے۔ یہ دلوں کو پھاڑ دینے والی اور ساتھیوں کو آپس میں الجھا دینے والی چیز ہے۔ اس مرض میں جو لوگ مبتلا ہوں‘ وہ عام معاشرتی زندگی کے لیے بھی موزوں نہیں ہو سکتے‘ کُجا کہ کسی مقصدِ عظیم کی خدمت کے لیے موزوں قرار پاسکیں۔ خصوصیت کے ساتھ یہ صفت اُن صفات کے بالکل ہی برعکس ہے‘ جو اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کے لیے مطلوب ہیں۔ وہ تنگ دلی کے بجائے فراخ دلی‘ بخل کے بجائے فیاضی‘ گرفت کے بجائے عفو و درگذر اور سخت گیری کے بجائے مَراعات چاہتا ہے۔ اس کے لیے حلیم اور مُتحمّل لوگ درکار ہیں۔ اس کا بیڑا وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں‘ جو بڑا ظرف رکھتے ہوں۔ جن کی سختی اپنے لیے اور نرمی دوسروں کے لیے ہو‘ جو خود کم سے کم الاؤنس چاہیں اور دوسروں کے لیے زیادہ سے زیادہ الاؤنس دیں۔ جو اپنے عیوب اور دوسروں کی خوبیوں پر نگاہ رکھیں۔ جو تکلیف دینے کے بجائے تکلیف سہنے کے خوگر ہوں اور چلتوں کو گرانے کے بجائے گرتوں کو تھامنے کا بل بوتا رکھتے ہوں‘ جو جماعت ایسے لوگوں پر مشتمل ہو گی وہ نہ صرف خود آپس میں مضبوطی کے ساتھ جڑی رہے گی بلکہ اپنے گرد و پیش کے معاشرے میں بکھرے ہوئے اجزاء کو سمیٹتی اور اپنے ساتھ جوڑتی چلی جائے گی۔ اس کے برعکس تنگ دل اور کم ظَرف لوگوں کا مجمع خود بھی بکھرے گا اور باہر بھی‘ جس سے اس کو سابقہ پیش آئے گا‘ اسے نفرت دلا کر اپنے سے دور بھگا دے گا۔

۴۔ ضُعفِ ارادہ

انسانوں میں ایک اور کمزوری بکثرت پائی جاتی ہے‘ جسے ہم ضُعفِ ارادہ کا نام دے سکتے ہیں۔

اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک تحریک کی دعوت سن کر اسے صدقِ دل سے لبیک کہتا ہے اور اوّل اوّل خاصا جوش بھی دکھاتا ہے‘ مگر وقت گذرنے کے ساتھ اس کی دلچسپی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اسے نہ اس مقصد سے کوئی حقیقی لگاؤ باقی رہتا ہے‘ جس کی خدمت کے لیے وہ آگے بڑھا تھا اور نہ اس جماعت کے ساتھ کوئی عملی وابستگی باقی رہتی ہے‘ جس میں وہ دلی رغبت کے ساتھ شامل ہوا تھا۔ اس کا دماغ بدستور ان دلائل پر مطمئن رہتا ہے‘ جن کی بناء پر اس تحریک کو اس نے برحق مانا تھا‘ اس کی زبان بدستور اس کے برحق ہونے کا اقرار کرتی رہتی ہے۔ اس کے دل کی شہادت بھی یہی رہتی ہے کہ یہ کام کرنے کا ہے اور ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے جذبات سرد پڑ جاتے ہیں اور قوائے عمل کی حرکت سُست ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس میں کسی بدنیتی کا ذرہ برابر دخل نہیں ہوتا‘ مقصد سے اِنحراف بھی نہیں ہوتا۔ نظریئے کی تبدیلی بھی قطعاً واقع نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے آدمی جماعت کو چھوڑنے کا خیال نہیں کرتا‘ مگر بس وہ ارادے کی کمزوری ہوتی ہے جو ابتدائی جوش ٹھنڈا ہو جانے کے بعد مختلف شکلوں میں اپنے کرشمے دکھانے شروع کر دیتی ہے۔

پہلا قدم: جی چُرانا

ضُعفِ ارادہ کا ابتدائی ظہور کام چوری کی صورت میں ہوتا ہے۔ آدمی ذمہ داریاں قبول کرنے سے جی چُرانے لگتا ہے۔ مقصد کی راہ میں وقت‘ محنت اور مال خرچ کرنے سے گریز کرنے لگتا ہے۔ دنیا کے ہر دوسرے کام کو اس کام پر ترجیح دینے لگتا ہے‘ جسے زندگی کا نصب العین قرار دے کر آیا تھا۔ اس کے اوقات میں‘ اس کی محنتوں میں‘ اس کے مال میں‘ اس کے نام نہاد مقصدِ حیات کا حصہ کم سے کم ہوتا چلا جاتا ہے اور جس جماعت کو وہ برحق جماعت مان کر اس سے وابستہ ہوا تھا‘ اس کے ساتھ بھی وہ صرف نظم اور ضابطے کا تعلق باقی رکھتا ہے۔ اس کے بَھلے اور بُرے سے کوئی غرض نہیں رکھتا‘ نہ اس کے معاملات میں کسی قسم کی دلچسپی لیتا ہے۔
یہ حالت کچھ اس طرح بتدریج طاری ہوتی ہے جیسے جوانی پر بڑھاپا آتا ہے مگر آدمی اپنی اس کیفیت پر نہ خود متنبّہ ہو اور نہ کوئی اسے متنبّہ کرے‘ تو کسی وقت بھی یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ جس چیز کو میں اپنا مقصدِ زندگی قرار دے کر جان و مال کی بازی لگانے کے لیے اٹھا تھا‘ اس کے ساتھ اب یہ کیا معاملہ کرنے لگا ہوں۔ یوں محض غفلت اور بے خبری کے عالم میں آدمی کی دلچسپی و وابستگی بے جان ہوتی چلی جاتی ہے‘ حتیٰ کہ کسی روز بے خبری ہی میں اس کی طبعی موت واقع ہو جاتی ہے۔

دوسرا قدم: اخلاقی تنزل

جماعتی زندگی میں اگر پہلے آدمی کے اندر اس کیفیت کے ظہور کا نوٹس نہ لیا جائے اور اس کے نشوونما کو روکنے کی فکر نہ کی جائے تو ایک ضعیف الارادہ شخص کی چھوت ان دوسرے لوگوں کو لگنا شروع ہوجاتی ہے‘ جن کے اندر ضُعفِ ارادہ پیدا ہو رہا ہو‘ اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ مل جاتا ہے۔ اچھے خاصے سرگرم آدمی دوسروں کو کام نہ کرتے دیکھ کر خود بھی کام چھوڑ بیٹھتے ہیں اور کوئی اﷲ کا بندہ یہ نہیں سوچتا کہ میں کسی اور کے نہیں‘ خود اپنے مقصدِ حیات کی خدمت کے لیے آیا تھا۔ اگر دوسرے اپنا مقصد چھوڑ چکے ہیں‘ تو میں اپنے مقصد سے کیوں دستبردار ہو جاؤں۔ ان لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہوتی ہے جو صرف اس لیے جنّت کے راستے پر چلنا چھوڑ دے کہ دوسرے ساتھیوں نے چھوڑ دیا ہے۔ گویا جنّت اس کی اپنی منزلِ مقصود نہ تھی‘ یا وہ اس شرط کے ساتھ جانا چاہتا تھا کہ دوسرے بھی وہاں جائیں اور شائد دوسروں ہی کے ساتھ وہ جہنّم جانے کا ارادہ بھی کرے اگر اُنہیں اس طرف جاتے دیکھے‘ کیونکہ اُس کا اپنا مقصد کوئی نہیں ہے۔ جو کچھ دوسروں کا مقصد ہے‘ وہی اُس کا بھی ہے۔ اِس ذہنی کیفیت میں مبتلا ہوجانے والے لوگ ہمیشہ کام نہ کرنے والوں کو مثال بناتے ہیں‘ کام کرنے والوں میں انہیں کوئی قابلِ تقلید مثال نہیں ملتی۔

تاہم بسا غنیمت ہے کہ کوئی شخص بس سیدھے سادھے طریقے پر ضُعفِ ارادہ کی بناء پر سست پڑ جائے اور سست ہی پڑ کر رہ جائے لیکن اِنسانی فطرت جب ایک دفعہ کمزوری میں مبتلا ہو جاتی ہے تو دوسری کمزوریاں بھی اُبھرنے لگتی ہیں اور کم ہی لوگ اس پر قادر ہوتے ہیں کہ اپنی ایک کمزوری کی مدد پر دوسری کمزوریوں کو نہ آنے دیں۔ بالعموم آدمی کو اس میں شرم محسوس ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک کمزور انسان کی حیثیت سے ظاہر کرے یا اِسے برداشت کرلے اور یہ کہ لوگ اسے کمزور سمجھیں‘ وہ سیدھی طرح اِس کا اعتراف نہیں کرتا کہ ضُعفِ اِرادہ نے اُسے سُست کر دیا ہے۔ اِس کے بجائے وہ اِس پر پردہ ڈالنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے‘ جن میں سے ہر طریقہ دوسرے سے بدتر ہوتا ہے۔

مثلاً وہ کام نہ کرنے کے لیے طرح طرح کے بہانے کرتا ہے اور آئے دن کوئی نہ کوئی عذر لِنگ پیش کر کے ساتھیوں کویہ فریب دینے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے کام نہ کرنے کا اصل سبب مقصد سے لگاؤ اور دلچسپی میں کمی نہیں ہے بلکہ واقعی رکاوٹیں اس کی راہ میں حائل ہیں۔ یہ گویا سُستی کی مدد پر جُھوٹ کو بُلانا ہے اور یہاں سے اس آدمی کا اخلاقی تنزّل شروع ہو جاتا ہے‘ جس نے اوّل اوّل صرف ترقی کی بلندیوں پر چڑھناچھوڑ دیا تھا۔

تیسرا قدم: بد دِلی

یہ حیلہ جب پرانا ہو کر بیکار ہونے لگتا ہے اور آدمی کو خطرہ ہوتا ہے کہ اَب اصل کمزوری کا راز فاش ہوا چاہتا ہے تو وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ دراصل کمزوری کی وجہ سے سُست نہیں ہوا ہے بلکہ جماعت کی کچھ خرابیوں نے اسے بددل کر دیا ہے۔ گویا آپ خود تو بہت کچھ کرنا چاہتے تھے مگر کیا کریں‘ ساتھیوں کے بگاڑ نے دل توڑ کر رکھ دیا۔ اس طرح یہ گرتا ہوا انسان جب ایک قدم نہیں جما سکتا تو اور زیادہ نیچے اتر جاتا ہے اور اپنی کمزوری کو چھپانے کی خواہش اُسے یہ مظلمہ اپنی گردن پر لینے کے لیے آمادہ کر دیتی ہے‘ کہ جس کام کو بنانے کے قابل وہ نہ رہا تھا‘ اسے اب بگاڑنے کی کوشش شروع کر دے۔

ابتدائی مرحلے میں یہ بددلی کا معاملہ مُجمل رہتا ہے‘ کچھ پتا نہیں چلتا کہ حضرت کیوں بدلے ہیں‘ خرابیوں کی مبہم شکایتیں دبی زبان سے ظاہر ہوتی ہیں‘ مگر ان کی کوئی تفصیل معلوم نہیں ہوتی‘ ساتھی اگر حکمت سے کام لیں اور اصل مرض کو سمجھ کر اس کا مداوا کرنے کی فکر کریں تو یہ گرتا ہوا شخص مزید گرنے سے رک بھی سکتا ہے اور اوپر اٹھایا بھی جاسکتا ہے لیکن اکثر نادان دوست کچھ بے جا جوش کی وجہ سے اور کچھ اپنے جذبہ استعجاب کی تسکین کی خاطر کھوج کرید شروع کر دیتے ہیں اور اسے اس اجمال کی تفصیل بیان کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی بددلی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے ہر طرف نظر دوڑاتا ہے‘ مختلف افراد کی انفرادی کمزوریاں چُن چُن کر جمع کرتا ہے۔ جماعت کے نظام اور اس کے کام میں نقائص ڈھونڈتا ہے اور ایک فہرست بنا کر سامنے رکھ دیتا ہے کہ یہ ہیں وہ خرابیاں‘ جنہیں دیکھ دیکھ کر آخرِ کار یہ خاکسار بددل ہو گیا ہے۔ یعنی اس کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ مجھ جیسا مردِ کامل جو سب کمزوریوں سے پاک تھا‘ ان کمزور ساتھیوں اور اِن نقائص سے لبریز جماعت کے ساتھ کس طرح آگے چل سکتا ہے اور یہ طرزِ استدلال اختیار کرتے وقت شیطان اسے یہ بات بھلا دیتا ہے کہ اگر واقعی معاملہ یہ تھا تو سُست پڑنے کے بجائے یہ تو اور زیادہ سرگرم ہونے کا متقاضی تھا‘ جس کام کو آپ اپنی زندگی کا نصب العین ٹھہرا کر انجام دینے کے لیے اٹھے تھے‘ اسے دوسرے اپنی خامیوں سے بگاڑ رہے تھے‘ تو آپ اور زیادہ جوش و خروش کے ساتھ اسے بنانے میں لگ جاتے اور اپنی خوبیوں سے دوسروں کی ان خامیوں کا تدارک فرماتے۔ آپ کے گھر میں آگ لگی ہو اور گھر کے دوسرے اَفراد اسے بُجھانے میں کوتاہی برتیں تو آپ بددل ہو کر بیٹھ جائیں گے یا جلتے ہوئے کو بچانے کے لیے اُن کوتاہ دستوں سے بڑھ کر چابُک دستی دکھائیں گے۔

اس معاملہ کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے اور اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش میں خود اپنے نامۂ اعمال کا سارا حساب دوسروں کے نامہ اعمال میں درج کر ڈالتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ نامہ ہائے اعمال کا کوئی ریکارڈ ایسا بھی ہے‘ جس میں کسی کی مکّاری سے ایک شوشہ بھی نہیں بدل سکتا۔ وہ دوسروں کے نامۂ اعمال میں بہت سی کمزوریاں گِنواتا ہے‘ جن میں وہ خود مبتلا ہوتا ہے۔ وہ جماعت کے کردار میں بہت سی ان خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے‘ جن کے پیدا کرنے میں اس کا اپنا حصہ دوسروں سے کم نہیں‘ کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے‘ وہ ان کاموں پر سراپا شکایت بنا ہوا نظر آتا ہے‘ جو اس کے اپنے کیے ہوئے ہوتے ہیں اور جب وہ کہتا ہے کہ یہ کچھ دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ گیا ہے تو اس کے معنی صاف یہ ہوتے ہیں کہ ان سب چیزوں سے وہ خود بری الذّمہ ہے۔

کوئی انسانی جماعت کمزوریوں سے خالی نہیں ہوتی‘ نہ کوئی انسانی کام نقائص سے پاک ہوتا ہے۔ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی ہو سکتا ہے کہ انسانی معاشرے کی اصلاح و تعمیر کے لیے فرشتے فراہم ہوں اور سارا کام معیار کمال کے مطابق کریں‘ کمزوریاں ڈھونڈیئے‘ تو کہاں نہ مل جائیں گی‘ نقائص تلاش کیجئے تو کس جگہ وہ نہ پائے جائیں گے۔ انسانی کام کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ ہی ہوا کرتے ہیں اور معیارِ کمال پر پہنچنے کی ساری کوششوں کے باوجود کسی ایسی حالت پر پہنچنے کی کم از کم اس دنیا میں امید نہیں کی جاسکتی‘ جہاں انسان اور اس کا کام سُبّوح و قُدّوس ہو جائے۔

اِس حالت میں اگر کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی اس غرض کے لیے ہو کہ انہیں رفع کرنے اور معیارِ کمال کی طرف بڑھنے کے لیے مزید جدوجہد کی جائے تو اس سے زیادہ مبارک کام کوئی نہیں‘ انسانی کاموں میں جو اصلاح و ترقی بھی ممکن ہے‘ اسی طریقے سے ممکن ہے اور اس سے غفلت تباہ کن ہے‘ لیکن اگر انفرادی کمزوریاں اور اجتماعی خامیاں اس لیے تلاش کی جائیں کہ انہیں کام نہ کرنے اور بَددل ہو کر بیٹھ جانے کے لیے بہانہ بنانا ہو تو یہ خالص شیطانی وسوسہ اور نفس امّارہ کا مکر ہے‘ یہ بہانہ بہتر سے بہتر ممکن حالات میں بھی ہر حیلہ جُو انسان کو مل سکتا ہے اور اس بہانے کا سدِّباب اس وقت تک نہیں ہو سکتا۔ جب تک فرشتوں کی کوئی ٹولی انسانی جماعتوں کی جگہ لینے کے لیے نہ آجائے اور اس بہانے کو پیش کرنا کسی ایسے شخص کو زیب نہیں دیتا جو خود کمزوریوں اور خامیوں سے اپنی ذاتِ اَقدس کے پاک ہونے کا ثبوت مہیا نہ کر دے۔ اس طرح کی باتوں کا حاصل کبھی یہ نہیں ہوتا کہ کوئی کمزوری دور ہو یا کوئی خامی رفع ہو جائے‘ بلکہ یہ کمزوریوں اور خامیوں کو بڑھانے کا مُجرّب نسخہ ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص یہ راہ اختیار کر کے اپنے گرد و پیش کے دوسرے ضعیف الارادہ لوگوں کے لیے ایک غلط مثال بن جاتا ہے۔ وہ ان سب کو یہ راہ دکھا دیتا ہے کہ اپنے ضُعفِ کا اعتراف کر کے نکّو بننے سے بچیں اور خود اپنے نفس کو بھی فریب دے کر مطمئن کریں۔ اس کی پیروی میں ہر بے عمل آدمی بَددلی کا ڈھونگ رچانے لگتا ہے اور اس بَددلی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے ساتھیوں کی کمزوریاں اور جماعت کی خامیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک فہرست تیار کرنی شروع کر دیتا ہے پھر اس سے بدی کا ایک چکر چل پڑتا ہے۔ ایک طرف جماعت میں عیب چینی و خوردہ گیری اور الزام و جواب الزام کی ایک وبا پھوٹ پڑتی ہے جو اس کے اخلاقی مزاج کا ستیاناس کر دیتی ہے۔ دوسری طرف اچھے خاصے سرگرم عمل اور مخلص آدمی جو کسی ضُعفِ ارادہ میں مبتلا نہ تھے‘ کمزوریوں اور خامیوں کے اس چرچے سے متاثر ہو کر بَددلی کا شکار ہو جاتے ہیں اور جب اس مرض کی روک تھام کے لیے کچھ کیا جاتا ہے تو بَددلوں کا ایک بلاک بننے لگتا ہے۔ بَددلی ایک مسلک اور تحریک کی شکل اختیار کرتی ہے۔ بَددل ہونا‘ بَددل کرنا اور بَددلی کے حق میں دلائل فراہم کرنا بجائے خود ایک کام بن جاتا ہے اور جو لوگ اصلی مقصد کے لیے کام کرنے میں سُست ہو چکے تھے‘ وہ اس کام میں خوب چُستی دکھانے لگتے ہیں‘ یوں ان کی مری ہوئی دلچسپی زندہ ہوتی ہے۔ مگر اس شان کے ساتھ کہ اس کا زندہ ہونا اس کی موت سے زیادہ افسوسناک ہوتا ہے۔

یہ ایک خطرہ ہے‘ جس سے ہر اس جماعت کو خبردار رہنا چاہیے جو اصلاح و تعمیر کی سعی کے لیے اٹھے اور اس کے کارکنوں اور کار فرماؤں کو ضُعفِ ارادہ کے نقصانات اور اس کی بسیط و مرکب صورتوں کے فرق اور ان میں سے ہر ایک کے اثرات و نتائج سے اچھی طرح واقف ہونا چاہیے اور اس کے ابتدائی آثار نمودار ہوتے ہی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔

ضعفِ ارادہ بسیط اور تدابیر

ضُعف ارادہ بسیط یہ ہے کہ جماعت میں کوئی شخص اس کام کو برحق اور اس کا بیڑہ اٹھانے والی جماعت کو صحیح مانتے ہوئے عملاً سستی اور دلچسپی میں کمی دکھانی شروع کر دے۔ اس صورت کے رونما ہوتے ہی چند تدبیریں اختیار کرنی چاہییں۔

ایک یہ کہ ایسے شخص کے حالات کی تحقیق کر کے یہ معلوم کیا جائے کہ اس کی سستی کی وجہ آیا ضُعفِ ارادہ ہی ہے یا کچھ حقیقی مشکلات ہیں‘ جو اسے سست کر رہی ہیں‘ اگر حقیقی مشکلات پائی جائیں تو جماعت کو ان سے باخبر ہونا چاہیے تاکہ انہیں رفع کرنے میں ایک رفیق کی مدد بھی کی جائے اور اس کی سستی دوسروں کی نگاہ میں کوئی غلط معنی نہ پہن سکے‘ نہ کسی کے لیے غلط نظیر بن سکے اور اگر اصل سبب ضُعفِ ارادہ ہی متحقق ہو تو بھونڈے طریقوں سے اجتناب کرتے ہوئے حکمت کے ساتھ ایسے شخص کے معاملے کو جماعت کے سامنے ان لوگوں کے معاملے سے ممیز ہو جانا چاہیے‘ جو حقیقی مشکلات کی وجہ سے کام میں سرگرم نہ ہوں۔

دوسرے یہ کہ ضعیف الارادہ آدمی کی حالت جس وقت بھی نوٹس میں آئے۔ اس کے ضُعفکو تذکیر و تلقین اور نصیحت کے ذریعے سے دور کرنے کی کوشش کر دینی چاہیے۔ خصوصیت کے ساتھ جماعت کے بہتر آدمیوں کو اس کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ اس کے مرتے ہوئے جذبے کو اُکسائیں اور عملاً اسے اپنے ساتھ لگا کر حرکت میں لانے کی سعی کریں۔

تیسرے یہ کہ ایسے شخص کو ٹوکتے رہنا چاہیے تاکہ جماعت میں اس طرح کی سستی اور بے عملی ایک معمولی چیز نہ بن جائے اور دوسرے لوگ ایک دوسرے کا سہارا لے کر بیٹھتے نہ چلے جائیں اور جماعت کے اندر وقتاً فوقتاً اس امر کا محاسبہ ہوتا رہے کہ کون وقت اور محنت اور مال کا کتنا ایثار کر سکتا ہے اور کتنا کر رہا ہے اور کس کی کارگذاری اس کی واقعی استعداد سے کیا نسبت رکھتی ہے تو یہ پھر اس شخص کے لیے کسی نہ کسی حد تک خجالت کا موجب ہو گا جو محاسبہ کی میزان میں ہلکا اتر رہا ہو اور یہ خجالت لوگوں کو سست پڑنے سے روکتی رہے گی۔ لیکن یہ محاسبہ اس انداز سے نہ ہونا چاہیے کہ بسیط ضُعفِ ارادہ کا مریض مرکب ضُعفِ ارادہ میں مبتلا ہو جائے۔ حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک شخص میں جو کمزوری پیدا ہو رہی ہے‘ اسے اگر رفع نہ کیا جاسکے تو کم از کم بڑھنے نہ دیا جائے۔ نادانی کے ساتھ ضرورت سے زیادہ جوش دکھانے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ برائی میں پڑا ہوا آدمی اس سے شدید تر برائی کی طرف زبردستی دھکیل دیا جاتا ہے۔

ضعفِ ارادہ مرکب اور تدابیر

ضُعفِ ارادہ مرکب یہ ہے کہ آدمی اپنی کمزوری پر جھوٹ اور مکر کے پردے ڈالنے کی کوشش کرے اور بڑھتے بڑھتے یہ ثابت کرنے کی کوشش پر اتر آئے کہ خرابی اس میں نہیں ہے بلکہ جماعت میں ہے۔ یہ محض ایک کمزوری نہیں ہے بلکہ ایک بداخلاقی ہے جسے کسی ایسی جماعت میں پھلنے پھولنے نہ دینا چاہیے جو اخلاقی بنیادوں ہی پر دنیا کی اصلاح کرنا چاہتی ہو۔

اس کا پہلا درجہ یہ ہے کہ آدمی کام نہ کرنے کے لیے جھوٹے عذرات اور بے بنیاد بہانے پیش کرے‘ اس چیز سے چشم پوشی کرنا خود اس شخص سے بھی بے وفائی ہے‘ جس میں یہ اخلاقی عیب ابھرتا آرہا ہو اور اس جماعت سے بھی بے وفائی ہے‘ جس کے ساتھ بہت سے لوگوں نے ایک مقصدِ عظیم کی خاطر جان و مال کی بازی لگائی ہو۔ ایسی جماعت میں شریک ہونے والے ہر شخص کے اندر کم از کم اتنی اخلاقی جرأت اور ضمیر کی زندگی ہونا چاہیے کہ اگر اپنے جذبے کی کمزوری کے باعث وہ کام نہ کرے تو صاف صاف اپنی کمزوری کا اعتراف کرے۔ اعترافِ قصور کے ساتھ ایک شخص کا عمر بھر اس کمزوری میں مبتلا رہنا اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ وہ ایک مرتبہ بھی اس کو چُھپانے کے لیے جھوٹے بہانوں سے مدد لے۔ یہ عیب جب بھی ظاہر ہو اس پر سرزنش ہونا چاہیے اور کبھی اس کی ہمت افزائی نہ کی جانی چاہیے۔ علیحدگی میں سرزنش کرنے پر وہ اس طریقے سے باز نہ آئے تو اعلانیہ جماعت میں اسے ملامت کی جائے اور ان عذرات کی حقیقت کھول دی جائے‘ جنہیں وہ اپنے لیے حُجت بنا رہا ہو‘ اس میں تساہل برتنے کے معنی یہ ہیں کہ جماعت کے اندر ان خرابیوں کا دروازہ کھول دیا جائے‘ جن کی تفصیل ہم ابھی اوپر بیان کر آئے ہیں۔

اس کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ ایک کوتاہ عمل اور سست کار آدمی اپنی اس حالت کے لیے جماعت کے افراد کی کمزوریوں اور جماعت کے کام اور نظام کی خامیوں کو ذمہ دار ٹھہرائے اور انہیں اپنی بَددلی کا سبب قرار دے۔ یہ درحقیقت خطرے کی سُرخ جھنڈی ہے‘ جو اس بات کا پتا دیتی ہے کہ اب یہ شخص فتنہ پردازی کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ اس موقع پر اس سے بددلی کے اسباب کی تفصیل پوچھنا غلط ہے۔ یہ سوال اس سے کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اسے اس فتنہ کے راستے پر چلا دیا جائے‘ جس کے سرے پر ابھی وہ پہنچا ہے۔ یہاں اُسے عیب چینی کا اِذنِ عام دینے کے بجائے اس کے دوستوں کو اسے خدا سے ڈرانا چاہیے اور اس کو شرم دلانا چاہیے کہ خود ایک ناقص کارنامہ اور خام کردار لے کر وہ کس منہ سے دوسروں پر تنقید کی جسارت کر رہا ہے۔ محنت کرنے والے‘ خدمت میں سرگرمی دکھانے والے‘ وقت اور مال کا ایثار دکھانے والے اگر تیری کوتاہی عمل کو اپنے لیے بددلی کا موجب ٹھہرائیں تو حق بجانب ہوں گے‘ مگر تو کہاں بددلی کا رُوپ دھارنے چلا ہے‘ جبکہ بددل کرنے والی خرابیوں کو پیدا کرنے میں تیرا اپنا حصہ دوسروں سے بڑھ کر ہی ہے اور کام خراب کرنے میں تیرا اپنا عمل دوسروں کے لیے نظیر بن رہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایسی تمام کمزوریاں اور خامیاں جماعت کے علم میں ضرور آنی چاہییں اور جماعت کو بھی کبھی ان کے جاننے سے کترانا اور ان کی اصلاح کی سعی سے منہ نہ موڑنا چاہیے۔ لیکن انہیں بیان کرنا جماعت کے ان سرگرم خادموں کا کام ہے جو سب سے بڑھ کر خدمت میں جان لڑانے والے ہوں۔ وہی اس کا حق رکھتے ہیں اور وہی ایمانداری کے ساتھ تنقید کر بھی سکتے ہیں۔ کسی اخلاقی تحریک میں اس بے حیائی کی ہمت افزائی نہ کی جانی چاہیے کہ کام چور لوگ جو خدمت میں سست اور کردار میں خام ہوں‘ وہ لمبی زبان لے کر جماعت کی خامیاں اور کمزوریاں بیان کرنے لگیں۔ ایسی تحریک میں ان کا صحیح مقام شرمندگی و ندامت اور اعترافِ قصور کا ہے۔ ناقد اور مُصلح کا نہیں ہے۔ اس مقام پر اگر وہ خود آکر کھڑے ہوں تو یہ سخت اخلاقی بیماری کی علامت ہے اور اگر جماعت میں ان کے لیے یہ مقام تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ جماعت پر اخلاقی دیوالیہ پن مسلط ہو رہا ہے۔

اس سلسلے میں یہ اصولی بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ایک محرک اور متحرک جماعت کے لیے اس کے تندرست اعضاء کے احساسات کچھ اور معنی رکھتے ہیں اور بیمار اعضاء کے احساسات کچھ اور معنی۔ اس کے تندرست اعضاء وہ ہیں‘ جو اپنے کام کی دھن میں لگے ہوئے ہوں‘ اپنا تن من دھن سب کچھ انہوں نے اس کام میں لگا دیا ہو اور جن کا نامۂ اعمال یہ بتا رہا ہو کہ وہ اپنی حدِّ استطاعت تک خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں کر رہے ہیں۔ بیمار اعضاء وہ ہیں‘ جنہوں نے کبھی اپنی حدِّ وسع کے مطابق خدمت کا حق ادا نہ کیا ہو یا جو کچھ عرصہ تک سرگرم رہنے کے بعد ٹھنڈے پڑ چکے ہوں اور جن کا نامۂ اعمال ان کی کوتاہیوں کا صریح ثبوت دے رہا ہو۔ ان دونوں کے احساسات میں وہی فرق ہے جو تندرست آنکھ اور بیمار آنکھ کی بینائی میں ہوتا ہے۔ جماعت اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا اگر صحیح اندازہ کر سکتی ہے تو صرف اپنے تندرست اعضاء ہی کے احساسات کے واسطے سے کر سکتی ہے۔ وہ اَعضاء جو کام نہ کر رہے ہوں اور کام چھوڑنے کے لیے اپنی بَددلی کا خود اظہار کر رہے ہوں‘ کبھی اس کا قابلِ اعتماد واسطہ نہیں بن سکتے۔ ان کے اِحساسات اگر ۱۰۰فیصد نہیں تو ۸۰۔۹۰ فیصد گمراہ کن ہوں گے اور جو جماعت خودکشی نہ کرنا چاہتی ہو‘ وہ ہرگز ان کے دیئے ہوئے احساسات پر اپنے نتائج کی بناء نہیں رکھ سکتی۔ یہ خیال کرنا کہ کمزوریاں اور خامیاں جو بھی سامنے لاکر رکھ دے‘ بس گڑگڑا کر ہمیں ان کے آگے توبہ استغفار شروع کر دینی چاہیے اور پھر انہی پر اپنے اندازوں کی بناء رکھ کے یہ فیصلہ بھی کر ڈالنا چاہیے کہ ہم کیا کچھ کرنے کے قابل ہیں اور کیا کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں‘ نیکی تو ہو مگر عقل مندوں کی نہیں‘ سادہ لوح اور مُغفِل لوگوں کی نیکی ہے اور دنیا میں اس طرح کے نیک لوگوں نے نہ پہلے کچھ بنایا ہے اور نہ اب کچھ بنا سکتے ہیں۔ اپنے کمال کے زعم میں مبتلا ہو جانا جتنی بڑی نادانی ہے‘ یہ بھی اس سے کچھ کم نادانی نہیں کہ اپنے نقائص اور اپنی قوّتِ کار کا اندازہ ہر کس و ناکس کے بیان پر کر ڈالا جائے اور یہ نہ دیکھا جائے کہ بیان کرنے والا کس حد تک صحیح صورتحال سمجھنے اور بیان کرنے کا اہل ہے۔

ایک اور بات جو اس مقام پر خوب سمجھ لینے کی ہے‘ وہ یہ ہے کہ ایک مقصد کے لیے کام کرنے والی جماعت کو اپنے سامنے اخلاق اور صلاحیتِ کار کے دو معیار رکھنے ہوتے ہیں۔ ایک معیارِ مطلوب‘ یعنی وہ انتہائی بلند معیار جس تک پہنچنے کی مسلسل جدوجہد جاری رہنی چاہیے۔ دوسرا کم سے کم قابلِ عمل ہونے کا معیار جس کو لے کر کام چلایا جاسکتا ہو اور جس سے نیچے گر جانا قابلِ برداشت نہ ہو۔ ان دونوں قسموں کے معیاروں کے معاملے میں مختلف ذہنوں کے لوگ مختلف طرز اختیار کرتے ہیں۔

ایک ذہن اصل مقصد کے لیے کام کرنے کو چَنداں اہمیت نہیں دیتا‘ کام بنے یا بگڑے یا بالکل ختم ہو جائے۔ یہ اس کے لیے کوئی زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہوتا‘ وہ اس کام کو چھوڑ کر بھی مزے سے جی سکتا ہے اور کام میں شریک رہ کر بھی اس طرح شرکت کر سکتا ہے کہ اس کے مال اور قوتوں کو جونک نہ لگنے پائے۔ یہ ذہن بسا اوقات فکر و نظر کی عیاشی کے طور پر اور کبھی اپنے فرار کے لیے پرفریب معذرت کے طور پر اخلاق کے آسمانوں پر اڑتا ہے اور معیارِ مطلوب سے کم پر کسی طرح مطمئن نہیں ہوتا۔ اس سے کم جو کچھ بھی نظر آتا ہے‘ اس پر وہ بڑی بے چینی اور بَددلی کا اظہار کرتا ہے۔ مگر یہ بے چینی کام کے لیے نہیں بلکہ کام سے فرار کے لیے ہوتی ہے‘ خواہ یہ فراری ذہنیت شعوری ہو یا غیرشعوری۔

دوسرا ذہن اگرچہ مقصد اور اس کے لیے کام کرنے کو بڑی اہمیت بلکہ پوری اہمیت دیتا ہے۔ مگر تخیّل پرستی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے معیارِ مطلوب اور کم از کم قابلِ عمل ہونے کے معیار کا فرق ٹھیک ٹھیک ملحوظ نہیں رکھتا‘ یہ خود بھی بار بار الجھن میں پڑتا ہے اور پہلے قسم کے ذہن کی چھوت بڑی آسانی سے اس کو لگ جاتی ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو بھی پریشان کرتا ہے اور کام کرنے والوں کے لیے اچھی خاصی پریشانیوں کا موجب بن جاتا ہے۔

تیسرا ذہن وہ ہوتا ہے جسے مقصد کے لیے کام کرنا اور کام چلانا ہوتا ہے اور جسے اس کام کے بناؤ اور بگاڑ کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اسے اس کا مقام خود ہی اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ ہر وقت دونوں قسموں کے معیاروں کا ٹھیک ٹھیک فرق ملحوظ رکھتے ہوئے کام کرے اور یہ دیکھتا رہے کہ مقصد کی طرف پیش قدمی کی رفتار کسی معقول اور وزنی سبب کے بغیر متاثر نہ ہونے پائے۔ وہ معیارِ مطلوب کو کبھی فراموش نہیں کرتا۔ اس تک پہنچنے کی فکر سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ اس سے گری ہوئی ہر چیز پر سخت تشویش محسوس کرتا ہے مگر کم سے کم قابلِ عمل معیار سے کام چلاتا رہتا ہے اور اس معیار سے گر جانے والے لوگوں کی وجہ سے اپنی اسکیم بدلنے کے بجائے انہیں ہٹا کر پھینک دینا زیادہ پسند کرتا ہے۔ اس کے لیے اپنی طاقت کا صحیح اندازہ لگانا اور اس کے مطابق کام کے پھیلاؤ اور اس کی رفتار میں کمی بیشی کرنا تو بے شک ضروری ہے۔ اس میں وہ غلطی کر جائے تو اپنے مقصد کو نقصان پہنچا دے‘ لیکن سخت نادان ہو گا وہ شخص جو اس چیز کا اندازہ لگانے میں پہلی اور دوسری قسم کے ذہنوں سے رہنمائی حاصل کرے‘ اس کے لیے اگر مددگار ہو سکتے ہیں تو تیسری قسم کے ذہن ہی ہو سکتے ہیں اور ان کی معرفت اسے حاصل ہونا چاہیے۔

خلاصۂ کلام: قربانیٔ نفس اور حبِّ الٰہی

یہ راہِ خدا پرستی تو سب سے پہلے جذباتِ نفس ہی کی قربانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ دوسری چیزوں کی قربانیوں کا موقع بعد میں آتا رہے گا۔ سب سے پہلے اس شے کو لاکر بھینٹ چڑھاؤ۔ تمہیں نہ صرف جانیں کھپانی اور اپنی دولتیں نثار کرنی ہیں۔ بلکہ برائیوں کو بھلائیوں سے دور کرنا ہے۔ گالیاں سن کر دعائیں دینا ہے۔ دشمن دلوں کو اخلاص و دولت سے مسخّر کرنا ہے۔ اﷲ اور اس کے بندوں کے حقوق کو بہرحال ادا کرنا ہے۔ معاملات میں بے لاگ حق پرستی کی راہ پر چلنا ہے اور بہ تقاضاے حق اپنے اعزّہ کے خلاف، اپنے ماں باپ کے خلاف، حتیٰ کہ خود اپنے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ زندگی کے آخری لمحوں تک دینِ حق کی اِطاعت و اِقامت کی ہمہ وقتی سرگرمیوں میں مصروف رہنا ہے اور پھر یہ کہ یہ سب کچھ بغیر کسی دُنیوی مفاد کی ہوس کے کرنا ہے۔۔۔ شہرت کی تمناؤں سے‘ دولت و اقتدار کی امیدوں اور خواہشوں سے‘ تحسین و آفرین کی آرزوؤں سے‘ قائدانہ مقبولیت کی اُمنگوں سے، غرض ہر اُس شے سے دل و دماغ کو پاک رکھ کر کرنا ہے جو کہ نفسِ انسانی کو مرغوب ہو سکتی ہے۔ غور فرمائیے جس وقت انسان ’’جرمِ خدا پرستی‘‘ کی بناء پر مشکلات اور مصائب کے نرغہ میں ہو گا‘ اس وقت اس کے بیٹھتے ہوئے قلب کو سہارا کہاں سے نصیب ہو گا؟

یہ سرچشمۂ قوت صرف ذاتِ الٰہی کی محبت ہے۔ کسی حقیقت کا مُجرّد علم و اِعتراف مُشکلات سے شکست کھا سکتا ہے اور روزانہ کھاتا ہی رہتا ہے۔ مگر محبت نے کبھی یہ ننگ گوارا نہیں کیا ہے۔ اس لیے مومن کا ایمان ہی اگر علم و اِعتراف کی حدوں سے آگے نہیں بڑھا ہے تو مُشکلات کے موقع پر یا تو اس کا نفس کسی مرغوب شے کی رشوت کا طالب ہو گا‘ یا اِس رشوت کے نہ ملنے کی صورت میں وہ مصلحتیں تراش کر فرار کی راہیں ڈھونڈے گا۔ اُس سے ہر گز یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے سابق فیصلے اور ایمان کے تقاضوں پر جَما رہے گا اور ہرحال میں اپنی منزلِ مقصود کی سمت پیش قدمی کرتا رہے گا۔ لیکن اگر یہ ’’علم و اعتراف‘‘ محبت کا رنگ اختیار کر چکا ہے تو نہ وہ رشوت چاہے گا‘ نہ مصلحت ڈھونڈے گا‘ نہ شکست تسلیم کرے گا۔ اگر کوئی دنیوی لالچ اس کی تسکینِ باطل کا سامان نہیں فراہم کرتا‘ تو نہ سہی‘ اس نے کب اِس کے آسرے اِس سعی و جُہد کا آغاز کیا ہے۔ وہ تو یہ مساعی اس لیے انجام دے رہا ہے کہ اس کے محبوبِ حقیقی کی خوشنودیٔ مزاج سے بڑھ کر اور کیا صلہ‘ یا تسکینِ باطن کا اور کیا سامان ہو سکتا ہے‘ جس کی ضرورت کا احساس یا جس کی تمنا کی جائے۔