مسلمان ہونے کے لیے علم کی ضرورت

اللہ کا سب سے بڑا احسان

برادرانِ اسلام! ہر مسلمان سچے دل سے یہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں خدا کی سب سے بڑی نعمت اسلام ہے۔ ہر مسلمان اس بات پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اس کو شامل کیا اور اسلام کی نعمت اس کو عطا کی۔ خود اللہ تعالیٰ بھی اس کو اپنے بندوں پر اپنا سب سے بڑا انعام قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا:

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاط (المائدہ:۳)

’’آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے دینِ اسلام کو پسند کرلیا کہ تمہارا دین، اسلام ہو‘‘۔

احسان شناسی کا تقاضا

یہ احسان جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرمایا ہے اس کا حق ادا کرنا آپ پر فرض ہے۔ کیوں کہ جو شخص کسی کے احسان کا حق ادا نہیں کرتا وہ احسان فراموش ہوتا ہے، اور سب سے بدتر احسان فراموشی یہ ہے کہ انسان اپنے خدا کے احسان کا حق بھول جائے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ خدا کے احسان کا حق کس طرح ادا کیا جائے؟ میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ جب خدا نے آپ کو امتِ محمدیہؐ میں شامل کیا ہے تو اس کے اس احسان کا صحیح شکر، یہ ہے کہ آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے پیرو بنیں۔ جب خدا نے آپ کو مسلمانوں کی ملّت میں شامل کیا ہے تو اس کی اس مہربانی کا حق آپ اسی طرح ادا کرسکتے ہیں کہ آپ پورے مسلمان بنیں۔ اس کے سوا خدا کے اس احسانِ عظیم کا حق آپ اور کسی طرح ادا نہیں کرسکتے۔ اور یہ حق اگر آپ نے ادا نہ کیا تو جتنا بڑا خدا کا احسان ہے اتنا ہی بڑا اس کی احسان فراموشی کا وبال بھی ہوگا۔ خدا ہم سب کو اس وبال سے بچائے۔ آمین۔

مسلمان بننے کے لیے پہلا قدم

اس کے بعد آپ دوسرا سوال یہ کریں گے کہ آدمی پورا مسلمان کس طرح بن سکتا ہے؟ اس کا جواب بہت تفصیل چاہتا ہے اور آئندہ جمعہ کے خطبے میں اس کا ایک ایک جزو آپ کے سامنے پوری تشریح کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔ لیکن آج کے خطبہ میں، مَیں آپ کے سامنے وہ چیز بیان کرتا ہوں جو مسلمان بننے کے لیے سب سے مقدم ہے، جس کو اس راستہ کا سب سے پہلا قدم سمجھنا چاہیے۔

کیا مسلمان نسل کا نام ہے؟

ذرا دماغ پر زور ڈال کر سوچیے کہ آپ مسلمان کا لفظ جو بولتے ہیں اس کا مطلب کیا ہے؟ کیا انسان ماں کے پیٹ سے ’’اسلام‘‘ ساتھ لے کر آتا ہے؟ کیا ایک شخص صرف اس بنا پر مسلمان ہوتا ہے کہ وہ مسلمان کابیٹا اور مسلمان کا پوتا ہے؟ کیا مسلمان بھی اسی طرح مسلمان پیدا ہوتا ہے جس طرح ایک برہمن کا بچّہ برہمن پیدا ہوتا ہے، ایک راجپوت کا بیٹا راجپوت، اور ایک شودر کا لڑکا شودر؟ کیا مسلمان کسی نسل یا ذات برادری کا نام ہے کہ جس طرح ایک انگریز کسی انگریز کے گھر میں پیدا ہونے کی وجہ سے انگریز ہوتا ہے، اور ایک جاٹ، جاٹ قوم میں پیدا ہونے کی وجہ سے جاٹ ہوتا ہے، اسی طرح ایک مسلمان، صرف اس وجہ سے مسلمان ہو کہ وہ مسلمان نامی قوم میںپیدا ہوا ہے؟ یہ سوالات جو میں آپ سے پوچھ رہا ہوں ان کا آپ کیا جواب دیں گے؟ آپ یہی کہیں گے نا کہ نہیں صاحب! مسلمان اس کو نہیں کہتے، مسلمان نسل کی وجہ سے مسلمان نہیں ہوتا بلکہ اسلام لانے سے مسلمان بنتا ہے، اور اگر وہ اسلام کو چھوڑ دے تو مسلمان نہیں رہتا۔ ایک شخص خواہ برہمن ہو یا راجپوت، انگریز ہو یا جاٹ، پنجابی ہو یا حبشی، جب اس نے اسلام قبول کیا تومسلمانوں میں شامل ہوجائے گا اور ایک دوسرا شخص جو مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا ہے، اگر وہ اسلام کی پیروی چھوڑ دے تو وہ مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہوجائے گا، چاہے وہ سیّد کا بیٹا ہو یا پٹھان کا۔

کیوں حضرات آپ میرے سوالات کا یہی جواب دیں گے نا؟ اچھا تو اب خود آپ ہی کے جواب سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ خدا کی یہ سب سے بڑی نعمت یعنی مسلمان ہونے کی نعمت جو آپ کو حاصل ہے، یہ کوئی نسلی چیز نہیں ہے کہ ماںباپ سے وراثت میں یہ خود بخود آپ کو حاصل ہوجائے اور خود بخود تمام عمر آپ کے ساتھ لگی رہے، خواہ آپ اس کی پروا کریں یا نہ کریں۔ بلکہ یہ ایسی نعمت ہے کہ اس کے حاصل کرنے کے لیے خود آپ کی کوشش شرط ہے۔ اگر آپ کوشش کرکے اسے حاصل کریں تو آپ کو مل سکتی ہے اور اگر آپ اس کی پروا نہ کریں تو یہ آپ سے چِھن بھی سکتی ہے، معاذ اللہ۔

اسلام لانے کا مطلب

اب آگے بڑھیے۔ آپ کہتے ہیں کہ اسلام لانے سے آدمی مسلمان بنتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسلام لانے کا مطلب کیا ہے؟ کیا اسلام لانے کا یہ مطلب ہے کہ جو آدمی بس زبان سے کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں یا مسلمان بن گیا ہوں، وہ مسلمان ہے؟ یا اسلام لانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک برہمن پجاری بغیر سمجھے بوجھے سنسکرت کے چند منتر پڑھتا ہے اسی طرح ایک شخص عربی کے چند فقرے بغیر سمجھے بوجھے زبان سے ادا کردے اور بس وہ مسلمان ہوگیا؟ آپ خود بتایئے کہ اس سوال کا آپ کیا جواب دیں گے؟ آپ یہی کہیں گے نا کہ اسلام لانے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعلیم دی ہے اس کو آدمی جان کر، سمجھ کر، دل سے قبول کرے، اور اس کے مطابق عمل کرے۔ جو ایسا کرے وہ مسلمان ہے اور جو ایسا نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے۔

پہلی ضرورت۔۔۔ علم

یہ جواب جو آپ دیں گے، اس سے خود بخود یہ بات کھل گئی کہ اسلام پہلے علم کا نام ہے اور علم کے بعد عمل کا نام ہے۔ ایک شخص علم کے بغیر برہمن ہوسکتا ہے، کیوں کہ وہ برہمن پیدا ہوا ہے اور برہمن ہی رہے گا۔ ایک شخص علم کے بغیر جاٹ ہوسکتا ہے، کیوںکہ وہ جاٹ پیدا ہوا ہے اور جاٹ ہی رہے گا۔ مگر ایک شخص علم کے بغیر مسلمان نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ مسلمان پیدائش سے مسلمان نہیںہوا کرتا بلکہ علم سے ہوتا ہے۔ جب تک اس کو یہ علم نہ ہو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلّم کی تعلیم کیا ہے، وہ اس پر ایمان کیسے لاسکتا ہے اور اس کے مطابق عمل کیسے کرسکتاہے؟ اور جب وہ جان کر اورسمجھ کر ایمان ہی نہ لایا تو مسلمان کیسے ہوسکتا ہے؟ پس معلوم ہوا کہ جہالت کے ساتھ مسلمان ہونا اور مسلمان رہنا غیر ممکن ہے۔ ہر شخص جو مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا ہے، جس کا نام مسلمانوں کا سا ہے، جو مسلمانوں کے سے کپڑے پہنتا ہے اور جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہے، بلکہ مسلمان درحقیقت صرف وہ شخص ہے جو اسلام کو جانتا ہو اور پھر جان بوجھ کر اس کومانتا ہو۔ ایک کافر اور ایک مسلمان میں اصلی فرق نام کا نہیں کہ وہ رام پرشاد ہے اور یہ عبداللہ ہے، اس لیے وہ کافر ہے اور یہ مسلمان۔ اسی طرح ایک کافر اور ایک مسلمان میں اصلی فرق لباس کا بھی نہیں ہے کہ وہ دھوتی باندھتا ہے اور یہ پاجامہ پہنتا ہے، اس لیے وہ کافر ہے اور یہ مسلمان، بلکہ اصلی فرق ان دونوں کے درمیان علم کا ہے۔ وہ کافر اس لیے ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ خداوندِ عالم کا اس سے اور اس کا خداوندِ عالم سے کیا تعلّق ہے، اور خالق کی مرضی کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرنے کا سیدھا راستہ کیا ہے۔ اگر یہی حال ایک مسلمان کے بچّے کا بھی ہو تو بتائو کہ اس میں اور ایک کافر میں کس چیز کی بنا پر فرق کرتے ہو، اور کیوں یہ کہتے ہو کہ وہ تو کافر ہے اور یہ مسلمان ہے۔

حضرات! یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں اس کو ذرا کان لگا کر سنیے اور ٹھنڈے دل سے اس پر غور کیجیے۔ آپ کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ خدا کی یہ سب سے بڑی نعمت جس پر آپ شکر اور احسان مندی کا اظہار کرتے ہیں، اس کا حاصل ہونا اور حاصل نہ ہونا، دونوں باتیں علم پر موقوف ہیں۔ اگر علم نہ ہو تو یہ نعمت آدمی کو حاصل ہی نہیں ہوسکتی۔ اور اگر تھوڑی بہت حاصل ہو بھی جائے تو جہالت کی بنا پر ہروقت یہ خطرہ ہے کہ یہ عظیم الشان نعمت اس کے ہاتھ سے چلی جائے گی۔ محض نادانی کی بنا پر وہ اپنے نزدیک یہ سمجھتا رہے گا کہ میں ابھی تک مسلمان ہوں، حالانکہ درحقیقت وہ مسلمان نہ ہوگا۔ جو شخص یہ جانتا ہی نہ ہو کہ اسلام اور کفر میں کیا فرق ہے، اور اسلام اور شرک میں کیا امتیاز ہے، اس کی مثال تو بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص اندھیرے میں ایک پگڈنڈی پر چل رہا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ سیدھی لکیر پر چلتے چلتے خودبخود اس کے قدم کسی دوسرے راستے کی طرف مڑ جائیں اور اس کو خبر بھی نہ ہو کہ میں سیدھی راہ سے ہٹ گیا ہوں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ راستے میں کوئی دجّال کھڑا ہوا مل جائے اور اس سے کہے کہ ارے میاں، تم اندھیرے میں راستہ بھول گئے، آئو میں تمہیں منزل تک پہنچادوں۔ بے چارہ اندھیرے کا مسافر خود اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا کہ سیدھا راستہ کون سا ہے۔ اس لیے نادانی کے ساتھ اپنا ہاتھ اس دجّال کے ہاتھ میں دے دے گا اور وہ اس کو بھٹکا کر کہیں سے کہیں لے جائے گا۔ یہ خطرات اس شخص کو اسی لیے تو پیش آتے ہیں کہ اس کے پاس خود کوئی روشنی نہیں ہے اور وہ خود اپنے راستے کے نشانات کو نہیں دیکھ سکتا۔ اگر اس کے پاس روشنی موجود ہو تو ظاہر ہے کہ نہ وہ راستہ بھولے گا اور نہ کوئی دوسرا اس کو بھٹکا سکے گا۔ بس اسی پر قیاس کر لیجیے کہ مسلمان کے لیے سب سے بڑا خطرہ اگر کوئی ہے تو یہی کہ وہ خود اسلام کی تعلیم سے ناواقف ہو، خود یہ نہ جانتا ہو کہ قرآن کیا سکھاتاہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہدایت دے گئے ہیں۔ اس جہالت کی وجہ سے وہ خود بھی بھٹک سکتا ہے اور دوسرے دجّال بھی اس کو بھٹکا سکتے ہیں، لیکن اگراس کے پاس علم کی روشنی ہو تو وہ زندگی کے ہر قدم پر اسلام کے سیدھے راستے کودیکھ سکے گا، ہرقدم پر کفر اور شرک اور گمراہی اورفسق وفجور کے جو ٹیڑھے راستے بیچ میں آئیں گے ان کو پہچان کر ان سے بچ سکے گا اور جو کوئی راستے میں اس کو بہکانے والا ملے گا تو اس کی دوچار باتیں ہی سن کر وہ خود سمجھ جائے گا کہ یہ بہکانے والا آدمی ہے، اس کی پیروی نہ کرنی چاہیے۔

علم کی اہمیت

بھائیو! یہ علم جس کی ضرورت میں آپ سے بیان کررہا ہوں، اس پر تمہارے اور تمہاری اولاد کے مسلمان ہونے اور مسلمان رہنے کا انحصار ہے۔ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے کہ اس سے بے پروائی کی جائے۔ تم اپنی کھیتی باڑی کے کام میں غفلت نہیں کرتے، اپنی زراعت کوپانی دینے اور اپنی فصلوں کی حفاظت کرنے میں غفلت نہیں کرتے، اپنے مویشیوں کو چارہ دینے میں غفلت نہیں کرتے۔ اپنے پیشے کے کاموں میں غفلت نہیں کرتے، محض اس لیے کہ اگر غفلت کروگے تو بھوکے مر جائو گے اور جان جیسی عزیز چیز ضائع ہوجائے گی۔ پھر مجھے بتائو کہ اس علم کے حاصل کرنے میں کیوں غفلت کرتے ہو جس پرتمہارے مسلمان بننے اور مسلمان رہنے کا دارومدار ہے؟ کیا اس میں یہ خطرہ نہیں کہ ایمان جیسی عزیز چیز ضائع ہوجائے گی؟ کیا ایمان، جان سے زیادہ عزیز چیز نہیں ہے؟ تم جان کی حفاظت کرنے والی چیزوں کے لیے جتنا وقت اور جتنی محنت صرف کرتے ہوـ، کیا اس وقت اور محنت کا دسواں حصہ بھی ایمان کی حفاظت کرنے والی چیزوں کے لیے صَرف نہیں کرسکتے؟

میںتم سے یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے ہر شخص مولوی بنے، بڑی بڑی کتابیں پڑھے اور اپنی عمر کے دس بارہ سال پڑھنے میں صرف کردے۔ مسلمان بننے کے لیے اتنا پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے ہر شخص رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے صرف ایک گھنٹہ علمِ دین سیکھنے میں صَرف کرے۔ کم از کم اتنا علم ہر مسلمان بچے اور بوڑھے اور جوان کو حاصل ہونا چاہیے کہ قرآن جس مقصد کے لیے اور جو تعلیم لے کر آیا ہے اس کا لُبِّ لباب جان لے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کو مٹانے کے لیے اور اس کی جگہ جو چیز قائم کرنے کے لیے تشریف لائے تھے اس کو خوب پہچان لے، اور اس خاص طریقِ زندگی سے واقف ہوجائے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے مقرر کیا ہے۔ اتنے علم کے لیے کچھ بہت زیادہ وقت کی ضرورت نہیں ہے، اور اگر ایمان عزیز ہوتو اس کے لیے ایک گھنٹہ روز نکالنا کچھ مشکل نہیں۔

o…o…o

Leave a Comment

Your email address will not be published.

مودودیؒ لٹریچر