اسلام اور جاہلیت

یہ مقالہ ۲۳ فروری ۱۹۴۱ء کو مجلسِ اسلامیات‘ اسلامیہ کالج‘ پشاور کی دعوت پر پڑھا گیا تھا

انسان کو دنیا میں جتنی چیزوں سے سابقہ پیش آتا ہے ان میں کسی کے ساتھ بھی وہ کوئی معاملہ اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ اس چیز کی ماہیت و کیفیت اپنے اور اس کے باہمی تعلق کے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کرے۔ اس سے بحث نہیں کہ وہ رائے بجائے خود صحیح ہو یا غلط‘ مگر بہرحال اسے ان امور کے متعلق کوئی نہ کوئی رائے ضرور قائم کرنا پڑتی ہے اور جب تک وہ کوئی رائے قائم نہیں کرلیتا یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ میں اس کے ساتھ کیا طرزِ عمل اور کیا رویہ اختیار کروں۔ یہ آپ کا شب و روز کا تجربہ ہے آپ جب کسی شخص سے ملتے ہیں تو آپ کو یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ شخص کون ہے‘ کس حیثیت‘ کس مرتبے کن صفات کا آدمی ہے‘ اور مجھ سے اس کا تعلق کس نوعیت کا ہے۔ اس کے بغیر آپ یہ طے کر ہی نہیں سکتے کہ آپ کو اس کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا ہے۔ اگر علم نہیں ہوتا تو بہرحال آپ کو قرائن کی بنا پر ایک قیاسی رائے ہی ان امور کے متعلق قائم کرنی پڑتی ہے اور جو رویہ بھی آپ اس کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ اسی رائے کی بنا پر کرتے ہیں جو چیزیں آپ کھاتے ہیں ان کے ساتھ آپ کا یہ معاملہ اسی وجہ سے ہے کہ آپ کے علم یا آپ کے قیاس میں وہ چیزیں غذائی ضرورت پوری کرتی ہیں جن چیزوں کو آپ پھینک دیتے ہیں‘ جن کو آپ استعمال کرتے ہیں‘ جن کی آپ حفاظت کرتے ہیں‘ جن کی آپ تعظیم یا تحقیر کرتے ہیں‘ جن سے آپ ڈرتے یا محبت کرتے ہیں‘ ان سب کے متعلق آپ کے یہ مختلف طرز عمل بھی اس رائے پر مبنی ہوتے ہیں جو آپ نے ان چیزوں کی ذات و صفات اور اپنے ساتھ ان کے تعلق کے بارے میں قائم کی ہے۔

پھر جو رائے آپ اشیا کے متعلق قائم کیا کرتے ہیں اس کے صحیح ہونے پر آپ کے رویہ کا صحیح ہونا اور غلط ہونے پر آپ کے رویہ کاغلط ہونا منحصر ہوتا ہے۔ اور خود اس رائے کی غلطی و صحت کا مدار اس چیز پر ہوتا ہے کہ آیا آپ نے وہ رائے علم کی بنا پر قائم کی ہے‘ یا قیاس پر‘ یا وہم پر‘ یا محض مشاہدہ حسی پر۔ مثلاً ایک بچہ آگ کو دیکھتا ہے اور مجرد مشاہدہ حسی کی بنا پر یہ رائے قائم کرتا ہے کہ یہ بڑا خوبصورت چمک دار کھلونا ہے۔ چنانچہ اس رائے کے نتیجہ میں اس سے یہ طرز عمل ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھادیتا ہے۔ ایک دوسرا شخص اسی آگ کو دیکھ کر وہم سے یا قیاس سے یہ رائے قائم کرتا ہے کہ اس کے اندر الوُہیّت ہے‘ یا یہ الوُہیّت کامظہر ہے۔ چنانچہ اس رائے کی بنا پر وہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کے ساتھ میرا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ میں اس کے آگے سرنیاز جھکادوں۔ ایک تیسرا شخص اسی آگ کو دیکھ کر اس کی ماہیت اور اس کی صفات کی تحقیق کرتا ہے اور علم و تحقیق کی بنا پر یہ رائے قائم کرتا ہے کہ یہ پکانے اور جلانے اور تپانے والی ایک چیز ہے‘ اور میرے ساتھ اس کا تعلق وہ ہے جو ایک مخدوم کے ساتھ خادم کا تعلق ہوتا ہے۔ چنانچہ اس رائے کی بنا پر وہ آگ کو نہ کھلونا بناتا ہے‘ نہ معبود بلکہ اس سے حسب موقع پکانے اور جلانے اور تپانے کی خدمت لیتا ہے۔ ان مختلف رویوں میں سے بچے اور آتش پرست کے رویئے جاہلیت کے رویئے ہیں‘ کیونکہ بچے کی یہ رائے کہ آگ محض کھلونا ہے تجربہ سے غلط ثابت ہوجاتی ہے‘ اور آتش پرست کی یہ رائے کہ آگ خود الٰہ ہے یا مظہرِ الوُہیّت ہے کسی ثبوتِ علمی پر مبنی نہیں بلکہ محض قیاس و وہم پر مبنی ہے بخلاف اس کے آگ سے خدمت لینے والے کا رویہ علمی رویہ ہے۔ کیونکہ آگ کے متعلق اس کی رائے علم پر مبنی ہے۔

زندگی کے بنیادی مسائل:

اس مقدمہ کے ذہن نشین کرنے کے بعد اب ذرا اپنی نظر کو جزئیات سے کلیات پر پھیلائیے۔ انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو موجود پاتا ہے۔ اس کے پاس ایک جسم ہے جس میں بہت سی قوتیں بھری ہوئی ہیں۔ اس کے سامنے زمین و آسمان کی ایک عظیم الشان بساط پھیلی ہوئی ہے جس میں بے حد و حساب اشیا ہیں اور وہ ان اشیا سے کام لینے کی قدرت اپنے اندر پاتا ہے۔ اس کے گرد و پیش بہت سے انسان‘ جانور‘ نباتات‘ جمادات وغیرہ ہیں اور ان سب سے اس کی زندگی وابستہ ہے۔ اب کیا آپ کے نزدیک یہ بات قابلِ تصور ہے کہ وہ ان چیزوں کے ساتھ کوئی رویہ اختیار کرسکتا ہے جب تک کہ پہلے خود اپنے بارے میں‘ ان تمام موجودات کے بارے میں‘ اور ان کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کرلے؟ کیا وہ اپنی زندگی کے لیے کوئی راستہ اختیار کرسکتا ہے جب تک یہ طے نہ کرلے کہ میں کون ہوں؟ کیا ہوں؟ ذمہ دار ہوں یا غیر ذمہ دار؟ خودمختار ہوں یا ماتحت؟ ماتحت ہوں تو کس کا‘ اور جواب دہ ہوں تو کس کے سامنے؟ میری اس دنیوی زندگی کا کوئی مآل ہے یا نہیں اور ہے تو کیا ہے؟ اسی طرح کیا وہ اپنی قوتوں کے لیے کوئی مصرف تجویز کرسکتا ہے جب تک اس سوال کا فیصلہ نہ کرلے کہ یہ جسم اور جسمانی قوتیں اس کی اپنی مِلک ہیں یا کسی کا عطیہ ہیں؟ ان کا حساب کوئی لینے والا ہے یا نہیں؟ اور ان کے استعمال کا ضابطہ اسے خود متعین کرنا ہے یا کسی اور کو؟ اسی طرح کیا وہ اپنے گرد و پیش کی اشیا کے متعلق کوئی طرز عمل اختیار کرسکتا ہے جب تک اس امر کا تعین نہ کرلے کہ ان اشیا کا مالک وہ خود ہے یا کوئی اور؟ ان پر اس کے اختیارات محدود ہیں یا غیر محدود؟ اور محدود ہیں تو حدود مقرر کرنے والا کون ہے؟ اسی طرح کیا وہ آپس میں اپنے ابنائے نوع کے برتاؤ کی کوئی شکل متعین کرسکتا ہے جب تک اس معاملہ میںکوئی رائے قائم نہ کرلے کہ انسانیت کس چیز سے عبارت ہے؟ انسان اور انسان کے درمیان فرق و امتیاز کی بنیاد کیا ہے؟ اور دوستی و دشمنی‘ اتفاق و اختلاف‘ تعاون اور عدمِ تعاون کی اساس کن امور پر ہے؟ اسی طرح کیا وہ بحیثیت مجموعی اس دنیا کے ساتھ کوئی رویہ اختیار کرسکتا ہے جب تک اس معاملہ میںکسی نتیجہ پر نہ پہنچے کہ یہ نظامِ کائنات کس قسم کا ہے اور اس میں میری حیثیت کیا ہے؟

جو مقدمہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں‘ اس کی بنا پر بلا تامل یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان تمام امور کے متعلق ایک نہ ایک رائے قائم کئے بغیر کوئی رویہ اختیار کرنا غیر ممکن ہے۔ فی الواقع ہر انسان جودنیا میں زندگی بسر کررہا ہے ان سوالات کے متعلق شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر کوئی نہ کوئی رائے ضرور رکھتا ہے اور رکھنے پر مجبور ہے، کیونکہ وہ اس رائے کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاسکتا۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص نے ان سوالات پر فلسفیانہ غور و فکر کیا ہو اور واضح طور پر تنقیحات قائم کرکے ایک ایک سوال کا فیصلہ کیا ہو‘ نہیں بہت سے آدمیوں کے ذہن میں ان سوالات کی سرے سے کوئی متعین صورت ہوتی ہی نہیں‘ نہ وہ کبھی ان پر بالارادہ سوچتے ہیں۔ مگر باوجود اس کے ہر آدمی اجمالی طور پر ان سوالات کے متعلق منفی یا مثبت پہلو میں ایک رائے پر لازماً پہنچ جاتا ہے‘ اور زندگی میں اس کا رویہ جو بھی ہوتا ہے لازمی طور پر اس رائے کے مطابق ہوتا ہے۔

یہ بات جس طرح اشخاص کے معاملہ میں صحیح ہے اسی طرح جماعتوں کے معاملہ میں بھی صحیح ہے۔ چونکہ یہ سوالات انسانی زندگی کے بنیادی سوالات ہیں اس لیے کسی نظامِ تمدن و تہذیب اور کسی ہیئت اجتماعی کے لیے کوئی لائحہ عمل بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ ان سوالات کا کوئی جواب متعین نہ کرلیا جائے اور ان کا جواب جو بھی متعین کیا جائے گا اسی کے لحاظ سے اخلاق کا ایک نظریہ قائم ہوگا۔ اسی کی نوعیت کے مطابق زندگی کے مختلف شعبوں کی تشکیل ہوگی اور فی الجملہ پورا تمدن ویسا ہی رنگ اختیار کرے گا جیسا اس جواب کا مقتضا ہوگا۔ درحقیقت اس معاملہ میں کوئی تخلُّف ممکن ہی نہیں ہے۔ خواہ ایک شخص کا رویہ ہو یا ایک سوسائٹی کا‘ بہرحال وہ ٹھیک وہی نوعیت اختیار کرے گا جو ان سوالات کے جوابات کی نوعیت ہوگی۔ حتیٰ کہ اگر آپ چاہیں تو ایک شخص یا ایک جماعت کے رویہ کا تجزیہ کرکے باآسانی یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ اس رویہ کی تہہ میں زندگی کے ان بنیادی سوالات کا کونسا جواب کام کررہا ہے کیونکہ یہ بات قطعی محال ہے کہ کسی شخص یا اجتماعی رویہ کی نوعیت کچھ ہو اور ان سوالات کے جواب کی نوعیت کچھ اور ہو۔ اختلاف زبانی دعوے اور واقعی رویئے کے درمیان تو ضرور ہوسکتا ہے‘ لیکن ان سوالات کا جو جواب درحقیقت نفس کے اندر متمکن ہے اس کی نوعیت اور عملی رویہ کی نوعیت میں ہرگز کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا۔

اچھا اب ہمیں ایک قدم اور آگے بڑھانا چاہیے۔ زندگی کے یہ بنیادی مسائل جن کے متعلق ابھی آپ نے سنا کہ ان کا کوئی حل اپنے ذہن میں متعین کئے بغیر آدمی دنیا میں ایک قدم نہیں چل سکتا‘ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ سب امور غیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کوئی جواب افق پر لکھا ہوا نہیں ہے کہ ہر انسان دنیا میں آتے ہی اس کو پڑھ لے۔ اور ان کا کوئی جواب ایسا بدیہی نہیں ہے کہ ہر انسان کو خود بخود معلوم ہوجائے۔ اسی وجہ سے ان کا کوئی ایک حل نہیں ہے جس پر سارے انسان متفق ہوں۔ بلکہ ان کے بارے میں ہمیشہ انسانوں کے درمیان اختلاف رہا ہے اور ہمیشہ مختلف انسان مختلف طریقوں سے ان کو حل کرتے رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کو حل کرنے کی کیا کیا صورتیں ممکن ہیں‘ کیا کیا صورتیں دنیا میں اختیار کی گئی ہیں اور ان مختلف صورتوں سے جو حل نکلتے ہیں وہ کس قسم کے ہیں۔

ان کے حل کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے حواس پر اعتماد کرے اور حواس سے جیسا کچھ محسوس ہوتا ہے اسی کی بنا پر ان امور کے متعلق ایک رائے قائم کرلے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ مشاہدئہ حسی کے ساتھ وہم و قیاس کو ملا کر ایک نتیجہ اخذ کیاجائے۔

تیسری صورت یہ ہے کہ پیغمبروں نے حقیقت کا براہ راست علم رکھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان مسائل کا جو حل بیان کیا ہے اس کو قبول کرلیاجائے۔

دنیا میں اب تک ان مسائل کے حل کی یہی تین صورتیں اختیار کی گئی ہیں‘ اور غالباً یہی تین صورتیں ممکن بھی ہیں۔ ان میں سے ہر صورت ایک جداگانہ طریقہ سے ان مسائل کو حل کرتی ہے‘ ہر ایک حل سے ایک خاص قسم کا رویہ وجود میں آتا ہے اور ایک خاص نظامِ اخلاق اور نظامِ تمدن بنتا ہے جو اپنی بنیادی خصوصیات میں دوسرے تمام مرحلوں کے پیدا کردہ رویوں سے مختلف ہوتا ہے۔ اب میں دکھانا چاہتا ہوں کہ ان مختلف طریقوں سے ان مسائل کا کیا حل نکلتے ہیں‘ اور ہر ایک حل کس قسم کا رویہ پیدا کرتا ہے۔

خالص جاہلیت:

حواس پر اعتماد کرکے جب انسان ان مسائل کے متعلق کوئی رائے قائم کرتا ہے تو اس طرز فکر کے عین فطرت کے تقاضے سے وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ کائنات کا یہ سارا نظام ایک اتفاقی ہنگامہ وجود و ظہور ہے جس کے پیچھے کوئی مصلحت اور مقصد نہیں۔ یونہی بن گیا ہے‘ یونہی چل رہا ہے‘ یونہی بے نتیجہ ختم ہوجائیگا۔ اس کا کوئی مالک نظر نہیں آتا‘ لہٰذا وہ یا تو ہے ہی نہیں یا اگر ہے تو انسان کی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ انسان ایک قسم کا جانور ہے جو شاید اتفاقاً پیدا ہو گیا ہے۔ کچھ خبر نہیں کہ اس کو کسی نے پیدا کیا یا یہ خود پیدا ہوگیا۔ بہرحال یہ سوال خارج از بحث ہے۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ یہ اس زمین پر پایا جاتا ہے‘ کچھ خواہشیں رکھتا ہے جنہیں پورا کرنے کے لیے اس کی طبیعت اندر سے زور کرتی ہے‘ کچھ قویٰ اور کچھ آلات رکھتا ہے جو ان خواہشوں کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتے ہیں‘ اور اس کے گرد و پیش زمین کے دامن پر بے حد و حساب سامان پھیلا ہوا ہے جس پر یہ اپنے قوی اور آلات کو استعمال کرکے اپنی خواہشات کی تکمیل کرسکتا ہے۔ اور اس کی قوتوں کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں ہے کہ یہ اپنی خواہشات و ضروریات کو زیادہ سے زیادہ کمال کے ساتھ پورا کرے اور دنیا کی کوئی حیثیت اس کے سوا نہیں ہے کہ یہ ایک خوانِ یغما ہے جو اس لیے پھیلا ہوا ہے کہ انسان اس پر ہاتھ مارے۔ اوپر کوئی صاحبِ امر نہیں جس کے سامنے انسان جواب دہ ہو‘ اور نہ کوئی علم کا منبع اور ہدایت کا سرچشمہ موجود ہے جہاں سے انسان کو اپنی زندگی کا قانون مل سکتا ہو۔ لہٰذا انسان ایک خودمختار اور غیر ذمہ دار ہستی ہے۔ اپنے لیے ضابطہ و قانون بنانا اور اپنی قوتوں کا مصرف تجویز کرنا اور موجودات کے ساتھ اپنے طرز عمل کا تعین کرنا اس کا اپنا کام ہے اس کے لیے اگر کوئی ہدایت ہے تو جانوروں کی زندگی میں‘ پتھروں کی سرگزشت میں‘ یا خود اپنی تاریخ کے تجربات میں ہے اور یہ اگر کسی کے سامنے جواب دہ ہے تو آپ اپنے سامنے یا اس اقتدار کے سامنے ہے جو خود انسانوں ہی میں سے پیدا ہوکر افراد پر مستولی ہوجائے۔ زندگی جو کچھ ہے یہی دنیوی زندگی ہے اور اعمال کے سارے نتائج اس زندگی کی حد تک ہیں۔ لہٰذا صحیح اور غلط‘ مفید اور مضر‘ قابلِ اخذ اور قابلِ ترک ہونے کا فیصلہ صرف انہی نتائج کے لحاظ سے کیا جائے گا جو اس دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔

یہ ایک پورا نظریہ حیات ہے جس میں انسانی زندگی کے تمام بنیادی مسائل کا جواب حسی مشاہدہ پر دیا گیا ہے اور اس جواب کا ہرجز و دوسرے جز کے ساتھ کم از کم ایک منطقی ربط‘ ایک مزاجی موافقت ضرور رکھتا ہے جس کی وجہ سے انسان دنیا میں ایک ہموار و یکساں رویہ اختیار کرسکتا ہے‘ قطع نظر اس سے کہ یہ جواب اور اس سے پیدا ہونے والا رویہ بجائے خود صحیح ہو یا غلط۔ اب اس رویہ پر ایک نگاہ ڈالئے جو اس جواب کی بنا پرآدمی دنیا میں اختیار کرتا ہے۔

انفرادی زندگی میں اس نقطہ نگاہ کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان اول سے لے کر آخر تک خود مختارانہ اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرلے وہ اپنے آپ کو اپنے جسم اور اپنی جسمانی قوتوں کا مالک سمجھے گا‘ اس لیے اپنے حسبِ منشا جس طرح چاہے گا انہیں استعمال کرے گا۔ دنیا کی جو چیزیں اس کے قبضہ قدرت میں آئیں گی اور جن انسانوں پر اس کو اقتدار حاصل ہوگا ان سب کے ساتھ وہ اس طرح برتاؤ کرے گا جیسے کہ وہ ان کا مالک ہے۔ اس کے اختیارات کومحدود کرنے والی چیز صرف قوانینِ قدرت کی حدیں اور اجتماعی زندگی کی ناگزیر بندشیں ہوں گی۔ خود اس کے اپنے نفس میں کوئی ایسا اخلاقی احساس‘ ذمہ داری کا احساس اور کسی باز پرس کا خوف نہ ہوگا جو اسے شتر بے مہار ہونے سے روکتا ہو۔ جہاں خارجی رکاوٹیں نہ ہوں‘ یا جہاں وہ ان رکاوٹوں کے علی الرغم کام کرنے پر قادر ہو‘ وہاں تو اس کے عقیدے کا فطری اقتضا یہی ہے کہ وہ ظالم‘ بددیانت‘ شریر اور مفسد ہو۔ وہ فطرتاً خود غرض‘ مادہ پرست اور ابن الوقت ہوگا۔ اس کی زندگی کا کوئی مقصد اپنی نفسانی خواہشات اور حیوانی ضروریات کی خدمت کے سوا نہ ہوگا اور اس کی نگاہ میں قدر و قیمت صرف ان چیزوں کی ہوگی جو اس کے اس مقصدِ زندگی کے لیے کوئی قیمت رکھتی ہوں۔ افراد میں یہ سیرت و کردار پیدا ہونا اس عقیدے کا فطری اور منطقی نتیجہ ہے۔ بیشک یہ ممکن ہے کہ مصلحت اور دور اندیشی کی بنا پر ایسا شخص ہمدرد ہو‘ ایثار پیشہ ہو‘ اپنی قوم کی فلاح و ترقی کے لیے جان توڑ کوششیں کرتا ہو اور فی الجملہ اپنی زندگی میں ایک طرح کے ذمہ دارانہ اخلاق کا اظہار کرے لیکن جب آپ اس کے اس رویہ کا تجزیہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ دراصل یہ اس کی خود غرضی و نفسانیت ہی کی توسیع ہے۔ وہ اپنے ملک یااپنی قوم کی بھلائی میں اپنی بھلائی دیکھتا ہے اس لیے اس کی بھلائی چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا شخص زیادہ سے زیادہ بس ایک نیشنلسٹ ہی ہوسکتا ہے۔

پھر جو سوسائٹی اس ذہنیت کے افراد سے بنے گی اس کی امتیازی خصوصیات یہ ہوں گی:

سیاست کی بنیاد انسانی حاکمیت پر قائم ہوگی‘ خواہ وہ ایک شخص یا ایک خاندان یا ایک طبقہ کی حاکمیت ہو‘ یاجمہور کی حاکمیت‘ زیادہ سے زیادہ بلند اجتماعی تصور جو قائم کیا جاسکے وہ بس دولتِ مشترکہ (Common Wealth) کا تصور ہوگا۔ اس مملکت میں قانون ساز انسان ہوں گے‘ تمام قوانین خواہش اور تجربی مصلحت کی بنا پر بنائے اور بدلے جائیں گے‘ اور منفعت پرستی و مصلحت پرستی ہی کے لحاظ سے پالیسیاں بھی بنائی اور بدلی جائیں گی۔ مملکت کے حدود میں وہ لوگ زور کرکے ابھر آئیں گے جو سب سے زیادہ طاقت اور سب سے زیادہ چالاک‘ مکار‘ جھوٹے‘ دغا باز‘ سنگ دل اور خبیث النفس ہوں گے؟ سوسائٹی کی رہنمائی اور مملکت کے زمامِ کار انہی کے ہاتھ میں ہوگی اور ان کی کتابِ آئین میں زور کا نام حق اور بے روزی کا نام باطل ہوگا۔

تمدن و معاشرت کا سارا نظام نفس پرستی پر قائم ہوگا۔ لذاتِ نفس کی طلب ہر اخلاقی قید سے آزاد ہوتی چلی جائے گی اور تمام اخلاقی معیار اس طرح قائم کئے جائیں گے کہ ان کی وجہ سے لذتوں کے حصول میں کم سے کم رکاوٹ ہو۔

اسی ذہنیت سے آرٹ اور لٹریچر متاثر ہوں گے اور ان کے اندر عریانی و شہوانیت کے عناصر بڑھتے چلے جائیں گے۔

معاشی زندگی میں کبھی جاگیرداری سسٹم برسرعروج آئے گا‘ کبھی سرمایہ داری نظام اس کی جگہ لے گا‘ اور کبھی مزدور شورش کرکے اپنی ڈکٹیٹر شپ قائم کرلیں گے عدل سے بہرحال معیشت کارشتہ کبھی قائم نہ ہوسکے گا۔ کیونکہ دنیا اور اس کی دولت کے بارے میں اس سوسائٹی کے ہر فرد کا بنیادی رویہ اس تصور پرمبنی ہوگا کہ یہ ایک خوان یغما ہے جس پر حسبِ موقع ہاتھ مارنے کے لیے وہ آزاد ہے۔

پھر اس سوسائٹی میں افراد کوتیار کرنے کے لیے تعلیم و تربیت کا جو نظام ہوگا اس کا مزاج بھی اس تصورِ حیات اور اسی رویہ کے مناسب حال ہوگا اس میںہر نئی آنے والی نسل کو دنیا اور انسان اور دنیا میں انسان کی حیثیت کے متعلق وہی تصور دیا جائے گا جس کی تشریح میں نے اوپر کی ہے۔ تمام معلومات خواہ وہ کسی شعبہ علم سے متعلق ہوں‘ ان کو ایسی ہی ترتیب کے ساتھ دی جائیں گی کہ آپ سے ان کے ذہن میںزندگی کا یہ تصور پیدا ہوجائے اور پھر ساری تربیت اس ڈھنگ کی ہوگی کہ وہ زندگی میں یہی رویہ اختیار کرنے اور اسی طرز کی سوسائٹی میں کھپ جانے کے لیے تیار ہوں۔ اس تعلیم و تربیت کی خصوصیات کے متعلق مجھے آپ سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں‘ کیونکہ آپ لوگوں کو اس کا ذاتی تجربہ ہے۔ جن درس گاہوں میں آپ تعلیم پارہے ہیں وہ سب اسی نظریہ پر قائم ہوئی ہیں‘ اگرچہ ان کے نام اسلامیہ کالج اور مسلم یونیورسٹی وغیرہ ہیں۔

یہ رویہ جس کی تشریح میں نے ابھی آپ کے سامنے کی ہے خالص جاہلیت کا رویہ ہے۔ اس کی نوعیت وہی ہے جو اس بچہ کے رویئے کی نوعیت ہے جو محض حسی مشاہدے پر اعتماد کرکے آگ کو ایک خوبصورت کھلونا سمجھتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ وہاں اس مشاہدے کی غلطی فوراً تجربہ سے ظاہر ہوجاتی ہے کیوں کہ جس آگ کو کھلونا سمجھ کر وہ دست اندازی کا رویہ اختیار کرتا ہے وہ گرم آگ ہوتی ہے‘ ہاتھ لگاتے ہی فوراً بتادیتی ہے کہ میں کھلونا نہیں ہوں۔ بخلاف اس کے یہاں مشاہدے کی غلطی بڑی دیر میں کھلتی ہے‘ بلکہ بہتوں پر کھلتی ہی نہیں کیونکہ جس آگ پر یہ ہاتھ ڈالتے ہیں اس کی آنچ دھیمی ہے‘ فوراً چرکا نہیں دیتی بلکہ صدیوں تک تپاتی رہتی ہے‘ تاہم اگر کوئی شخص تجربات سے سبق لینے کے لیے تیار ہو تو شب و روز کی زندگی میں اس نظریہ کی بدولت افراد کی بے ایمانیوں‘ حکام کے مظالم‘ منصفوں کی بے انصافیوں‘ مال داروں کی خود غرضیوں‘ اور عام لوگوں کی بداخلاقیوں کا جو تلخ تجربہ اس کو ہوتا ہے اور بڑے پیمانے پر اسی نظریہ سے قوم پرستی‘ امپیریلزم‘ جنگ و فساد‘ ملک گیری اور اقوام کشی کے جو شرارے نکلتے ہیں‘ ان کے چرکوں سے وہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ یہ رویہ جاہلیت کا رویہ ہے‘ علمی رویہ نہیں ہے۔ کیونکہ انسان نے اپنے متعلق اور نظامِ کائنات کے متعلق جو رائے قائم کرکے یہ رویہ اختیار کیا ہے وہ امر واقعہ کے مطابق نہیں ہے ورنہ اس سے یہ برے نتائج ظاہرنہ ہوتے۔

اب ہمیں دوسرے طریقہ کا جائزہ لینا چاہیے۔ زندگی کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مشاہدے کے قیاس و وہم سے کام لے کر ان مسائل کے متعلق کوئی رائے قائم کی جائے۔ اس طریقے سے تین مختلف رائیں قائم کی گئی ہیں اور ہر ایک رائے سے ایک خاص قسم کا رویہ پیدا ہوا ہے۔

۱۔ شرک:

ایک رائے یہ ہے کہ کائنات کا یہ نظام بے خداوند تو نہیں ہے مگر اس کا ایک خداوند (الٰہ یا رب) نہیں ہے بلکہ بہت سے خداوند (الٰہ) اور ارباب ہیں کائنات کی مختلف قوتوں کا سررشتہ مختلف خداؤں کے ہاتھ میں ہے اور انسان کی سعادت و شقاوت‘ کامیابی وناکامی‘ نفع و نقصان بہت سی ہستیوں کی مہربانی پر منحصر ہے۔ یہ رائے جن لوگوں نے اختیار کی ہے انہوں نے پھر اپنے وہم و قیاس سے کام لے کر یہ تعین کرنے کی کوشش کی ہے کہ خدائی طاقتیں کہاں کہاں اور کس کس کے ہاتھ میں ہیں اور جن جن چیزوں پر بھی ان کی نگاہ جاکر ٹھہری ہے انہی کو خدا مان لیا ہے۔

اس رائے کی بنا پر جو طرز عمل انسان اختیار کرتا ہے اس کی امتیازی خصوصیات یہ ہیں:

اولاً: اس سے آدمی کی پوری زندگی اوہام کی آماجگاہ بن جاتی ہے۔ وہ کسی علمی ثبوت کے بغیر مجرد اپنے وہم و خیال سے بہت سی چیزوں کے متعلق یہ رائے قائم کرتا ہے کہ وہ فوق الفطری طریقوں سے اس کی قسمت پر اچھا یا برا اثر ڈالتی ہیں۔ اس لیے وہ اچھے اثرات کی موہوم امید اور برے اثرات کے موہوم خوف میں مبتلا ہوکر اپنی بہت سی قوتیں لاحاصل طریقہ سے ضائع کردیتا ہے۔ کہیں کسی قبر سے امید لگاتا ہے کہ یہ میرا کام کردے گی۔ کہیں کسی بت پر بھروسہ کرتا ہے کہ وہ میری قسمت بنادے گا۔ کہیں کسی اور خیالی کارساز کو خوش کرنے کے لیے دوڑتا پھرتا ہے۔ کہیں کسی برے شگون سے دل شکستہ ہوجاتا ہے اور کہیں کسی اچھے شگون سے توقعات کے خیالی قلعے بنالیتا ہے۔ یہ ساری چیزیں اس کے خیالات اور اس کی کوششوں کو فطری تدابیر سے ہٹا کر ایک بالکل غیر فطری راستے پر ڈال دیتی ہیں۔

ثانیاً: اس رائے کی وجہ سے پوجا پاٹ‘ نذر و نیاز اور دوسری رسموں کا ایک لمبا چوڑا دستور العمل بنتا ہے جس میں الجھ کر آدمی کی سعی و عمل کا ایک بڑا حصہ بے نتیجہ مشغولیتوں میں صرف ہوجاتا ہے۔

ثالثاً: جو لوگ اس مشرکانہ وہم پرستی میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو بیوقوف بناکر اپنے جال میں پھانس لینے کا چالاک آدمیوں کو خوب موقع مل جاتا ہے۔ کوئی بادشاہ بن بیٹھتا ہے اور سورج‘ چاند اوردوسرے دیوتاؤں سے اپنا نسب ملا کر لوگوں کو یقین دلاتا ہے کہ ہم بھی خداؤں میں سے ہیں اور تم ہمارے بندے ہو۔ کوئی پروہت یا مجاور بن بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ تمہارا نفع و نقصان جن سے وابستہ ہے ان سے ہمارا تعلق ہے اور تم ہمارے ہی واسطے ان تک پہنچ سکتے ہو۔ کوئی پنڈت اور پیر بن جاتا ہے اور تعویذ گنڈوں اور منتروں اور عملیات کا ڈھونگ رچا کر لوگوں کویقین دلاتا ہے کہ ہماری یہ چیزیں فوق الفطری طریقے سے تمہاری حاجتیں پوری کریں گی۔ پھر ان سب چالاک لوگوں کی نسلیں مستقل خاندانوں اور طبقوں کی صورت اختیار کرلیتی ہیں جن کے حقوق‘ امتیازات اور اثرات امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ بڑھتے اور گہری بنیادوں پر جمتے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح اس عقیدہ کی بدولت عام انسانوں کی گردنوں پر شاہی خاندانوں‘ مذہبی عہدہ داروں اور روحانی پیشواؤں کی خدائی کا جوا مسلط ہوتا ہے اور یہ بناوٹی خدا ان کو اس طرح اپنا خادم بناتے ہیں کہ گویا وہ ان کے لیے دودھ دینے اور سواری اور باربرداری کی خدمت انجام دینے والے جانور ہیں۔

رابعاً: یہ نظریہ نہ تو علوم و فنون‘ فلسفہ و ادب اور تمدن و سیاست کے لیے کوئی مستقل بنیاد فراہم کرتا ہے اور نہ ان خیالی خداؤں سے انسانوں کو کسی قسم کی ہدایت ہی ملتی ہے کہ وہ اس کی پابندی کریں۔ ان خداؤں سے تو انسان کا تعلق صرف اس حد تک محدود رہتا ہے کہ یہ ان کی مہربانی و اعانت حاصل کرنے کے لیے بس عبودیت کے چند مراسم ادا کردے۔ باقی رہے زندگی کے معاملات تو ان کے متعلق قوانین اور ضوابط بنانا اور عمل کے طریقے معین کرنا انسان کا اپنا کام ہوتا ہے۔ اس طرح مشرک سوسائٹی عملاً انہی سب راہوں پرچلتی ہے جن کا ذکر خالص جاہلیت کے سلسلہ میں ابھی میں آپ سے کرچکا ہوں۔ وہی اخلاق‘ وہی اعمال‘ وہی طرزِ تمدن‘ وہی سیاست‘ وہی نظامِ معیشت اور وہی علم و ادب۔ ان تمام حیثیتوں سے شرک کے رویئے اور خالص جاہلیت کے رویئے میں کوئی اصولی فرق نہیں ہوتا۔

۲۔ رہبانیت:

دوسری رائے جو مشاہدے کے ساتھ قیاس و وہم کو ملا کر قائم کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا اور جسمانی وجود انسان کے لیے ایک دارالعذاب ہے۔ انسان کی روح ایک سزا یافتہ قیدی کی حیثیت سے اس قفس میں بند کی گئی ہے۔ لذّات و خواہشات اور تمام وہ ضروریات جو اس تعلق کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوتی ہیں اصل میںیہ اس قید خانہ کے طوق و سلاسل ہیں۔ انسان جتنا اس دنیا اور اس کی چیزوں سے تعلق رکھے گا اتنا ہی ان زنجیروں میں پھنستا چلاجائے گا اور مزید عذاب کا مستحق ہوگا۔ نجات کی صورت اس کے سوا کوئی نہیں کہ زندگی کے سارے بکھیڑوں سے قطع تعلق کیا جائے‘ خواہشات کو مٹایا جائے‘ لذّات سے کنارہ کشی کی جائے‘ جسمانی ضروریات اور نفس کے مطالبوں کو پورا کرنے سے انکار کیا جائے‘ ان تمام محبتوں کودل سے نکال دیا جائے جو گوشت و خون کے تعلق سے پیدا ہوتی ہیں‘ اور اپنے اس دشمن (یعنی نفس و جسم) کو مجاہدوں اور ریاضتوں سے اتنی تکلیفیں دی جائیں کہ روح پر اس کا تسلط قائمنہ رہ سکے۔ اس طرح روح ہلکی اور پاک صاف ہوجائے گی اور نجات کے بلند مقام پر ہونے کی طاقت حاصل کرلے گی۔

اس رائے سے جو رویہ پیدا ہوتا ہے اس کی خصوصیات یہ ہیں:

اولاً‘ اس سے انسان کے تمام رجحانات ‘ اجتماعیت سے انفرادیت کی طرف اور تمدن سے وحشت کی طرف پھرجاتے ہیں۔ وہ دنیا اور اس کی زندگی سے منہ موڑ کر کھڑا ہوجاتا ہے‘ ذمہ داریوں سے بھاگتا ہے‘ اس کی ساری زندگی عدمِ تعاون اور ترکِ موالات کی زندگی بن جاتی ہے اور اس کے اخلاق زیادہ تر سلبی (Negative) نوعیت کے ہوجاتے ہیں۔

ثانیاً‘ اس رائے کی بدولت نیک لوگ دنیا کے کاروبار سے ہٹ کر اپنی نجات کی فکر میں گوشہ ہائے عزلت کی طرف چلے جاتے ہیں اور دنیا کے سارے معاملات شریر لوگوں کے ہاتھوں میں آجاتے ہیں۔

ثالثاً‘ تمدن میں اس رائے کا اثر جس حد تک پہنچتا ہے‘ اس سے لوگوں کے اندر سلبی اخلاقیات‘ غیر تمدنی (Un-Social) اور انفرادیت پسندانہ (Individuals) رجحانات اور مایوسانہ خیالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ ان کی عملی قوتیں سرد ہوجاتی ہیں۔ وہ ظالموں کے لیے نرم نوالہ بن جاتے ہیں اور ہر جابر حکومت ان کو آسانی سے قابو میںلاسکتی ہے۔ درحقیقت یہ نظریہ عوام کو ظالموں کے لیے ذلول (Tame) بنانے میں جادو کی تاثیر رکھتا ہے۔

رابعاً‘ انسانی فطرت سے اس راہبانہ نظریہ کی مستقل جنگ رہتی ہے اور اکثر یہ اس سے شکست کھا جاتا ہے۔ پھر جب یہ شکست کھاتا ہے تو اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے اسے حیلوں کے دامن میں پناہ لینی پڑتی ہے اسی وجہ سے کہیں کفارہ کا عقیدہ ایجاد ہوتا ہے ‘ کہیں عشقِ مجازی کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے اور کہیں ترکِ دنیا کے پردے میں وہ دنیا پرستی کی جاتی ہے جس کے آگے دنیا پرست بھی شرماجائیں۔

۳۔ ہمہ اوست:

تیسری رائے جو مشاہدے اور قیاس کی آمیزش سے پیدا ہوتی ہے‘ یہ ہے کہ انسان اور کائنات کی تمام چیزیں بجائے خود غیر حقیقی ہیں۔ ان کا کوئی مستقل وجود نہیں ہے۔ دراصل ایک وجود نے ان ساری چیزوں کو خود اپنے ظہور کا واسطہ بنایا ہے اور وہی ان سب کے اندر کام کررہا ہے۔ تفصیلات میں اس نظریہ کی بے شمار صورتیں ہیں‘ مگر ان ساری تفصیلات کے اندر قدر مشترک یہی ایک خیال ہے کہ تمام موجودات ایک ہی وجود کا ظہور خارجی ہیں اور دراصل موجود وہی ہے باقی کچھ نہیں۔

اس نظریہ کی بنا پر انسان جو رویہ اختیار کرتا ہے وہ یہ ہے کہ اسے خود اپنے ہونے ہی میں شک ہوجاتا ہے کجا کہ وہ کوئی کام کرے۔ وہ اپنے آپ کو ایک کٹھ پتلی سمجھتا ہے جسے کوئی اور نچارہا ہے یا جس کے اندر کوئی اور ناچ رہا ہے۔ وہ اپنے تخیلات کے نشے میں گم ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے نہ کوئی مقصدِ زندگی ہوتا ہے اور نہ کوئی راہِ عمل۔ وہ خیال کرتا ہے کہ میں خود تو کچھ ہوں ہی نہیں‘ نہ میرے کرنے کا کوئی کام ہے‘ نہ میرے کئے سے کچھ ہوسکتا ہے۔ اصل میں تو وہ وجودِ کُلّی جو مجھ میں اور تمام کائنات میں سرایت کئے ہوئے ہے اور جو ازل سے ابد تک چلاجارہا ہے‘ سارے کام اسی کے ہیں اور وہی سب کچھ کرتا ہے۔ وہ اگر مکمل ہے تو میں بھی مکمل ہوں‘ پھر کوشش کس چیز کے لیے؟ اور وہ اگر اپنی تکمیل کے لیے کوشاں ہے تو جس عالمگیر حرکت کے ساتھ وہ کمال کی طرف جارہا ہے۔ اسی کی لپیٹ میں ایک جُز کی حیثیت سے میں بھی آپ سے آپ چلاجاؤں گا۔ میں ایک جُز ہوں‘ مجھے کیا خبر کہ کُل کدھر جارہا ہے اور کدھر جانا چاہتا ہے۔ اس طرزِ خیال کے عملی نتائج قریب قریب وہی ہیں جو ابھی میں نے راہبانہ نظریہ کے سلسلے میں بیان کئے ہیں بلکہ بعض حالات میں اس رائے کو اختیار کرنے والے کا طرز عمل ان لوگوں کے رویئے سے ملتا جلتا ہے جو خالص جاہلیت کا نظریہ اختیار کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ اپنی خواہشات کے ہاتھ میں اپنی باگیں دے دیتا ہے اور پھر جدھر خواہشات لے جاتی ہیں۔ اس طرف یہ سمجھتے ہوئے بے تکلف چلاجاتا ہے کہ جانے والا وجودِکُلّی ہے نہ کہ میں۔

پہلے نظریئے کی طرح یہ تینوں نظریئے بھی جاہلیت کے نظریئے ہیں اور اس بنا پر جو رویئے ان سے پیدا ہوتے ہیں وہ بھی جاہلیت ہی کے رویئے ہیں۔ اس لیے کہ اول تو ان میں سے کوئی نظریہ بھی کسی علمی ثبوت پر مبنی نہیں ہے بلکہ محض خیالی اور قیاسی بنیادوں پر مختلف رائیں قائم کرلی گئی ہیں۔ دوسرے ان کا واقعہ کے خلاف ہونا تجربہ سے ثابت ہوتا ہے۔ اگر ان میںکوئی رائے بھی امرِ واقعی کے مطابق ہوتی تو اس کے مطابق عمل کرنے سے برے نتائج تجربے میں نہ آتے۔ جب آپ دیکھتے ہیں کہ ایک چیز کو جہاں کہیں انسان نے کھایا اس کے پیٹ میں درد ضرور ہوا تو اس تجربہ سے آپ یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ فی الواقع معدہ کی ساخت اور اس کی طبیعت سے یہ چیز مطابقت نہیں رکھتی۔ بالکل اسی طرح جب یہ حقیقت ہے کہ شرک‘ رہبانیت‘ اور وجودیت کے نظریئے اختیار کرنے سے انسان کو بحیثیت مجموعی نقصان ہی پہنچا تو یہ بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ ان میں سے کوئی نظریہ بھی واقعہ اور حقیقت کے مطابق نہیں ہے۔

اسلام:

اب ہمیں تیسری صورت کو لینا چاہیے جو زندگی کے ان بنیادی مسائل کے متعلق رائے قائم کرنے کی آخری صورت ہے‘ اور وہ یہ ہے کہ پیغمبروں نے ان مسائل کا جو حل پیش کیا ہے اسے قبول کیا جائے۔

اس طریقہ کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی اجنبی مقام پر آپ ہوں اور آپ کو خود اس مقام کے متعلق کوئی واقفیت نہ ہو تو آپ کسی دوسرے شخص سے دریافت کریں اور اس کی رہنمائی میں وہاں کی سیر کریں۔ ایسی صورتِ حال جب پیش آتی ہے تو آپ پہلے اس شخص کو تلاش کرتے ہیں جو خود واقف کار ہونے کا دعویٰ کرے۔ پھر آپ قرائن سے اس امر کا اطمینان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ شخص قابل اعتماد ہے یا نہیں۔ پھر آپ اس کی رہنمائی میں چل کر دیکھتے ہیںاور جب تجربہ سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق جو عمل آپ نے کیا اس سے کوئی برا نتیجہ نہیں نکلا تو آپ کو پوری طرح اطمینان ہوجاتا ہے کہ واقعی وہ شخص واقف کار تھا اور اس جگہ کے متعلق جو معلومات اس نے دی تھیں وہ صحیح تھیں۔ یہ ایک علمی طریقہ ہے‘ اور اگر کوئی دوسرا طریقِ علمی ممکن نہ ہو تو پھر رائے قائم کرنے کے لیے یہی ایک صحیح طریقہ ہوسکتا ہے۔

اب دیکھیے‘ دنیا آپ کے لیے ایک اجنبی جگہ ہے۔ آپ کو نہیں معلوم کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کا انتظام کس قسم کا ہے۔ کس آئین پر یہ کارخانہ چل رہا ہے۔ اس کے اندر آپ کی کیا حیثیت ہے‘ اور یہاں آپ کے لیے کیا رویہ مناسب ہے۔ آپ نے پہلے یہ رائے قائم کی کہ جیسا بظاہر نظر آتا ہے اصل حقیقت بھی وہی ہے۔ آپ نے اس رائے پر عمل کیا مگر نتیجہ غلط نکلا۔ پھر آپ نے قیاس اور گمان کی بنا پر مختلف رائیں قائم کیں اور ہر ایک پر عمل کرکے دیکھا‘ مگر ہر صورت میں نتیجہ غلط ہی رہا۔ اس کے بعد آخری صورت یہی ہے کہ آپ پیغمبروں کی طرف رجوع کریں۔ یہ لوگ واقف کار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کے حالات کی جتنی چھان بین کی جاتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت سچے‘ نہایت امین‘ نہایت نیک‘ نہایت بے غرض اور نہایت صحیح الدماغ لوگ ہیں۔ لہٰذا بادی النظر میں ان پر اعتماد کرنے کے لیے کافی وجہ موجود ہے۔ اب صرف یہ دیکھنا باقی رہ جاتا ہے کہ دنیا کے متعلق اور دنیا میں آپ کی حیثیت کے متعلق جو معلومات وہ دیتے ہیں وہ کہاں تک لگتی ہوئی ہیں‘ ان کے خلاف کوئی عملی ثبوت تو نہیں ہے اور ان کے مطابق جو رویہ دنیا میں اختیار کیا گیا وہ تجربہ سے کیسا ثابت ہوا۔ اگر تحقیق سے ان تینوں باتوں کا جواب بھی اطمینان بخش نکلے تو ان کی رہنمائی پر ایمان لے آنا چاہیے اور زندگی میں وہی رویہ اختیارکرنا چاہیے جو اس نظریہ کے مطابق ہو۔

جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا پچھلے جاہلیت کے طریقوں کے مقابلہ میں یہ طریقہ علمی طریقہ ہے اور اگر اس علم کے آگے آدمی سرتسلیم خم کردے‘ اگر خودسری اور خود رائی کو چھوڑ کر اس علم کااتباع کرے اور اپنے رویہ کو انہی حدود کا پابند کردے جو اس علم نے قائم کی ہیں‘ تو اسی طریقہ کا نام ’’اسلامی طریقہ‘‘ ہے۔

انبیا کا نظریہ کائنات وانسان:

پیغمبر کہتے ہیں:

یہ سارا عالم ہست و بود جو انسان کے گرد و پیش پھیلا ہوا ہے اور جس کا ایک جز انسان بھی ہے۔ کوئی اتفاقی ہنگامہ نہیں ہے بلکہ ایک منظم‘ باضابطہ سلطنت ہے۔ اللہ نے اس کو بنایا ہے‘ وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس کا اکیلا حاکم ہے۔ یہ ایک کلی نظامِ (Totalitarian System) ہے۔ جس میں تمام اختیارات مرکزی اقتدار کے ہاتھ میں ہیں۔ اس مقتدرِ اعلیٰ کے سوا یہاں کسی کا حکم نہیں چلتا۔ تمام قوتیں جو نظامِ عالم میں کام کررہی ہیں‘ اسی کے زیر حکم ہیں اور کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے حکم سے سرتابی کرسکے‘ یا اس کے اذن کے بغیر اپنے اختیار سے کوئی حرکت کرے۔ اس ہمہ گیر سسٹم کے اندر کسی کی خودمختاری (Independence) اور غیرذمہ داری (Irresponsibility) کے لیے کوئی جگہ نہیں‘ نہ فطرتاً ہو سکتی ہے۔

انسان یہاں پیدائشی رعیت (Born Subject) ہے۔ رعیت ہونا اس کی مرضی پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ یہ رعیت ہی پیدا ہوا ہے‘ اور رعیت کے سوا کچھ اور ہونا اس کے امکان میں نہیں ہے۔ لہٰذا یہ خود اپنے لیے طریقِ زندگی وضع کرنے اور اپنی ڈیوٹی آپ تجویز کرلینے کا حق نہیں رکھتا۔

یہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے کہ اپنی ملک میں تصرف کرنے کا ضابطہ خود بنائے۔ اس کا جسم اور اس کی ساری قوتیں اللہ کی ملک اور اس کا عطیہ ہیں لہٰذا یہ ان کو خود اپنے منشا کے مطابق استعمال کرنے کا حق دار نہیں ہے بلکہ جس نے یہ چیزیں اس کوعطا کی ہیں اسی کی مرضی کے مطابق اسے ان کو استعمال کرنا چاہیے۔

اسی طرح جو اشیا اس کے گرد و پیش دنیا میں پائی جاتی ہیں۔ زمین‘ جانور‘ پانی‘ نباتات‘ معدنیات وغیرہ ۔ یہ سب اللہ کی ملک ہیں۔ انسان ان کا مالک نہیں ہے‘ لہٰذا انسان کوان پر بھی اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنے کا کوئی حق نہیں بلکہ اسے ان کے ساتھ اس قانون کے مطابق برتاؤ کرنا چاہیے جو اصل مالک نے مقرر کیا ہے۔

اسی طرح وہ تمام انسان بھی جو زمین پر بستے ہیں‘ اور جن کی زندگی ایک دوسرے سے وابستہ ہے‘ اللہ کی رعیت ہیں۔ لہٰذا ان کو اپنے باہمی تعلقات کے بارے میں خود اصول اور ضابطے مقرر کرلینے کا حق نہیں ہے۔ ان کے جملہ تعلقات خدا کے بنائے ہوئے قانون پر مبنی ہونے چاہییں۔

رہی یہ بات کہ وہ خدا کا قانون کیا ہے؟ تو پیغمبر کہتے ہیں کہ جس ذریعہ علم کی بنا پر ہم تمہیں دنیا کی اور خود تمہاری یہ حقیقت بتارہے ہیں‘ اسی ذریعہ علم سے ہم کو خدا کا قانون بھی معلوم ہوا ہے۔ خدا نے خود ہم کو اس بات پر مامور کیا ہے کہ یہ علم تم تک پہنچادیں۔ لہٰذا تم ہم پر اعتماد کرو۔ ہمیں اپنے بادشاہ کا نمائندہ تسلیم کرو اور ہم سے اس کا مستند قانون لو۔

پھر پیغمبر ہم سے کہتے ہیں کہ یہ جو تم بظاہر دیکھتے ہو کہ سلطنت عالم کا سارا کاروبار ایک نظم کے ساتھ چل رہا ہے مگر نہ خود سلطان نظر آتا ہے نہ اس کے کارپرداز کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور یہ جو تم ایک طرح کی خودمختاری اپنے اندر محسوس کرتے ہو کہ جس طرح چاہو‘ کام کرو‘ مالکانہ روش بھی اختیار کرسکتے ہو اور اصل مالک کے سوا دوسروں کے سامنے بھی اطاعت و بندگی میں سرجھکاسکتے ہو‘ ہر صورت میںتم کو رزق ملتا ہے۔ وسائل کاربہم پہنچتے ہیں اور بغاوت کی سزا فورا نہیں دی جاتی‘ یہ سب دراصل تمہاری آزمائش کے لیے ہے۔ چونکہ تم کو عقل‘ قوتِ استنباط اور قوتِ انتخاب دی گئی ہے‘ اس لیے مالک نے اپنے آپ کو اور اپنے نظام سلطنت کو تمہاری نظروں سے اوجھل کردیا ہے۔ وہ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ تم اپنی قوتوں سے کس طرح کام لیتے ہو۔ اس نے تم کو سمجھ بوجھ‘ انتخاب کی آزادی (Freedom of Choice) اور ایک طرح کی خوداختیاری (Autonomy) عطا کرکے چھوڑا ہے۔ اب اگر تم اپنی رعیت ہونے کی حیثیت کو سمجھو اور برضا و رغبت اس حیثیت کو سمجھو اور برضا و رغبت اس حیثیت کو اختیار کرلو‘ بغیر اس کے کہ تم پر اس حیثیت میںرہنے کے لیے کوئی جبر ہو‘ تو اپنے مالک کی آزمائش میں کامیاب ہوگے۔ اور اگر رعیت ہونے کی حیثیت کو نہ سمجھو‘ یا سمجھنے کے باوجود باغیانہ روش اختیار کرو تو امتحان میںناکام ہوجاؤ گے۔ اسی امتحان کی غرض سے تم کودنیا میں کچھ اختیارات دیے گئے ہیں‘ دنیا کی بہت سی چیزیں تمہارے قبضہ قدرت میں دی گئی ہیں اور تم کو عمر بھر کی مہلت دی گئی ہے۔

اس کے بعد پیغمبر ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ دنیوی زندگی چونکہ امتحان کی مہلت ہے۔ لہٰذا یہاں نہ حساب نہ جزا سزا۔ یہاں جو کچھ دیا جاتا ہے لازم نہیں کہ وہ کسی عمل نیک کا انعام ہی ہو۔ وہ اس کی علامت نہیں ہے کہ اللہ تم سے خوش ہے یا جو کچھ تم کررہے ہو وہ درست ہے۔ بلکہ دراصل وہ محض امتحان کا سامان ہے‘ مال‘ دولت‘ اولاد‘ خدامِ حکومت‘ اسباب زندگی‘ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو تم کو امتحان کی غرض سے دی جاتی ہیں تاکہ تم ان پر کام کرکے دکھاؤ اور اپنی اچھی یا بری قابلیتوں کا اظہار کرو۔ اسی طرح جو تکلیفیں‘ نقصانات‘ مصائب وغیرہ آتے ہیں۔ وہ بھی لازماً کسی عمل بدکی سزا نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بعض قانون فطرت کے تحت آپ سے آپ ظاہر ہونے والے نتائج ہیں، بعض آزمائش کے ذیل میں آتے ہیں۳؎۔ اور بعض اس وجہ سے پیش آتے ہیں کہ حقیقت کے خلاف رائے قائم کرکے جب تم ایک رویہ اختیار کرتے ہو تو لامحالہ تم کو چوٹ لگتی ہے۔ بہرحال یہ دنیا دارالجزا نہیں ہے بلکہ دارالامتحان ہے۔ یہاں جو کچھ نتائج ظاہر ہوتے ہیں وہ کسی طریقہ یا کسی عمل کی صحیح یا غلط‘ نیک یا بد‘ قابل ترک یا قابلِ اخذ ہونے کا معیار نہیں بن سکتے۔ اصلی معیار آخرت کے نتائج ہیں۔ مہلت کی زندگی ختم ہونے کے بعد ایک دوسری زندگی ہے جس میں تمہارے پورے کارنامے کو جانچ کا فیصلہ کیا جائے گا‘ کہ تم امتحان میں کامیاب ہوئے یا ناکام۔ اور وہاں جس چیز پر کامیابی و ناکامی کا انحصار ہے وہ یہ ہے کہ اولاً تم نے اپنی قوتِ نظر و استدلال کے صحیح استعمال سے اللہ تعالیٰ کے حاکم حقیقی ہونے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی تعلیم و ہدایت کے منجانب اللہ ہونے کو پہچانا یا نہیں اور ثانیاً اس حقیقت سے واقف ہونے کے بعد آزادی انتخاب رکھنے کے باوجود‘ تم نے اپنی رضا و رغبت سے اللہ کی حاکمیت اور اس کے حکم شرعی کے سامنے سرتسلیم خم کیا یا نہیں۔

نظریہ اسلامی کی تنقید:

دنیا اور انسان کے متعلق یہ نظریہ جو پیغمبروں نے پیش کیا ہے‘ ایک مکمل نظریہ ہے۔ اس کے تمام اجزا میں ایک منطقی ربط ہے کوئی جز دوسرے جز سے متناقص نہیں ہے۔ اس سے تمام واقعاتِ عالم کی پوری توجیہہ اور آثار کائنات کی پوری تعبیر ملتی ہے۔ کوئی ایک چیز بھی مشاہدہ یا تجربہ میں ایسی نہیں آتی جس کی توجیہہ اس نظریہ سے نہ کی جاسکتی ہو۔ لہٰذا یہ ایک علمی نظریہ (Scientific Theory) ہے۔ ’’علمی نظریہ‘‘ کی جو تعریف بھی کی جائے وہ اس پر صادق آتی ہے۔

پھر کوئی مشاہدہ یا تجربہ آج تک ایسا نہیں ہوا جس سے یہ نظریہ ٹوٹ جاتا ہو۔ لہٰذا یہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ ٹوٹے ہوئے نظریات میں اس کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔

پھر نظامِ عالم کا جو مشاہدہ ہم کرتے ہیں اس سے یہ نظریہ نہایت اغلب (Most Probable) نظر آتا ہے۔ کائنات میں جو زبردست تنظیم پائی جاتی ہے اس کو دیکھ کر یہ کہنا زیادہ قرین دانش ہے کہ اس کا کوئی ناظم ہے‘ بہ نسبت اس کے کہ کوئی ناظم نہیں ہے۔ اسی طرح اس تنظیم کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا زیادہ معقول ہے کہ یہ مرکزی نظام ہے اور ایک ہی مختار کُل اس کا ناظم ہے‘ بہ نسبت اس کے کہ یہ لامرکزی نظام ہے اور بہت سے ناظموں کے ماتحت چل رہا ہے۔ اسی طرح جو حکمت کی شان اس کائنات کے نظام میں علانیہ محسوس ہوتی ہے اسے دیکھ کر یہ رائے قائم کرنا زیادہ قریب از عقل ہے کہ یہ حکیمانہ اور بامقصد نظام ہے‘ بہ نسبت اس کے کہ بے مقصد ہے اور محض بچے کا کھیل ہے۔

پھر جب ہم اس حیثیت سے غور کرتے ہیںکہ اگر واقعی یہ نظام کائنات ایک سلطنت ہے اور انسان اس نظام کا ایک جز ہے تو یہ بات ہم کو سراسر معقول معلوم ہوتی ہے کہ اس نظام میں انسان کی خودمختاری وغیر ذمہ داری کے لیے کوئی جگہ نہ ہونی چاہیے۔ اس لحاظ سے یہ ہم کو نہایت معقول (Most Reasonable) نظریہ معلوم ہوتا ہے۔

پھر جب عملی نقطہ نظر سے ہم دیکھتے ہیں تو یہ بالکل ایک قابل عمل نظریہ ہے۔ زندگی کی ایک پوری اسکیم اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ اس نظریہ پر بنتی ہے۔ فلسفہ اور اخلاق کے لیے‘ علوم و فنون کے لیے‘ صلح و جنگ اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے‘ غرض زندگی کے ہر پہلو اور ہر ضرورت کے لیے یہ ایک مستقل بنیاد فراہم کرتا ہے اور کسی شعبہ زندگی میں بھی انسان کو اپنا رویہ متعین کرنے کے لیے اس نظریہ سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

اب ہمیں صرف یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے کہ اس نظریئے سے دنیا کی زندگی میں کس قسم کا رویہ بنتا ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں؟

انفرادی زندگی میں یہ نظریہ دوسرے جاہلی نظریات کے برعکس ایک نہایت ذمہ دارانہ اور نہایت منضبط رویہ (Discipline) پیدا کرتا ہے۔ اس نظریہ پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اپنے جسم اور اس کی طاقتوں اور دنیا اور اس کی کسی چیز کو بھی اپنی مِلک سمجھ کر خودمختارانہ استعمال نہ کرے بلکہ خدا کی مِلک سمجھ کر صرف اس کے قانون کی پابندی میں استعمال کرے۔ ہر چیز کو جو اسے حاصل ہے خدا کی امانت سمجھے اور یہ سمجھتے ہوئے اس میں تصرف کرے کہ مجھے اس امانت کا پورا حساب دینا ہے اور حساب بھی اس کو دینا ہے جس کی نظر سے میرا کوئی فعل بلکہ کوئی دل میں چھپا ہوا ارادہ تک پوشیدہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص ہر حال میں ایک ضابطہ کا پابند ہوگا۔ وہ خواہشات کی بندگی میں کبھی شتر بے مہار نہیں بن سکتا۔ وہ ظالم اور خائن نہیں ہوسکتا۔ اس کی سیرت پر کامل اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ وہ ضابطہ کی پابندی کے لیے کسی خارجی دباؤ کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس کے اپنے نفس میں ایک زبردست اخلاقی انضباط پیدا ہوجاتا ہے جو اسے ان مواقع پر بھی راستی اور حق پر قائم رکھتا ہے جہاں اسے کسی دنیوی طاقت کی باز پرس کا خطرہ نہیں ہوتا یہ خدا کی خوف اور امانت کا احساس وہ چیز ہے جس سے بڑھ کر سوسائٹی کو قابل اعتماد افراد فراہم کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ تصور میں نہیں آسکتا۔

مزید براں یہ نظریہ آدمی کو نہ صرف سعی و جہد کا آدمی بناتا ہے‘ بلکہ اس کی سعی و جہد کو خود غرضی‘ نفس پرستی‘ یا قوم پرستی کے بجائے حق پرستی اور بلند تر اخلاقی مقاصد کی راہ پر لگادیتا ہے۔ جو شخص اپنے متعلق یہ رائے رکھتا ہو کہ میں دنیا میں بیکار نہیں آیا ہوں بلکہ خدا نے مجھے کام کرنے کے لیے یہاں بھیجا ہے‘ اور میری زندگی اپنے لیے یا اپنے دوسرے متعلقین کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کام کے لیے ہے جس میں خدا کی رضا ہو اور میں یونہی چھوڑا نہ جاؤں گا‘ بلکہ مجھ سے پورا حساب لیا جائیگا کہ میں نے اپنے وقت کا اور اپنی قوتوں کا کتنا اور کس طرح استعمال کیا‘ ایسے شخص سے زیادہ کوشش کرنے والا اور نتیجہ خیز اور صحیح کوشش کرنے والا آدمی اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا یہ نظریہ ایسے بہتر افراد پیدا کرتا ہے کہ ان سے بہتر انفرادی رویہ کا تصور کرنا مشکل ہے۔

اب اجتماعی پہلو میں دیکھیے:

سب سے پہلے تو یہ نظریہ انسانی اجتماع کی بنیاد بدل دیتا ہے۔ اس نظریہ کی رو سے تمام انسان خدا کی رعیت ہیں۔ رعیت ہونے کی حیثیت سے سب کے حقوق یکساں‘ سب کی حیثیت یکساں‘ اور سب کے لیے مواقع یکساں‘ کسی شخص‘ کسی خاندان‘ کسی طبقہ‘ کسی نسل کے لیے دوسرے انسانوں پر نہ کسی قسم کی برتری و فوقیت ہے‘ نہ امتیازی حقوق‘ اس طرح انسان پر انسان کی حاکمیت اور فضیلت کی جڑ کٹ جاتی ہے اور وہ تمام خرابیاں یک لخت دور ہو جاتی ہیں جو بادشاہی‘ جاگیرداری‘ نوابی (Aristocracy) برہمنیت و پاپائیت اور آمریت سے پیدا ہوتی ہیں۔

پھر یہ چیز قبیلے‘ قوم‘ نسل‘ وطن اور رنگ کے تعصبات کا بھی خاتمہ کردیتی ہے۔ جن کی بدولت دنیا میں سب سے زیادہ خون ریزیاں ہوئی ہیں۔ اس نظریہ کی رو سے تمام روئے زمین خدا کی مِلک ہے۔ تمام انسان آدم کی اولاد اور خدا کے بندے ہیں اور فضیلت کی بنیاد نسل و نسب‘ مال و دولت‘ یا رنگ کی سپیدہ و سرخی پر نہیں بلکہ اخلاق کی پاکیزگی اور خدا کے خوف پر ہے۔ جو سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا اور اصلاح و تقویٰ پر عمل کرنے والا ہے وہی سب سے افضل ہے۔

اسی طرح انسان اور انسان کے درمیان اجتماعی ربط و تعلق یا فرق و امتیاز کی بنا پر بھی اس نظریہ میں کلیتہً تبدیلی کردی گئی ہے۔ انسان نے اپنی ایجاد سے جن چیزوں کو اجتماع و افتراق کی بنا ٹھہرایا ہے۔ وہ انسانیت کو بے شمار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں اور ان حصوں کے درمیان ناقابل عبور دیواریں کھڑی کردیتی ہیں۔ کیونکہ نسل‘ یا وطن‘ قومیت یارنگ وہ چیزیں نہیں ہیں جن کو آدمی تبدیل کرسکتا ہو اور ایک گروہ میں سے دوسرے گروہ میں جاسکتا ہو۔ برعکس اس کے یہ نظریہ انسان اور انسان کے درمیان اجتماع و افتراق کی بنا خدا کی بندگی اور اس کے قانون کی پیروی پر رکھتا ہے۔ جو لوگ مخلوقات کی بندگی چھوڑ کر خدا کی بندگی اختیار کرلیں اور خدا کے قانون کو اپنی زندگی کا واحد قانون تسلیم کرلیں وہ سب ایک جماعت ہیں اور جو ایسا نہ کریں وہ دوسری جماعت۔ اس طرح تمام اختلافات مٹ کر صرف ایک اختلاف باقی رہ جاتا ہے اور وہ اختلاف بھی قابل عبور ہے۔ کیونکہ ہر وقت ایک شخص کے لیے ممکن ہے کہ اپنا عقیدہ اور طرز زندگی بدل دے اور ایک جماعت سے دوسری جماعت میں چلا جائے۔ اس طرح اگر دنیا میں کوئی عالمگیر بین الاقوامی برادری بننی ممکن ہے تو وہ اسی نظریئے پر بن سکتی ہے۔ دوسرے تمام نظریات انسانیت کو پھاڑنے والے ہیں‘ جمع کرنے والے نہیں۔

ان تمام اصلاحات کے بعد جو سوسائٹی اس نظریہ پر بنتی ہے اس کی ذہنیت‘ اسپرٹ‘ اور اجتماعی تعمیر (Social Structure) بالکل بدلی ہوئی ہوتی ہے۔ اس میں اسٹیٹ انسان کی حاکمیت پر نہیں بلکہ خدا کی حاکمیت پر بنتی ہے۱؎۔ حکومت خدا کی ہوتی ہے‘ قانون خدا کا ہوتا ہے۔ انسان صرف خدا کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ یہ چیز اول تو ان ساری خرابیوں کو دور کردیتی ہے جو انسان پر انسان کی حکومت اور انسان کی قانون سازی سے پیدا ہوتی ہیں۔ پھر ایک عظیم الشان فرق جو اس نظریہ پر اسٹیٹ بننے سے واقع ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ اسٹیٹ کے پورے نظام میں عبادت اور تقویٰ کی اسپرٹ پھیل جاتی ہے۔ راعی اور رعیت دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم خدا کی حکومت میں ہیں اور ہمارا معاملہ براہ راست اس خدا سے ہے جو عالم الغیب والشہادہ ہے۔ ٹیکس دینے والا یہ سمجھ کر ٹیکس دیتا ہے کہ وہ خدا کو ٹیکس دے رہا ہے اور ٹیکس لینے والے اور اس ٹیکس کو خرچ کرنے والے یہ سمجھتے ہوئے کام کرتے ہیں کہ یہ مال خدا کا مال ہے اور ہم امین کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ ایک سپاہی سے لے کر ایک جج اور گورنر تک ہر کارندہ حکومت اپنی ڈیوٹی اسی ذہنیت کے ساتھ انجام دیتا ہے جس ذہنیت کے ساتھ وہ نماز پڑھتا ہے۔ دونوں کام اس کے لیے یکساں عبادت ہیں اور دونوں میں وہی ایک تقویٰ اور خشیت کی روح درکار ہے۔ باشندے اپنے اندر سے جن لوگوں کو خدا کی نیابت کا کام انجام دینے کے لیے چنتے ہیں ان میں سب سے پہلے جو صفت تلاش کی جاتی ہے وہ خوف خدا اور امانت و صداقت کی صفت ہے۔ اس طرح سطح پر وہ لوگ ابھر کر آتے ہیں اور اختیارات ان کے ہاتھوں میں دیے جاتے ہیں جو سوسائٹی میں سب سے بہتر اخلاق کے حامل ہوتے ہیں۔

تمدن و معاشرت میں بھی یہ نظریہ تقویٰ اور طہارتِ اخلاق کی یہی اسپرٹ پھیلادیتا ہے۔ اس میں نفس پرستی کے بجائے خدا پرستی ہوتی ہے‘ اور خدا کا قانون دونوں کے تعلقات کو منضبط کرتا ہے۔ یہ قانون چونکہ اس نے بنایا ہے جو تمام نفسانی خواہشات اور ذاتی اغراض سے پاک ہے‘ اور علیم و حکیم بھی ہے اس لیے اس میں فتنے کا ہر دروازہ اور ظلم کا ہر راستہ بند کیا گیا ہے اور انسانی فطرت کے ہر پہلو اور اس کی ہر ضرورت کی رعایت کی گئی ہے۔

یہاں اتنا موقع نہیں کہ میں اس پوری اجتماعی عمارت کا نقشہ پیش کروں جو اس نظریہ پر مبنی ہے۔ مگر جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ پیغمبروں نے جو نظریہ کائنات و انسان پیش کیا ہے وہ کس قسم کا رویہ پیدا کرتا ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں اور کیا ہوسکتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی نہیں کہ یہ محض کاغذ پر ایک خیالی نقشہ ہو۔ بلکہ تاریخ میں اس نظریہ پر ایک اجتماعی نظام اور ایک اسٹیٹ بناکر دکھایا جاچکا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ جیسے افراد اس نظریہ پر تیار کئے گئے تھے نہ اس سے بہتر افراد کبھی روئے زمین پر پائے گئے اور نہ اس اسٹیٹ سے بڑھ کر کوئی اسٹیٹ انسان کے لیے رحمت ثابت ہوا۔ اس کے افراد میں اپنی اخلاقی ذمہ داری کا احساس اتنا بڑھ گیا تھا کہ ایک صحرائی عورت کو زنا سے حمل ہوجاتا ہے وہ جانتی ہے کہ میرے اس جرم کی سزا سنگ ساری جیسی ہولناک سزا ہے‘ مگر وہ خود چل کر آتی ہے اور درخواست کرتی ہے کہ اس پر سزا نافذ کی جائے۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ وضع حمل کے بعد آئیو اور بغیر کسی مچلکہ و ضمانت کے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ وضع حمل کے بعد وہ پھر صحرا سے آتی ہے اور سزا دیے جانے کی درخواست کرتی ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ بچہ کو دودھ پلا اور جب دودھ پلانے کی مدت ختم ہوجائے تب آئیو۔ پھر وہ صحرا کی طرف واپس چلی جاتی ہے اور کوئی پولیس کی نگرانی اس پر نہیں ہوتی۔ رضاعت کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ پھر آکر التجا کرتی ہے کہ اب اسے سزا دے کر اس گناہ سے پاک کردیا جائے جو اس سے سرزد ہوچکا ہے۔ چنانچہ اسے سنگسار کیا جاتا ہے اور جب وہ مرجاتی ہے تو اس کے لیے دعائے رحمت کی جاتی ہے اور جب ایک شخص کی زبان سے اس کے حق میں اتفاقاً یہ کلمہ نکل جاتا ہے کہ کیسی بے حیا عورت تھی تو جواب میں فرمایا جاتا ہے کہ ’’خدا کی قسم! اس نے ایسی توبہ کی تھی کہ اگر ناجائز محصول لینے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو بخش دیا جاتا۔‘‘ یہ تو اس سوسائٹی کے افراد کا حال تھا اور اس اسٹیٹ کا حال یہ تھا کہ جس حکومت کی آمدنی کروڑوں روپے تک پہنچی ہوئی تھی اور جس کے خزانے ایران و شام و مصر کی دولت سے معمور ہورہے تھے‘ اس کا صدر صرف ڈیڑھ سو روپیہ مہینہ تنخواہ لیتا تھا اور اس کے شہریوں میں ڈھونڈے سے بھی بمشکل کوئی ایسا شخص ملتا تھا جو خیرات لینے کا مستحق ہو۔

اس تجربے کے بعد بھی اگر کسی شخص کو یہ اطمینان حاصل نہ ہو کہ انبیاؑ نے نظامِ کائنات کی حقیقت اور اس میں انسان کی حیثیت کے متعلق جو نظریہ پیش کیا ہے وہ حق ہے تو ایسے شخص کے اطمینان کے لیے کوئی دوسری صورت ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ خدا اور فرشتوں اور آخرت کی زندگی کا براہ راست عینی مشاہدہ تو اسے بہرحال حاصل نہیں ہوسکتا۔ جہاں مشاہدہ ممکن نہ ہو وہاں تجربے سے بڑھ کر صحت کا کوئی دوسرا معیار نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک طبیب بیمار کے اندر مشاہدہ کرکے یہ نہیں دیکھ سکتا کہ فی الواقع سسٹم میں کیاخرابی پیدا ہوگئی ہے تو مختلف دوائیں دے کر دیکھتا ہے اور جو دوا اس اندھیری کوٹھڑی میں ٹھیک نشانہ پر جاکر بیٹھتی ہے۔ اس کا مرض کو دور کردینا ہی اس بات پر قطعی دلیل ہوتا ہے کہ سسٹم میں فی الواقع جو خرابی تھی یہ دوا اس کے عین مطابق تھی۔ اسی طرح جب انسانی زندگی کی کل کسی دوسرے نظریہ سے درست نہیں ہوتی اور صرف انبیا کے نظریہ ہی سے درست ہوتی ہے تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نظریہ حقیقت کے مطابق ہے۔ فی الواقع یہ کائنات اللہ کی سلطنت ہے اور واقعی اس زندگی کے بعد ایک زندگی ہے جس میں انسان کو اپنے کارنامہ حیات دنیوی کا حساب دینا ہے۔


اس سلسلہ میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ یہ عالم جس میں ہم اس وقت ہیں‘ دراصل عالمِ طبیعی ہے نہ کہ عالمِ اخلاقی۔ جن قوانین پر کائنات کا موجودہ نظام چل رہا ہے وہ اخلاقی قوانین نہیں ہیں بلکہ طبیعی قوانین ہیں۔ اس لیے موجودہ نظام کائنات میں اعمال کے اخلاقی نتائج پوری طرح مترتب نہیں ہوسکتے۔ وہ اگر مترتب ہوسکتے ہیں تو صرف اسی حد تک جس حد تک کہ قوانین طبیعی ان کو مترتب ہونے کا موقع دیں۔ ورنہ جہاں قوانین طبیعی ان کے ظہور کے لیے سازگار نہ ہوں وہاں ان کا ظاہر ہونا محال ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی کو قتل کردے تو اس فعل کے اخلاقی نتیجہ کا مترتب ہونا موقوف ہے اس امر پر کہ قوانین طبیعی اس کا سراغ لگنے اور اس کے اوپر جرم ثابت ہونے اور اس پر اخلاقی سزا کے نافذ ہونے میں مددگار ہوں۔ اگر وہ مددگار نہ ہوں تو کوئی اخلاقی نتیجہ سرے سے مترتب ہوگا ہی نہیں اور اگر وہ سازگاری کر بھی لیں تب بھی اس فعل کے پورے اخلاقی نتائج مترتب نہ ہوسکیں گے‘ کیونکہ مقتول کے عوض قاتل کا محض قتل کردیا جانا اس فعل کا پورا اخلاقی نتیجہ نہیں ہے جس کا اس نے ارتکاب کیا تھا۔ اسی لیے یہ دنیا دار الجزا نہیں ہے اور نہیں ہوسکتی۔ دارالجزا ہونے کے لیے ایک ایسا نظام عالم درکار ہے جس میں موجودہ نظامِ عالم کے برعکس حکمراں قوانین اخلاقی ہوں اور قوانین طبیعی محض ان کے خادم کی حیثیت رکھتے ہوں۔

مثلاً زنا کرنے والے کا بیماری میں مبتلا ہونا‘ کہ یہ اس گناہ کی اخلاقی سزا نہیں ہے بلکہ اس کا طبیعی نتیجہ ہے۔ اگر وہ علاج کرنے میں کامیاب ہوجائے تو بیماری سے بچ جائے گا مگر اخلاقی سزا سے نہ بچے گا۔ اگر توبہ کرے تو اخلاقی سزا سے بچ جائے گا مگر بیماری دور نہ ہوگی۔

مثلاً کسی شخص کا افلاس میں مبتلا ہونا اس کے حق میں اس امر کی آزمائش ہے کہ وہ اپنی حاجات پوری کرنے کے لیے ناجائز ذرائع استعمال کرتا ہے یا جائز وسائل ہی سے کام لینے پر ثابت قدم رہتا ہے‘ مصائب کے ہجوم میں حق پرستی پر قائم رہتا ہے یا مضطرب ہوکر باطل کے سامنے سرجھکادیتا ہے۔

یعنی جب انسان اس دنیا کو بے خدا اور اپنے آپ کو خودمختار سمجھ کر کام کرتا ہے تو چونکہ فی الواقع نہ دنیا بے خدا ہے اور نہ انسان خودمختار ہے‘ اس لیے امر واقعی کے خلاف عمل کرنے کی وجہ سے وہ لامحالہ چوٹ کھاتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے آگ کو کھلونا سمجھ کر آپ ہاتھ میں پکڑلیں تو ہاتھ جل جائے گا کیونکہ آپ نے امر واقعی کے خلاف رویہ اختیار کیاstrong

کسی زمانے کے علمی نظریات کا اس کے خلاف ہونا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ یہ نظریہ ٹوٹ گیا ہے۔ ایک علمی نظریہ کو صرف حقائق (Facts) توڑ سکتے ہیں نہ کہ نظریات۔ لہٰذا جب تک یہ نہ بتایا جائے کہ انبیاؑ کے پیش کئے ہوئے اس تصور ِکائنات و انسان کو کسی ثابت شدہ حقیقت نے غلط ثابت کردیا ہے‘ اس کو ٹوٹے ہوئے نظریات میں شمار کرنا قطعاً ایک غیر علمی اور متعصبانہ اِدّعأ ہے۔